کپتان نے اسٹیبلشمنٹ سے پنگا لیا تو ایسی تیسی ہو جائے گی


معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن پر پریشر ڈالنے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کے سربراہ کے خلاف کچھ کرنے کی کوشس کی تو اسٹیبلشمنٹ نے ان کی ایسی تیسی کر دینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب آرمی چیف کو ایکسٹنشن کی آفر کی جا رہی ہے تو دوسری جانب کچھ ویڈیوز لیک کرنے کی دھمکیاں گردش میں ہیں۔ لیکن ایسی کوئی بھی حرکت ہوئی تو اسٹیبلشمنٹ عمران خان کی ایسی تیسی کر کے رکھ دے گی۔
یاد رہے کہ اسلام آباد میں ایسی افواہیں گردش میں ہیں کہ عمران خان اپنے اقتدار کا سورج غروب ہوتا دیکھ کر تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے جاتے جاتے آرمی چیف کو بھی اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ بطور وزیر اعظم عمران خان تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد قومی اسمبلی توڑنے کا آئینی اختیار تو کھو چکے ہیں لیکن ان کے دیگر اختیارات برقرار ہیں۔ نیا دور ٹی وی کے پروگرام ”خبر سے آگے” میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد سے بچنے کیلئے عمران خان کے پاس چار سے پانچ حکمت عملیاں ہیں۔ اس کا پہلا مرحلہ تو یہی ہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین اسمبلی کیخلاف ٹی وی پر کردار کشی کی چلائی جائے اور انہیں بے ضمیر اور لوٹا ثابت کیا جائے، حالانکہ یہ وہی لوگ ہیں جو 2018 کے الیکشن سے پہلے اپنی پارٹیاں چھوڑ کر کپتان کے ساتھ آ ملے تھے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ منحرف اراکین اسمبلی کے گھروں کا گھیراؤ کیا جائے اور انکے اہل خانہ کو دھمکیاں دی جائیں۔ یہ کام بھی شروع ہو چکا ہے اور مختلف شہروں میں باغی اراکین اسمبلی کے گھروں کے باہر مظاہرے جاری ہیں۔ تیسرا حربہ یہ ہے کہ کپتان کے اتحادیوں کو حکومت کے خلاف جانے سے روکنے کی کوشش کی جائے۔ اس حوالے سے حکومتی کوششیں جاری ہیں لیکن کوئی مثبت نتیجہ نکلتا نظر نہیں آتا۔ چوتھا طریقہ یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کر لیا جائے اور کپتان معافی مانگتے ہوئے تسلیم کر لے کہ مجھ سے کچھ غلطیاں ہو گئی ہیں۔ تاہم اب اس تجویز پر عمل ہونا مشکل نظر آتا ہے۔
نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک دائر ہونے کے بعد سے پنجاب کا وزیراعلیٰ تبدیل کرنے اور آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینے کی آفرز بھی کی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں وفاقی وزرا کی آرمی چیف کیساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ آئے روز دو، چار وزرا ملاقات کیلئے جاتے ہیں۔ سیٹھی کا کہنا تھا کہ لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ اصل مسئلہ یہ ایکٹینشن نہیں، اسٹیبلشمنٹ عمران خان کیساتھ ایک صفحے پر رہ کر بہت بدنام ہو چکی ہے کیونکہ اپنی کارکردگی کو بہتر کرنے کی بجائے وہ دوسروں پر الزام دھرتے ہیں اور جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ تین چار وزرا تو ایسے ہیں جو مسلسل آرمی چیف کیساتھ ملاقاتیں کر کے ان سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ نیوٹرل نہ رہیں لیکن انھیں یہی جواب دیا جا رہا ہے کہ میں کور کمانڈرز سے بات کرکے دیکھتا ہوں، لیکن آپ لوگ بدنام بہت ہو چکے ہیں، آپ لوگ اپنی بات پر قائم نہیں رہتے۔ لیکن بقول سیٹی جب حکومتی وزرا ان ملاقاتوں سے باہر آتے ہیں تو بڑھکیں مارنے لگتے ہیں کہ ہماری تو فوج سے ڈیل ہو گئی اور آرمی چیف کو توسیع دیدی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسٹینشن تو کوئی ایشو ہی نہیں۔ اچل ایشو یہ ہے کہ اسٹیبلشمینٹ کو ان کیساتھ ایک ہی صفحے پر رہنے سے پہلے ہی بہت نقصان ہو چکا ہے۔
نجم سیٹھی نے مزید کہا کہ حکو۔تی کیمپ کچھ ویڈیوز اور آڈیوز لیک کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے جس سے انھیں لگتا ہے کہ اپوزیشن قیادت فارغ ہو جائے گی۔ لیکن انکا کہنا تھا کہ اب اپوزیشن کسی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ حکومت ان کیخلاف بھلے 10 ویڈیوز نکال دے، انھیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ وہ اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں انھیں اپنی فتح نظر آ رہی ہے۔ ایسی اوچھی حرکتوں سے اپوزیشن پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ خان صاحب اپوزیشن پر دباؤ ڈالنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے سربراہ کیخلاف کوئی ایسی باتیں کر دیں جس سے اسٹیبلشمنٹ تقسیم ہو جائے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس ایسی ویڈیوز ہوں جو کسی تھری یا فور سٹار کیلئے شرمندگی کا باعث بنیں لیکن اگر انہوں نے ایسا کیا تو یہ بڑا خطرناک قدم ہوگا کیونکہ اگر آپ کسی کو بدنام کرتے ہیں تو اسے ہٹانا بھی پڑے گا۔ یہ رسک لے کر بھی اگر فوجی اسٹیبلشمنٹ اکھٹی رہی تو پھر ان کی ایسی تیسی ہو جائے گی اور اسٹیبلشمنٹ کا نیا سربراہ بھی آ گیا تو کسی صورت ان کی سائیڈ نہیں لے گا۔

Back to top button