پنجاب میں پتنگ لوٹنے پر مکمل پابندی عائد، نئے قواعد جاری

پنجاب حکومت نے پتنگیں لوٹنے پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے بسنت کے ثقافتی رنگ کو برقرار رکھنے اور اسے محفوظ بنانے کے لیے سال 2027 کے لیے پتنگ بازی کے نئے قواعد و ضوابط جاری کر دیے ہیں تاکہ خوشیوں بھرے اس تہوار کو حادثات اور جانی نقصان سے محفوظ بنایا جا سکے جبکہ حکومت نے نئے جاری کردہ قوانین پر مکمل عملدرآمد کے لیے 30 دسمبر 2026 کی حتمی ڈیڈ لائن بھی مقرر کر دی ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق اب پتنگ بازی صرف محفوظ اور مضبوط چھتوں تک محدود ہوگی۔ ہر عمارت کی چھت پر کم از کم ساڑھے تین فٹ اونچی چار دیواری لازمی قرار دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی عمارت کے مالکان اور ایونٹ منتظمین کو ان قواعد پر عملدرآمد کا براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

نئے ضوابط میں سب سے نمایاں فیصلہ “پتنگیں لوٹنے” پر مکمل پابندی ہے۔ اکثر بسنت کے دوران نوجوان اور بچے پتنگ لوٹنے کے شوق میں خطرناک حرکات کرتے ہیں، جیسے چھتوں کے کناروں پر دوڑنا یا لٹکنا، جو کئی بار جان لیوا حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ حکومت نے ان تمام سرگرمیوں کو سختی سے ممنوع قرار دے دیا ہے۔

نئے بسنت قوانین میں والدین اور سرپرستوں کو بھی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ بچوں کی مسلسل نگرانی کریں اور انہیں بغیر نگرانی کے چھت کے کناروں کے قریب نہ جانےدیں۔ اس کے علاوہ چھتوں پر گنجائش سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے تاکہ ہجوم کی وجہ سے پیش آنے والے خطرات کو کم کیا جا سکے۔ماحول کو پرامن رکھنے کے لیے شور شرابے پر بھی قدغن لگائی گئی ہے۔ اونچی آواز میں موسیقی، ڈی جے سسٹمز اور دیگر شور پیدا کرنے والے آلات کے استعمال کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ہمسایوں کے لیے پریشانی کا باعث بننے والی کسی بھی سرگرمی کو قانونی جرم تصور کیا جائے گا۔

مزید برآں، ہر مقام پر فرسٹ ایڈ کِٹ کی دستیابی لازمی قرار دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔پتنگ بازی اور بسنت کے دوران کسی حادثے یا خلاف ورزی کی صورت میں عمارت کے مالک اور منتظمین کو مشترکہ طور پر ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں بسنت کی بحالی نے نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی، جس کے بعد اس تہوار کو مستقل بنیادوں پر محفوظ بنانے کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بسنت بارے نئے قواعدو ان ضوابط کا مقصد بسنت جیسے روایتی تہوار کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں بلکہ اسے ایک محفوظ اور ذمہ دارانہ سرگرمی میں تبدیل کرنا ہے۔ تاکہ ثقافت بھی زندہ رہے اور انسانی جانیں بھی محفوظ رہیں۔

Back to top button