چودھری اسلم کے قتل میںگرفتار دو ملزمان کو بری کر دیا گیا

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سپرنٹنڈنٹ پولیس محمد اسلم خان (چوہدری اسلم) کے قتل میں زیر حراست 2 ملزمان کو ‘عدم ثبوت’ کی بنا پر بری کردیا۔واضح رہے کہ جنوری 2014 میں لیاری ایکسپریس وے پر چوہدری اسلم کے پر خودکش حملے میں مبینہ ملوث ہونے کے الزام میں ملزمان ظفر علی عرف سائیں اور عبید عرف عبی کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم عدالت نے انہیں بری کردیا۔
خودکش حملے میں چوہدری اسلم کے علاوہ ان کے دو پولیس گارڈ بھی مارے گئے تھے۔علاوہ ازیں اسی کیس میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے چیف ملا فضل اللہ کو مفرور قرار دیا گیا تھا جس پر پولیس نے موقف اختیار کیا کہ جون 2018 میں افغانستان کے صوبہ کنڑ میں ڈرون حملے میں ملا فضل اللہ ہلاک ہوا، لہٰذا اسے عدالت کے روبرو پیش نہیں کیا جا سکتا۔
سینٹرل جیل کے اندر جوڈیشل کمپلیکس میں مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں اے ٹی سی کے جج نے مقدمے کا فیصلہ سنایا۔عدالت میں دونوں ملزمان ظفر علی اور عبید کو پیش کیا گیا تھا۔جج نے فریقین کے شواہد اور حتمی دلائل ریکارڈ کرنے کے بعد اپنا محفوظ شدہ فیصلہ سنایا۔جج نے ریمارکس دیے کہ استغاثہ زیر حراست ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکا۔
جس کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے دونوں ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر قتل، اقدام قتل، مشترکہ ارادے اور دھماکہ خیز مواد رکھنے کے الزامات سے بری کردیا۔علاوہ ازیں عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو یہ بھی ہدایت کی کہ اگر بری ہونے والے دونوں افراد کسی دوسرے مقدمے میں نامزد نہیں ہیں تو انہیں فوری رہا کردیں۔
خیال رہے کہ 13 فروری کو جج نے پراسیکیوٹر اور ملزمان کے وکیل کے حتمی دلائل پیش کیے جانے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ملزمان نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور اس معاملے میں اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا تھا۔استغاثہ کے مطابق یہ حملہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی اس وقت کی قیادت کے ایما پر کیا گیا تھا اور خودکش حملہ آور کی شناخت پیر آباد کے رہائشی اور ایک مقامی مدرسے کے طالبعلم نعیم اللہ کے نام سے ہوئی تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ خودکش حملہ آور کئی برس سے افغانستان میں تھا۔فروری 2017 میں تفتیشی افسر کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد ملزمان پر مبینہ جرم کے الزام میں چارج شیٹ درج کی گئی۔تحقیقاتی رپورٹ میں تفتیشی افسر نے اس وقت کے ٹی ٹی پی کے سربراہ ملا فضل اللہ کو مفرور بھی ظاہر کیا، اس طرح عدالت نے انہیں مفرور مجرم قرار دے دیا تھا۔
