غزہ میں امریکا کے زیر انتظام امدادی و نگرانی مرکز بند کرنے کی تیاری

غزہ میں امریکی فوج کے زیر انتظام قائم اس مرکز کو بند کرنے کی تیاری کی جارہی ہے جو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی نگرانی اور فلسطینیوں تک امدادی سامان کی فراہمی کےلیے بنایا گیا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق اس پیش رفت سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس مرکز کو بند کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔
غزہ مشن بند کرنے سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے ناقدین کا کہنا ہےکہ یہ مرکز اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
اسرائیل میں قائم سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر (سی ایم سی سی) کی ممکنہ بندش کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کےلیے ایک دھچکا قرار دیا جارہا ہے،جو پہلے ہی کمزور دکھائی دیتا ہے۔جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے حملے جاری رہےہیں جب کہ حماس مسلسل ہتھیار ڈالنے سے انکار کرتی رہی ہے۔
سفارت کاروں اور حکام کےمطابق یہ اقدام جنگ بندی کی نگرانی اور امدادی سرگرمیوں میں ہم آہنگی کےلیے امریکی کوششوں کو درپیش چیلنجز کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ایک جانب اسرائیل نے غزہ کے مزید علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا ہے،تو دوسری جانب حماس نے اپنے زیراثر علاقوں میں گرفت مضبوط کرلی ہے۔اس فیصلے سے واشنگٹن کے اتحادیوں میں بھی بےچینی بڑھ سکتی ہے،جنہیں صدر ٹرمپ نے سی ایم سی سی میں عملہ تعینات کرنے اور غزہ کی تعمیرنو کے منصوبوں کےلیے فنڈنگ کی ترغیب دی تھی۔
یورپ کو اپنی حفاظت کی ذمے داری خود اٹھانا ہوگی : جرمن وزیر دفاع
خیال رہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث یہ مشن پہلے ہی تعطل کا شکار ہو چکا تھا۔
سی ایم سی سی کے معاملات سے واقف سفارت کاروں کا کہنا ہےکہ یہ مرکز جلد بند کردیا جائے گا اور اس کی ذمہ داریاں امریکی کمان کے تحت ایک بین الاقوامی سکیورٹی مشن کو سونپی جائیں گی،جسے غزہ میں تعینات کیا جانا ہے۔
