اداکارہ فریال محمود ڈانسر یا چور کیوں بننے والی تھیں؟

معروف اداکارہ فریال محمود نے انکشاف کیا ہے کہ اگر وہ اداکارہ نہ ہوتی تو یقینی طور پر ایک ڈانسر یا چور ہوتیں کیونکہ وہ بڑی بڑی ڈکیتیاں کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں، اداکارہ کو شوبز میں ڈانسر کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔فریال محمود نے حال ہی میں مزاحیہ شو ’’حد کر دی‘‘ میں شرکت کی جہاں انہوں نے انکشاف کیا کہ اگر وہ اداکارہ نہ ہوتیں تو ضرور چور ہوتیں، پروگرام کے شروع میں فریال محمود نے اپنے کریئر سے متعلق بات کرتے کہا کہ چونکہ ان کی پوری فیملی کا تعلق شوبز انڈسٹری سے تھا اس لیے وہ بھی اداکاری کرنا چاہتی تھیں، میری والدہ اداکاری کے ساتھ گلوکارہ بھی تھیں، میرے نانا میوزک ڈائریکٹر تھے۔فریال نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں اداکارہ نہ ہوتی تو چور ہوتی یا پھر ڈانسر ہوتی، انہوں نے چور ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’مجھے لگتا ہے میں بہت بڑی بڑی ڈکیتیاں کرسکتی ہوں، کیونکہ میں اداکاری اچھی کرتی ہوں تو میں کسی کو بھی بیچ کر کھا سکتی ہوں۔میزبان کے سوال پر فریال محمود نے کہا کہ 12ویں کلاس سے قبل انہیں متعدد اسکولوں سے نکال دیا گیا تھا، اسکول سے نکالے جانے کی وجہ یہ تھی کہ میں لوگوں کو بہت مارتی تھی، ایک سکول میں، میں نے لڑکی کی پسلیاں توڑ دی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں بہت چھوٹی تھی اور مجھے لڑنا آتا تھا، ایک جگہ لڑکی سے لڑائی ہوگئی، میں نے اسے مارا اور اس کی پسلیاں ٹوٹ گئیں جس کے بعد اسکول انتظامیہ نے مجھے نکال دیا گیا تھا۔واضح رہے کہ اداکارہ فریال محمود 1980 اور 1990 کی دہائی تک راج کرنے والی سٹیج کی معروف اداکارہ اور گلوکارہ روحانی بانو کی بیٹی ہیں۔ روحانی بانو پاکستانی ڈرامہ اور فلم انڈسٹری کی ماضی کی مشہور اداکارہ مرحومہ روحی بانو کی کزن تھیں۔ فریال کی والدہ روحانی بانو کراچی سٹیج کی معروف گلوکارہ تھیں جو 80 اور ابتدائی 90 کے دور میں کافی مقبول رہیں۔فریال محمود کے مطابق ان کے 2 چھوٹے بھائی اور 3 سوتیلی بہنیں ہیں۔ بقول فریال ان کے والد نے دوسری شادی کی تھی۔ اداکارہ کا کہنا ہے کہ اب تک وہ کئی ڈراموں میں اہم کردار ادا کر چکی ہیں تاہم انہیں اپنے کیریئر میں اس مقام تک پہنچنے میں شوبز انڈسٹری اور ذاتی زندگی میں بہت سی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
