پی ٹی آئی کے آڈیٹرز گڑبڑ کی ذمہ داری لینے سے انکاری


لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو ایک خط میں آگاہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے آڈٹ رپورٹس میں اپنی چوریوں اور کوتاہیوں کا مدعا آڈیٹرز پر ڈالنے کی بھونڈی کوشش کی جا رہی ہے۔ لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے صدر کی جانب سے لکھے جانے والے خط میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے وکلا نے سینئر چارٹرڈ اکائونٹنٹس کی نیک نامی کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر پی ٹی آئی نے اپنے فائدے کے لیے آڈٹ رپورٹس میں کوئی گڑبڑ کی ہے تو اسکی ذمہ داری آڈیٹرز کے کاندھوں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔

لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے صدر جمیل اختر بیگ نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کو ایک خط میں پی ٹی آئی کے وکلا کی جانب سے فارن فنڈنگ کیس میں آڈیٹرز پر ملبہ ڈالنے کی کوششوں کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کے وکلا نے چارٹرڈ اکائونٹنٹس کی نیک نامی کو اپنے مقاصد کے لئے خراب کرنے کی کوشش کی ہے جو قابل افسوس اور مذمت ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے وکلا کے پاس کوئی جواز نہیں تھا کہ وہ آڈیٹرز کی ساکھ کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرتے۔ 9 نکات پر مشتمل خط میں فارن فنڈنگ کیس کے 2 اگست 2022 کو دئیے گئے فیصلے میں آڈیٹرز سے متعلق دئیے گئے حوالوں کو حذف کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ یہ حوالہ پی ٹی آئی کے اکائونٹس کا آڈٹ کرنے والی کمپنی ’مونف ضیاءالدین اینڈ کو چارٹرڈ اکائونٹنٹس‘سے متعلق ہے جس کا ذکر الیکشن کمیشن کے فارن فنڈنگ کیس میں دئیے گئے فیصلے کا حصہ ہے۔

جمیل اختر بیگ کے خط میں چارٹرڈ اکائونٹنٹ اخترمحمود میاں کا نام بھی پارٹنر کے طور پر درج ہے۔ خط میں الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیاگیا کہ چارٹرڈ اکائونٹس کی تین کیٹگریز ’اے‘، ’بی‘ اور ’سی‘ ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹس پاکستان کے کوالٹی کنٹرول ریویو کی درجہ بندی میں مونف کمپنی ’اے‘ کیٹیگری میں آتی ہے۔ خط کے مطابق پی ٹی آئی کے وکلا نے یہ توجیہہ پیش کی ہے کہ اس اعلیٰ پائے کی کمپنی کے آڈٹ کا مطلب ہے کہ یہ اکائونٹس درست ہیں اور ان میں کوئی گڑ بڑ نہیں۔ خط میں لکھاگیا کہ اس مراسلے کا مقصد مقدمے میں فریق بننا نہیں اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت یا کسی متاثرہ فرد کا دفاع کرنا ہے بلکہ چارٹرڈ اکائونٹینسی کے شعبے کا دفاع مقصود ہے جس کے پاس آڈٹ سروس کی فراہمی کا قانونی جواز، ذرائع، ٹیکنالوجی اور قابلیت موجود ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے عوام کی نظر میں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ آڈیٹرز کی جانب سے درست آڈٹ نہیں کیاجارہا ہے، اور انکی جانب سے اپنے فرائض سے نااہلی برتی گئی۔

خط کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنے آرڈر میں آڈٹ کے نیک نام پیشے کے دائرہ کار، مقصد اور اہمیت کو مدنظر نہیں رکھا۔ پی ٹی آئی کے وکلاءنے بھی اپنے دلائل میں احتیاط کا مظاہرہ نہیں کیا کہ آڈیٹرز کا پیشہ کس طرح بدنام، توہین کا نشانہ بنایا جارہاہے یا غیر ضروری طور پر عوام کی تنقید کا شکا رہورہا ہے، جن کا مقصد حقائق سے قطع نظر اس فورم الیکشن کمیشن سے ریلیف حاصل کرنا تھا۔ خط میں آڈیٹرز کا دفاع دکرتے ہوئے دلیل دی گئی کہ آڈٹ کسی کمپنی کی اتھارٹی، انٹرپرائز یا غیرمنافع بخش تنظیم کے ارکان کے لئے کیاجاتا ہے۔ مالیاتی بیانات اور آڈیٹرز کی رپورٹ متعلقہ کمپنی، انٹرپرائز یا تنظیم کی ملکیت ہوتی ہے۔ آڈیٹرز کی رپورٹ کے ہمراہ مالیاتی بیان وصول کرنے والے کو کوئی اختیار یا قانونی حق حاصل نہیں کہ وہ مالیاتی بیان کی جانچ پڑتال، تجزیہ یا اس کی پرکھ کریں کہ فنانشل سٹیٹمنٹس غلط ہیں یا درست نہیں اور یہ کہ آڈٹ ان کے اطمینان کے مطابق نہیں اور آڈیٹر کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے یا ان کی بدنامی کی جائے۔ یہ متعلقہ ادارے یا کمپنی کی مینجمنٹ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اکائونٹس تیار کرے اور آڈٹ کے لئے آڈیٹرز کو فراہم کرے۔ آڈیٹرز کو اختیار نہیں کہ وہ اکاﺅنٹس تیار کریں یا اکاﺅنٹس کو ظاہر کریں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ آڈیٹرز کو اکاﺅنٹنگ پالیسی بنانے کا اختیار نہیں ہوتا جن کی بنیاد پر اکاﺅنٹس کو حتمی شکل دی جاتی ہے۔ آڈیٹرز یہ سرٹیفکیٹ جاری نہیں کرتے کہ اکائونٹس درست ہیں بلکہ آڈیٹرز یہ موقف دیتے ہیں کہ اکاﺅنٹس شفاف نظر آرہے ہیں۔ ویسے بھی آڈٹ اُس ریکارڈ کی بنیاد پر ہوتا ہے جو کہ مینجمنٹ خود تیار کرتی ہے۔ خط کے مطابق اگر کسی آرگنائزیشن کی مینجمنٹ نے اپنے فائدے میں کوئی گڑبڑ یا غلط کام کیا ہے تو اس کی ذمہ داری آڈیٹرز کے کاندھوں پر نہیں ڈالی جاسکتی اور اسے بدنام نہیں کیاجاسکتا اور پی ٹی آئی کے وکلاءکے پاس کوئی جواز نہیں تھا کہ وہ آڈیٹرز کی ساکھ کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرتے کیونکہ ایک آڈیٹرکی بدنامی پورے پروفیشن کی بدنامی ہے۔

Back to top button