پنجاب میں بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن نہیں بڑھے گی

پنجاب کا بجٹ 15جون کو پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا تاہم حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے.
پنجاب کے آئندہ مالی سال کیلیے بجٹ کا حجم 22 کھرب 40 ارب روپے ہو گا جو رواں مالی سال کے 1812 ارب روپے کے نظر ثانی شدہ بجٹ سے 428 ارب روپے یعنی 23 فیصد زائد ہوگا، وفاق کے بعد پنجاب حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ کو حتمی شکل دیدی۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اخراجات کے مجموعی حجم کا تخمینہ 2115 ارب روپے لگایا گیا ہے جس میں اخراجات جاریہ کے حجم کا تخمینہ 1778 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 337 ارب روپے لگایا گیا ہے۔پنجاب کا آئندہ مالی سال کا بجٹ 12 ارب روپے سرپلس ہوگا، پنجاب میں ٹیکسوں کی شرح پہلے سے کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ پنجاب میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔
پنجاب میں کرونا اثرات کم کرنے کیلئے 23 شعبوں کو ٹیکس ریلیف دینے کی تجاویز ہیں، 13 شعبوں کو براہ راست ٹیکس ریلیف ملے گا۔صوبے کے مجوزہ بجٹ میں پراپرٹی ٹیکس 2 اقساط میں لینے کی بھی تجویز زیر غور ہے، ڈاکٹرز کی خدمات اور ہسپتال روم چارجز پر عائد 16 فیصد ٹیکس ختم ہو گا۔ ہیلتھ انشورنس پر عائد 16 فیصد ٹیکس بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ 20 کمروں تک کے ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز پر ٹیکس 16 فیصد سے کم کر 5 فیصد رہ جائے گا۔ میرج ہالز، تقریبات کے لان اور پنڈال پر بھی ٹیکس 5 فیصد عائد کرنے کی تجویز ہے۔
ہیلتھ کیئر جم، فٹنس سنٹر، پراپرٹی ڈیلر اور رینٹ اے کار سروسز پر بھی ٹیکس 5 فیصد، کیبل آپریٹرز، آٹو موبائل ڈیلرز، اپارٹمنٹ مینجمنٹ سے بھی 5 فیصد ٹیکس کی تجویز ہے۔ ازخود ٹیکس نیٹ میں آنے والے پراپرٹی بلڈرز اینڈ ڈویلپرز پر بھی ٹیکس 5 فیصد ہوگا، ٹیکس نیٹ میں آنے والے اسکن و لیزر کلینکس پر بھی ٹیکس 5 فیصد عائد کرنے کی تجویز ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button