کیا افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ زندہ ہیں؟

طالبان کے افغانستان پر مکمل قبضے کے باوجود ان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کے منظر عام پر نہ آنے کے بعد مغربی میڈیا میں یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ آیا وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں اور کیا ماضی میں انکی موت بارے اڑنے والی افواہیں کہیں سچ تو نہیں تھیں۔ یاد رہے کہ پچھلے چند ماہ میں دو مرتبہ ملا ہیبت اللہ کی موت کی خبر آئی تھی۔ پہلے یہ اطلاع آئی تھی کہ وہ ایک دہشت گرد حملے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور بعد میں یہ خبر آئی کہ وہ کرونا کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔ حالانکہ افغان طالبان نے ان خبروں کو جھوٹ قرار دیا تھا لیکن ناقدین کے خٰیال میں اخونزادہ کی موت کی خبر کو اسی طرح چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے جیسے ماضی میں ملا عمر کی موت کو دو سال تک مخفی رکھا گیا۔ ایسا کرنے کا بڑا مقصد طالبان کا مورال بلند رکھنا ہو سکتا ہے۔ تاہم دوسری جانب افغان طالبان ذرائع نے ایسی افواہوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملا ہیبت اللہ زندہ سلامت ہیں اور جیسے ہی کابل طالبان کے مکمل کنٹرول میں آ جائے گا، ان کے امیر بھی منظر عام پر آجائیں گے۔
ٹوئٹر پر ایک ہیش ٹیگ #WhereIsHaibatullah? کے تحت لوگ ہیبت اللہ کے بارے میں سوال پوچھ رہے ہیں اور بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ قطر سے ملا عبد الغنی برادر کی جانب سے طالبان کی فتح کا تہنیتی ویڈیو پیغام سامنے آگیا ہے، جس میں انہوں نے جیت پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’طالبان کو توقع سے بڑھ کر کامیابی ملی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان کی اصل آزمائش اب شروع ہوئی ہے۔‘ ملا برادر طالبان کے سینیئر رہنما اور ان کے مرکزی مذاکرات کار بھی ہیں، لیکن بہرحال وہ ملا ہبت اللہ کے ہوتے ہوئے نمبر ٹو ہیں۔ یہمکہا جا رہا ہے کہ اصولاً ملا ہبت اللہ کی جانب سے مبارک باد کا بیان آنا چاہیے تھا کیوں کہ وہی طالبان کے مذہبی، سیاسی اور فوجی سربراہ ہیں۔ ملا ہبت اللہ کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔ ان کا تعلق قندھار سے ہے اور وہ ملا عمر کے قریب رہے ہیں۔ میڈیا پر ان کا نام ’ہیبت اللہ‘ بتایا جا رہا ہے، لیکن بتایا جا رہا ہے کہ یہ غلط ہے۔ ان کا اصل ’ہبت اللہ‘ ہی ہے۔ ہبت عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ’تحفہ‘ ہے۔ ملا ہبت اللہ کا بطور جنگجو تجربہ کم ہے اور وہ کمانڈر سے زیادہ مذہبی رہنما کے طور پر زیادہ شہرت رکھتے ہیں، جن کی وجۂ شہرت یہی تھی ہے کہ وہ فتوے جاری کرکے طالبان کی کارروائیوں کا جواز فراہم کیا کرتے تھے۔ ان کی عمر کے بارے میں بھی صحیح معلومات نہیں ہیں اور اندازاً 60 سال بتائی جاتی ہے۔ ملا ہبت اللہ 2016 میں ملا اختر منصور کے ایک امریکی ڈرون حملے میں کوئٹی کے قریب جاں بحق ہونے کے بعد افغان طالبان کے امیر مقرر ہوئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ملا منصور نے انہیں اپنی وصیت میں اپنے بعد طالبان کا امیر مقرر کیا تھا۔
افغان طالبان ذرائع کے مطابق چونکہ طالبان کے رہنما ہمیشہ امریکی نشانے پر ہوتے ہیں اس لیے ملا ہبت اللہ نے اپنے آپ کو پسِ پردہ رکھا ہوا ہے اور غالباً اسی خدشے کے پیشِ نظر وہ ابھی تک منظرِعام پر نہیں آئے۔ لیکن دوسری طرف ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ملا ہبت اللہ زندہ ہی نہیں ہیں۔ ٹوئٹر پر گذشتہ روز پوہہ کے ہینڈل سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ طالبان کے سربراہ زندہ نہیں ہیں، ورنہ طالبان ان کو اقتدار میں لے آتے۔‘اس سال فروری میں افغان میڈیا میں خبر آئی تھی کہ ملا ہبت اللہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک بم دھماکے میں مارے گئے ہیں۔’ہشت صبح‘ اخبار نے کہا تھا کہ ملا ہبت اللہ اپریل 2020 کو کوئٹہ میں اپنے دو سینیئر ساتھیوں سمیت مارے گئے ہیں، تاہم طالبان نے اس خبر کو بےبنیاد قرار دے کر اس کی تردید کر دی تھی۔ اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ چند ماہ قبل کوئٹہ شہر کے مضافات میں افغان طالبان کے ایک رہنما حافظ عبدالمجید کے گھر پر ہونے والے ایک مبینہ دھماکے میں ملا ہبت اللہ اخونزادہ اپنے دو ساتھیوں حافظ عبدالمجید اور ملا مطیع اللہ سمیت مارے گئے ہیں جب کہ ان کے ایک اور ساتھی حافظ عبدالمجید نے دو تین دن بعد دم توڑا۔ اس کے بعد جون 2020 میں یہ خبریں بھی چلی تھیں کہ ملا ہبت اللہ کرونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔ ’فارن پالیسی میگزین‘ نے طالبان ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ملا ہبت اللہ ملک سے باہر کرونا میں مبتلا ہو کر چل بسے ہیں۔ البتہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے 2 جون 2021 کو اس خبر کی تردید کر دی تھی۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں فارن پالیسی میگزین پر الزام لگایا تھا کہ وہ بے بنیاد افواہیں پھیلا رہا ہے۔ تاہم معروف صحافی اور افغان امور کے ماہر طاہر خان نے بتایا کہ ان کی بعض طالبان رہنماؤں سے بات ہوئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ملا ہبت اللہ زندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے طالبان کے کسی فرد سے یہ نہیں سنا کہ ملا ہبت اللہ چل بسے ہیں۔البتہ طاہر خان نے مزید کہا کہ ملا ہبت اللہ کا خاصے عرصے سے کوئی آڈیو پیغام خود ان کی آواز میں نہیں آیا، بلکہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد ان کا جو بیان آیا تھا جو بھی پڑھ کر سنایا گیا تھا۔ اگر ملا ہبت اللہ زندہ ہیں تو زیادہ امکان ہے کہ وہ کابل کی بجائے قندھار سے حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کو ترجیح دیں۔ ان کے پیش رو ملا عمر بھی قندھار ہی سے کاروبارِ حکومت چلاتے رہے ہیں، بلکہ ملا عمر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے دورِ اقتدار میں صرف دو بار کابل گئے تھے، ایک بار 1996 میں اور دوسری بار اپنی حکومت گرنے سے کچھ ہی عرصے قبل 2001 میں۔
ملا ہبت اللہ نے پچھلے برس عید الاضحیٰ کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کہا تھا کہ ان کی تحریک ’اسلامی نظام حکمرانی‘ کی راہ پر گامزن ہے اور وہ اقتدار پر مکمل قبضہ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا، ’ہمارا جہاد قبضے کو ختم کرنے اور ایک خالص اسلامی نظام کے قیام کے لیے رہا ہے اور ہم اپنی مجاہد اور ناراض قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ مبصرین کے مطابق طالبان کی جانب سے اپنے امیر کی زندگی کے حوالے سے تمام تر دعووں اور یقین دھانیوں کے باوجود جب تک ملا ہیبت اللہ منظر عام پر نہیں آتے، تب تک ایسی افواہیں زور پکڑتی رہیں گی کہ وہ مارے جا چکے ہیں اور جس طرح طالبان کے بانی امیر ملا محمد عمر کی موت کو کئی سال مخفی رکھا گیا اسی طرح ملا ہیبت اللہ کی موت کی خبر کو بھی چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
