افغانستان سے پاکستانی شہری آبادی پر ڈرون حملے،کشدگی بڑھ گئی

افغانستان کی جانب سے خیبرپختونخوا کے مختلف میں کئے جانے والے ڈرون حملوں کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک میں کشیدگی انتہاوں کو چھوتی دکھائی دیتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں افغانستان کی سرحد سے ہونے والے حالیہ ڈرون حملوں نے ایک بار پھر سکیورٹی صورتحال کو نازک بنا دیا ہے۔ صوبائی حکومت نے ان واقعات کو نہ صرف امن و امان کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے بلکہ کہا ہے کہ اس طرح کی شرپسنانہ کارروائیوں سے جہاں عوامی جذبات بھڑک سکتے ہیں وہیں اس کے ردِعمل میں انتقامی رجحانات کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔ اسی پس منظر میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت سے قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہوئے سخت عوامی احتجاج کی دھمکی دے دی ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا کی صوبائی کابینہ کے اجلاس میں ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد پار سے مسلسل ہونے والے یہ حملے اب ایک “وبال” کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ ان کارروائیوں میں ہونے والا “عوامی جانی نقصان” (کولیٹرل ڈیمیج) ناقابل قبول ہے۔ اس لئے ایسی کارروائیوں کےخلاف مؤثر حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ حکومت کو ایسے واقعات کو جرم قرار دینے کے لیے قانون سازی کرنی چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے اس معاملے پر عوامی ردعمل کو منظم کرنے کے لیے جرگہ بلانے کا اعلان بھی کیا ہے، جس میں قبائلی عمائدین اور دیگر سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے گی۔ یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت اس مسئلے کو صرف سکیورٹی نہیں بلکہ سماجی اور سیاسی زاویے سے بھی دیکھ رہی ہے۔
دوسری جانب، ڈرون حملوں کئے بعد زمینی صورتحال مسلسل تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ حالیہ واقعے میں ضلع مہمند میں ایک مشتبہ سرحد پار کواڈ کاپٹر حملے میں دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق حملہ رات کے وقت ایک سکیورٹی چوکی پر کیا گیا، جس کے بعد علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ وفاقی سطح پر بھی اس معاملے پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ان حملوں کو “غیر انسانی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرحد پار سے شہری آبادی کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے خاص طور پر باجوڑ میں پیش آنے والے واقعے کا حوالہ دیا، جہاں خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری جان کی بازی ہار گئے، جبکہ کئی زخمی ہوئے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق ان حملوں میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے کردار پر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف پاکستان اور سرحد پار عناصر کے درمیان کشیدگی کو بڑھا رہی ہے بلکہ خطے میں سکیورٹی کے نئے چیلنجز کو بھی جنم دے رہی ہے۔ماہرین کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی کا بڑھتا استعمال جنگی حکمت عملی کو بدل رہا ہے، مگر اس کے ساتھ شہری آبادی کے لیے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ اگر اس مسئلے کا بروقت اور مؤثر حل نہ نکالا گیا تو یہ نہ صرف سکیورٹی بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
