کیا تحریک انصاف پر پابندی لگنے والی ہے؟

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے اگرچہ یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو آئندہ انتخابات میں کھلا میدان دیا جائے گا لیکن کاکڑ کو اس عہدے کیلئے نامزد کرنے والے راجہ ریاض کا اصرار ہے کہ الیکشن سے قبل پی ٹی آئی پر پابندی عائد کر دی جائیگی۔

خیال رہے کہ اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے راجہ ریاض نے اُس وقت کے وزیراعظم شہاز شریف کو نگران وزیراعظم کے عہدے کیلئے انوار الحق کاکڑ کا نام تجویز کیا تھا۔ دی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئےراجہ ریاض کا کہنا تھا کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل پی ٹی آئی پر پابندی کے حوالے سے ایک فیصد بھی شک کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے یہ بات دہرائی کہ پی ٹی آئی پر پابندی عائد ہو جائے گی اور بیلیٹ پیپرز میں ’’بلے‘‘ کا نشان نہیں ہوگا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پی ٹی آئی پر پابندی کون عائد کرے گا؟ تو ان کا کہنا تھا کہ یہ کام الیکشن کمیشن کرے گا یا پھر عدالت۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھی راجہ ریاض نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی پر پابندی عائد ہو جائے گی، بیلیٹ پیپرز پر بلے کا نشان نہیں ہوگا۔ پی ٹی آئی پر پابندی کا کام عدالت کرے گی یا الیکشن کمیشن ۔ انہوں نے کہا تھا کہ جس وقت الیکشن ہوں گے اس وقت عمران خان جیل میں ہوں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب وزیر اعظم کاکڑ سے سوال کیا گیا کہ کیا انتخابات جنوری میں ہونگے یا فروری 2024 تک ہونگے؟ اس سوال کے جواب میں نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی ہو سکتے ہیں، لیکن چونکہ اس کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے، لہٰذا، ہم بھی انتظار کر رہے ہیں تاکہ جیسے ہی کمیشن تاریخ کا اعلان کرے، ہم ان سے جڑی تمام تیاریاں مکمل کرکے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کر سکیں اور آگے بڑھیں۔ تاہم دوسری طرف چند ہفتے قبل راجہ ریاض نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں فروری کے وسط میں انتخابات کے انعقاد کے بارے میں اسے ’’بریکنگ نیوز‘‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ انتخابات 15 فروری 2024 سے چند دن قبل یا اس کے بعد ہونگے، اگر ایسا نہ ہوا تو اسکے ذمہ دار وہ ہوں گے۔

خیال رہے کہ جہاں ایک طرف انٹرا پارٹی الیکشن نہ کروانے پرالیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کو انتخابی نشان الاٹ کرنے پر پابندی اور پی ٹی آئی کے انتخابی عمل سے آؤٹ ہونے کے امکانات روشن ہو چکے ہیں۔ وہیں دوسری طرف راجہ ریاض کے دعوے کے علاوہ بھی اسلام آباد کے بعض حلقوں میں تحریک انصاف پر پابندی کی خبریں زیر گردش ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوج کے طاقتور ادارے کو چیلنج کرنے والوں کو اس کے غیظ وغضب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماضی میں بھی بعض سیاسی جماعتوں کو پابندیوں کا سامنا رہا لیکن یہ پابندیاں مستقل ثابت نہیں ہو سکیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف کو تحلیل کرنے کی کوئی بھی کوشش ممکنہ طور پر ملک کو ایک گہرے سیاسی بحران میں دھکیل دے گی۔تاہم اس کے باوجود تحریک انصاف پر پابندی کے امکانات موجود ہیں۔

ناقدین کے مطابق اگر پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگائی جاتی ہے تو یہ پاکستان کی فوج کی ناراضگی کے بعد کالعدم قرار دی جانے والی پہلی جماعت نہیں ہوگی۔پاکستان میں ماضی میں بھی سیاسی جماعتوں پر پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں اور قوانین میں اس کا طریقۂ کار بھی موجود ہے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر یاسین آزاد کہتے ہیں کہ اگر کسی سیاسی جماعت پر ملک میں دہشت گردی پھیلانے کا الزام ہو یا خلاف قانون کام کرتی ہو تو وفاقی کابینہ اس بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رپورٹ طلب کرتی ہے۔ وفاقی حکومت سیاسی جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں پر درج دہشت گردی کے کیسز کا جائزہ لیتی ہے اور شواہد کی روشنی میں تفصیلی رپورٹ یعنی سیاسی جماعت پر پابندی کے لیے چارج شیٹ مرتب کرنا ہوتی ہے۔

اُن کے بقول اگر وفاقی کابینہ کو لگتا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت ملک دُشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے تو پھر کابینہ پابندی کی منظوری دیتی ہے، یہ معاملہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی جا سکتا ہے۔ دونوں ایوانوں سے اس پر قراردادیں منظور ہوتی ہیں کہ یہ دہشت گرد جماعت ہے، لہذٰا اس پر پابندی ہونی چاہیے۔یاسین آزاد کے بقول کابینہ اور پارلیمان سے منظوری کے بعد وزارتِ داخلہ نوٹی فکیشن جاری کر دے گی کہ مذکورہ سیاسی جماعت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔اُن کے بقول پابندی کے فیصلے پر وزارتِ داخلہ اور اس کے بعد سپریم کورٹ میں بھی اپیل کی جا سکتی ہے۔ لہذٰا حتمی فیصلے کا اختیار سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس ہی ہوتا ہے۔

کیا پی ٹی آئی پر پابندی کے معاملےمیں الیکشن کمیشن کا بھی کردار ہے؟ اس سوال پر یاسین آزاد کا کہنا تھا کہ اگر کسی سیاسی جماعت کے اراکین قومی اسمبلی میں ہوں تو پھر وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹی فکیشن کے مطابق مذکورہ جماعت کے اراکین کو الیکشن کمیشن ڈی نوٹیفائی کر دیتا ہے اور وہ رُکن اسمبلی نہیں رہتے۔خیال رہے کہ پاکستان میں یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی سیاسی جماعت پر پابندی لگانے کی بات ہو رہی ہے۔ چند برس قبل تحریکِ لبیک پاکستان  پر پابندی کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا تاہم ریاست کے ساتھ معاملات طے ہونے پر یہ عمل مکمل نہیں ہو سکا تھا۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ 1954 میں پاکستان کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگائی گئی تھی۔اس جماعت پر یہ الزام تھا کہ اس نے راولپنڈی سازش کیس میں ملوث ہو کر ملک دُشمنی کی اور اسی بنیاد پر ملک بھر میں جماعت کے ورکرز کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔دوسری بڑی سیاسی جماعت جس پر پابندی لگی وہ نیشنل عوامی پارٹی تھی۔ اس جماعت پر دو مرتبہ پابندی لگی ۔ پہلی مرتبہ 1971 میں یحییٰ خان اور پھر 1975 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دورمیں پابندی لگی۔اس جماعت پر بھی ملک دشمن سرگرمیوں کا الزام عائد کیا گیا ۔

دوسری جانب پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں میں مذہبی و سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کی گئی۔ ان میں سے بعض ایسی جماعتیں بھی ہیں جو انتخابی نشان رکھتے ہوئے ماضی میں انتخابات میں بھی حصہ لیتی رہیں اور ان کے ارکان ، قومی و صوبائی اسمبلیوں میں بھی رہے ہیں لیکن ان پر پابندی عائد کردی گئی۔ان مذہبی سیاسی جماعتوں میں سپاہ صحابہ پاکستان، سپاہ محمد پاکستان، تحریکِ جعفریہ پاکستان، ملتِ اسلامیہ پاکستان شامل ہیں۔ ان میں سے بعض جماعتیں قائدین اور نام بدل کر آج بھی سیاست کررہی ہیں لیکن پابندیوں کے باعث سیاست میں ان کا کردار محدود ہوا۔

Back to top button