چاقو کے زور پر ہنسانے والے جمشید انصاری کو ٹیومر کھا گیا

اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ پاکستان نے جمشید انصاری جیسے درجنوں اعلیٰ پائے کے مزاحیہ اداکار پیدا کیے۔ اگر بغور جائزہ لیا جائے، تو ہمیں اپنی شوبز اندسٹری میں کئی کامیاب کامیڈینز کے نام ملیں گے جن میں نذر، آصف جاہ، اے شاہ شکارپوری، ظریف، منور ظریف، البیلا، ننھا، علی اعجاز، رنگیلا، خالد سلیم موٹا اور لہری شامل ہیں۔ ان سب کی اداکاری کا انداز ایک دوسرے سے مختلف تھا اور سب نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ شائقین فلم نے سب ہی کو پذیرائی بخشی۔ کچھ مزاحیہ اداکاروں کو تو اتنا زیادہ پسند کیا گیا اور وہ ہیرو کے طور پر بھی فلموں میں کاسٹ ہونے لگے۔ اُن میں منور ظریف، رنگیلا، علی اعجاز اور ننھا شامل ہیں۔
لیکن ہمارے کچھ مزاحیہ اداکار ایسے بھی تھے، جو اگرچہ اتنی زیادہ مقبولیت تو حاصل نہیں کرسکے، لیکن مزاحیہ اداکاری کی تاریخ میں اُن کا نام بھی لکھا جائے گا۔ ان اداکاروں میں بانکا، خلیفہ نذیر، نرالا، چکرم، چارلی اور لاڈلا کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے ٹی وی نے بھی بڑے شاندار مزاحیہ اداکار پیدا کیے۔ 1964ء میں جب سرکاری ٹی وی یعنی پاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہوا، تو ایک مزاحیہ سیریز نے زبردست مقبولیت حاصل کی جس کا نام تھا ’’لاکھوں میں تین‘‘۔ اس میں قوی، علی اعجاز اور قمر چودھری نے مزاحیہ اداکاری کا ایک نیا اسلوب ایجاد کیا۔ یاد رہے کہ قوی خان نے چند فلموں میں بھی مزاحیہ اداکاری کے جوہر دکھائے، لیکن انہیں مکمل طور پر مزاحیہ اداکار تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ وہ بہرحال ایک ورسٹائل فنکار ہیں۔ ٹی وی میں اُن کے علاوہ خالد عباس ڈار، عابد کاشمیری، لطیف کپاڈیا، بہروز سبزواری، اطہر شاہ خان اور معین خان نے مزاحیہ اداکاری میں اپنی شناخت بنائی، لیکن ان سب سے بڑھ کر کراچی کا ایک فنکار ایسا تھا، جس نے مزاحیہ اداکاری کو وقار بخشا اور اُن کے اسلوب کو سب سے زیادہ پسند کیا گیا۔ یہ تھے، مرحوم جمشید انصاری۔
جمشیدانصاری نے مزاحیہ اداکاری کے علاوہ سنجیدہ کردار بھی ادا کیے، لیکن یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ جمشید انصاری کا اصل میدان کامیڈی تھا اور انہیں سب سے زیادہ شہرت مزاحیہ اداکاری کی وجہ سے ہی ملی۔ 31 دسمبر 1942ء کو سہارنپور بھارت میں پیدا ہونے والے جمشید انصاری، ٹی وی، فلم اور ریڈیو کے اداکار تھے۔ چھ برس کی عمر میں وہ اپنی فیملی کے ساتھ بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آ گئے۔ 1964ء میں جمشید انصاری نے بی اے کی ڈگری حاصل کی، پھر وہ لندن چلے گئے اور چار سال تک وہیں رہے۔ لندن میں انہوں نے ٹی وی پروڈکشن کے کورسز کیے۔ انہوں نے وہاں کئی سٹیج شوز میں بھی کام کیا۔ شوکت تھانوی کے سٹیج ڈرامے ’’سنتا نہیں ہوں بات‘‘ میں اُن کے کام کو بہت پسند کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بی بی سی میں بھی کام کیا۔1968ء میں جمشیدانصاری انگلینڈ سے واپس آ گئے۔ لاہور ٹی وی سے ان کا پہلا ڈرامہ ’’جھروکے‘‘ تھا، پھر کراچی سے انہوں نے آغا ناصر کے لکھے ہوئے ڈرامے ’’گھوڑا گھاس کھاتا ہے‘‘ میں اپنی خوبصورت اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اس ڈرامے کے پروڈیوسر سید امام نے حیران کن صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے بے شمار ریڈیو ڈراموں میں بھی کام کیا۔ ٹی وی سیریز ’’زیر زبر پیش‘‘ میں وہ اپنے فن کی بلندیوں پر تھے۔ اس ڈرامے میں ان کا تکیہ کلام تھا ’’زور کس پر ہوا‘‘ یہ بہت مقبول ہوا۔ ایک اور ٹی وی سیریز ’’کرن کہانی‘‘ میں انہوں نے صفدربھائی کا کردارادا کیا اور بہت شہرت حاصل کی۔ ’’انکل عرفی‘‘ ایک بہت مشہور سیریز تھی۔ اس میں حسنات بھائی کے کردار نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا۔ اس میں کسی شک و شبے کی گنجائش نہیں کہ جمشید انصاری کو’’انکل عرفی‘‘ میں سب سے زیادہ پسند کیا گیا۔ اس ڈرامے میں ان کا تکیہ کلام تھا ’’چکو ہے میرے پاس چکو. جوڈو جانتا ہوں‘‘۔
اس حوالے سے حسینہ معین بھی لائق صد تحسین ہیں کہ انہوں نے ایسی باکمال سیریز لکھی۔ ’’انکل عرفی‘‘ کی کاسٹ میں شکیل، قربانی جیلانی، عذرا شیروانی اور فوزیہ احمد بھی شامل تھے۔ ’’انکل عرفی‘‘ میں جمشید انصاری کا ایک اور مکالمہ لوگوں کو اب تک یاد ہے ’’افشیں تم سمجھ نہیں رہی ہو، چچا عرفی کو پتا چل گیا تو بڑی گڑبڑ ہو جائے گی‘‘۔ ’’تنہائیاں‘‘ بھی پاکستان ٹی وی کی ایک مشہور ڈرامہ سیریز تھی، جسے عوام نے بہت پسند کیا۔ اس باکمال ڈرامے میں شہناز شیخ، مرینہ خان، آصف رضا میر اور بہروز سبزواری نے اہم کردار ادا کیے تھے۔ جمشید انصاری کی اداکاری اس میں بھی لاجواب تھی۔ اس ڈرامے میں سماجی حقائق کی عکاسی کی گئی تھی۔ پھر ایک اور ڈرامہ سیریز نے شائقین کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ اس ڈرامہ سیریز کا نام تھا ’’ان کہی‘‘۔ اس سیریز میں شہناز شیخ، سلیم ناصر، قاضی واجد، جاوید شیخ اور جمشید انصاری نے متاثر کن اداکاری کی اور عوام نے ان پر داد وتحسین کے ڈونگرے برسائے۔ ٹی وی پروگرام ’’ہاف پلیٹ‘‘ نے بھی جمشید انصاری کی شہرت میں اضافہ کیا۔ اس میں انور مقصود، معین اختر اور بدر خلیل تھے۔’’شوشا‘‘ اور ’’سلور جوبلی‘‘ میں بھی جمشید انصاری کا کام پسند کیا گیا۔ انہوں نے شکیل اور ہمایوں سعیدکے ساتھ ’’دوسری عورت‘‘ میں بھی کام کیا۔ ’’دوسری عورت‘‘ میں انہوں نے صغیر احمد کا کردار بڑے شاندار طریقے سے نبھایا۔ اس میں لیلیٰ زبیری، عائشہ خان اور اعجاز اسلم بھی تھے، پھر ڈرامہ سیریز ’’منزلیں‘‘ میں بھی انہوں نے اپنی دلکش اداکاری سے عوام کے دل جیت لئے۔ ان کے مداحین کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ انہوں نے مشہور سٹیج شو ’’بکرا قسطوں پر‘‘ میں اپنی منفرداداکاری سے ثابت کیا کہ کچھ لوگوں کا بلندیوں کی طرف سفر ہمیشہ جاری رہتا ہے اور ان کے عروج کا سورج زوال کا اندھیرا نہیں دیکھتا۔ انہوں نے زیادہ تر ان سٹیج ڈراموں میں کام کیا جو جیدی یا اطہر شاہ خان نے لکھے تھے۔ ان کا آخری ٹی وی ڈرامہ ’’ماہ نیم شب‘‘ تھا جسے حیدرامام رضوی نے پروڈیوس کیا تھا۔ اس سے پہلے کے ڈرامے ’’چاند بابو‘‘ میں بھی ان کی اداکاری قابل دید تھی۔جمشید انصاری ، جیدی کے بڑے مداح تھے۔ ان کے علاوہ وہ ظہیرخان، محسن علی اور قاسم جلالی کے بھی بڑے مداح تھے۔
1970ء میں جمشید انصاری نے پرویز ملک کی فلم ’’سوغات‘‘ میں کام کیا۔ ان کی دیگر فلموں میں ’’ پاکیزہ، دیوار اور اج دیاں کڑیاں‘‘ شامل ہیں۔ فلموں میں وہ اس لئے کلک نہ کرسکے کہ فلموں میں بھی انہیں وہ کردار دیئے گئے، جو وہ ٹی وی ڈراموںمیں ادا کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ فلموں سے مایوس ہوگئے۔ انہوں نے 55 نیشنل ایوارڈ اور دو انٹرنیشنل ایوارڈ حاصل کیے۔ وہ کہتے تھے، زندگی ان لوگوں کے لیے المناک بن جاتی ہے، جومحسوس کرتے ہیں اور ان لوگوں کیلئے کامیڈی بن جاتی ہے، جو سوچتے ہیں، انہوں نے کبھی باہر آباد ہونے کا نہیں سوچا۔ ان کا کہنا تھا ،یہاں ہمارے اپنے لوگ ہیں، اپنا کلچر ہے اور وہ کبھی اپنا ملک چھوڑ کرکہیں اور آباد ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ انہوں نے قاسم جلالی کے ڈرامے ’’چنگیز خان‘‘ میں ایک عجیب و غریب کردار ادا کیا۔ ویسے تو چنگیز خان کا کردار ظہوراحمد نے ادا کیا، لیکن جب چنگیز خان ٹائیفائیڈ میںمبتلا ہوجاتا ہے اور بہت کمزور ہو جاتا ہے، تو وہاں جمشید انصاری کو دکھایاگیا۔ ذاتی زندگی میں وہ بڑے سنجیدہ آدمی تھے، لیکن کامیڈین اپنی مرضی سے بنے۔ وہ کہتے تھے میں لوگوں کو ہنسانا چاہتا ہوں۔ لوگ تھک ہار کرجب گھروں کو واپس آتے ہیں تو وہ ریلیکس ہونا چاہتے ہیں اور انہیں تفریح چاہیے۔ میں ان کے چہرے پر مسکراہٹیں بکھیرنے کا آرزومند ہوں۔ 2005ء میں جمشید انصاری کو علم ہوا کہ انہیں برین ٹیومر ہے، پھر ان کی صحت خراب ہوتی چلی گئی۔ 24 اگست 2005ء کو وہ اسی ٹیومر کے باعث جہان ِفانی سے کوچ کرگئے۔ ان کا ایک بیٹا اور دوبیٹیاں ہیں۔ لیکن ان کے مداحین انہیں کبھی نہیں بھولے کیونکہ زندگی سے بھرپور لوگوں کو ہنسانے والے ایسے لوگ ہمیشہ دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔
