آئمہ بیگ کو ڈپریشن کے بعد روحانی سکون کیسے ملا؟

معروف گلوکارہ آئمہ بیگ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ بہت چھوٹی عمر میں ڈپریشن کا شکار ہوگئی تھیں، ڈاکٹرز کے مطابق یہ بیماری ان کے جینز میں موجود تھی، والدہ کی وفات کے دُکھ نے اس کو مزید بڑھایا۔آئمہ بیگ نے ’فیوچیا میگزین‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں ڈپریشن، آرتھرائٹس کی بیماری میں مبتلا رہنے، لوگوں کی جانب سے منگیتر کو دھوکا دینے اور برطانوی مرد ماڈل سے تعلقات جیسے سنگین الزامات لگانے جیسے معاملات پر کھل کر بات کی، گلوکارہ کے مطابق وہ گھر میں سب سے کم عمر ہیں جب کہ وہ والدین کی بھی لاڈلی رہی ہیں، وہ چند سال قبل تک اپنی والدہ کے ہمراہ سوتی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ کا کینسر میں انتقال ہوا تھا، ان کی والدہ میں اس وقت کینسر کی تشخیص ہوئی جب وہ تیسرے درجے تک پہنچ چکی تھی، ان کی والدہ ہر بات دل میں رکھتی تھیں، وہ کسی سے کوئی بات شیئر نہیں کرتی تھیں اور ان کا خیال ہے کہ ڈپریشن کی وجہ سے ہی انہیں بیماری ہوئی ہوگی، عام لوگ اس پر بات نہیں کرتے، وہ اسے مسئلہ یا بیماری ہی نہیں سمجھتے جبکہ درحقیقت ڈپریشن ہی تمام بیماریوں کا سبب ہوتی ہے۔انہوں نے خود میں جوڑوں کے درد کی سنگین بیماری ’ آرتھرائٹس’ کی تشخیص کےحوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ ان کی جینز میں ہی یہ بیماری تھی مگر والدہ کے انتقال پر دکھ کا اظہار نہ کر پانے سمیت دیگر وجوہات اور ڈیرپشن کی وجہ سے بیماری ان میں ابھر کر سامنے آئی۔انہوں نے بتایا کہ وہ’ آرتھرائٹس’ کے سنگین اثرات کا شکار بنی تھیں، وہ اپنے پاؤں اور ہاتھ ایک سے دوسری جگہ درست انداز میں موڑ نہیں پاتی تھیں، ان کے مطابق انہیں وزن کم کرنے، کمزوری دینے اور وزن بڑھانے والی ادویات بھی کھانی پڑیں، جس وجہ سے ان میں ڈپریشن کی سطح مزید بڑھ گئی۔جب ان میں ’ آرتھرائٹس’ بڑے جوڑوں سے کم ہوا تو بیماری نے ان کے انتہائی چھوٹے جوڑوں کو متاثر کیا اور وہ کچھ عرصہ قبل تک مرض کی ادویات لے رہی تھیں لیکن اب وہ بلکل صحت مند ہیں۔آئمہ بیگ نے دیگر معاملات پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب ان کی منگنی ٹوٹی اور ان پر برطانوی خاتون ماڈل نے اپنے سابق بوائے فرینڈ سے تعلقات کے الزامات لگائے، تب وہ اور ان کا پورا خاندان صدمے میں چلا گیا، ان ہی دنوں میں والد ان کے پاس آئے اور انہیں عمرے پر چلنے کا کہا، جس کے بعد ان کی زندگی تبدیل ہوگئی۔آئمہ بیگ کے مطابق عمرے کی ادائیگی کے دوران انہیں احساس ہوا کہ اگر لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں تو کیا ہوا، خدا تو ان سے محبت کرتے ہیں، اعتراف کیا کہ عمرے کی ادائیگی کے بعد ان کی ذہنی حالت بہتر ہوئی اور انہیں روحانی سکون ملا۔
