کیا ثمر جعفری دُلہا بننے کیلئے ڈرامہ ’’مائی ری‘‘ کا حصہ بنے؟

اداکار ثمر جعفری نے انکشاف کیا ہے کہ ڈرامہ سیریل ’’مائی ری‘‘ میں دُلہا بننے کیلئے کام نہیں کیا بلکہ ڈرامے کا سکرپٹ پڑھ کر کام کا فیصلہ کیا تھا، ثمر جعفری ڈرامے میں کم سِن دُلہا فاخر کا کردار ادا کر رہے ہیں، جن کی شادی ان کی کزن سے جبراً کر دی جاتی ہے اور جس کے بعد ان کے ہاں ایک اولاد بھی ہو جاتی ہے، ٹی وی ڈرامے میں یہ سب دکھانے پر ملک کے کئی حلقوں کی جانب سے شدید اعتراض بھی اٹھایا گیا ہے۔ثمر جعفری کا یہ پہلا ڈراما ہے، اس سے پہلے ہم انہیں ان کی گلوکاری کی وجہ سے جانتے تھے، انڈپینڈنٹ اردو کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے اداکاری کے اپنے پہلے تجربے، گلوکاری کے شوق اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے بھی بات کی۔اداکار کے مطابق مجھے اداکاری کا شوق گائیکی سے پہلے کا ہے، میں نے گلوکاری 2018 میں شروع کی، ’مائی ری‘ میں اپنے کردار کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ چونکہ سکرپٹ اچھا تھا، مزے دار تھا، ڈرامے کے تمام کردار بہت اچھے انداز میں لکھے گئے تھے اور سکرپٹ کی ضرورت تھی کہ دلہا بنا جائے تو وہ بن گئے۔ڈرامے میں کم عمر شادی دکھانے پر جو اعتراضات و سوالات اٹھائے گئے ہیں اس کے بارے میں ثمر جعفری کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ لوگ ڈراما دیکھ رہے ہیں، اور جیسے جیسے کہانی آگے بڑھ رہی ہے، وہ ہر سوال کا جواب دیتی جارہی ہے۔اپنے شادی کے سین کے بارے میں ثمر نے بتایا کہ جس دن اس کی عکاسی ہونی تھی، تو ان کی والدہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں تھا، اتفاق سے ان کے والد سب کو تیار کرکے سیٹ پر لے آئے اور پھر وہاں کہنے لگے کہ ’میرے بیٹے کی شادی ہے مگر اس نے ہمیں تو بلایا ہی نہیں۔اس ڈرامے پر ہونے والی نکتہ چینی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ دل پر نہیں لیتے، لوگ تعریف بھی کرتے ہیں اور برائی بھی، تو یہ سب تو چلتا رہتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ شوٹنگ کے دوران سب نے انہیں اپنے بچوں کی طرح ہی رکھا اور کبھی کسی سے ڈانٹ نہیں پڑی بلکہ سب انہیں پیار سے سمجھاتے تھے، ان دنوں ثمر اپنی میوزک البم پر بھی کام کر رہے ہیں اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ ایک ماہ تک ان کے گانے ریلیز ہونا شروع ہو جائیں گے، جو زیادہ تر رومانوی ہی ہوں گے کیونکہ ان کا مزاج زیادہ پاپ میوزک کی جانب ہے۔ثمر نے بتایا کہ وہ ماہرہ خان کو بطور اداکارہ بہت زیادہ پسند کرتے ہیں اور بطور انسان بھی بہت زیادہ عزت و احترام کرتے ہیں، وہ فلموں میں بھی کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، لیکن ابھی وہ ’انتظار کر رہے ہیں۔

Back to top button