کیا حمزہ شہباز کے بعد شہباز شریف بھی باہر آنے والے ہیں؟


نیب کے دائر کردہ مقدمات کا سامنا کرنے والے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف کی 20 ماہ بعد ضمانت پر رہائی کے بعد اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا مستقبل قریب میں ان کے والد اور نواز لیگ کے صدر شہباز شریف بھی باہر آجائیں گے۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اگر ایسا ہوگیا تو وزیر اعظم عمران خان کے لیے پریشان کن صورتحال پیدا ہو سکتی ہے چونکہ شہباز شریف ہمیشہ سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کا بیانیہ لے کر چلنے کے قائل رہے ہیں اور اپنی رہائی کی صورت میں وہ نواز لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شہباز شریف کو ایک مرتبہ نیب کی حراست سے رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کرنے کا مقصد اس پل کو توڑنا تھا جو شہباز شریف اپنے بڑے بھائی اور پاکستانی فوجی قیادت کے درمیان قائم کرنا چاہتے تھے۔ یاد رہے کہ اس مفاہمتی پل کی تعمیر میں خواجہ آصف بھی متحرک کردار ادا کر رہے تھے لہذا وزیراعظم عمران خان نے خطرہ بھانپتے ہوئے پہلے شہباز شریف کو اور پھر خواجہ آصف کو نیب کے ذریعے اندر کروا دیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز شریف کی رہائی سے پاکستانی سیاست میں تبدیلی کے اشارے مل رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن میں مفاہمتی بیانیے کے سرخیل سمجھے جانے والے میاں شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز کی لمبے عرصے بعد رہائی سے یہ اندازہ ہورہا ہے کہ اب ممکنہ طور پر لیگی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ میں دوریاں بتدریج کم ہوں گی۔ اپوزیشن حلقوں کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ حالیہ ضمنی الیکشن میں فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے نیوٹرل رہنے کا وعدہ نبھایا ہے جس کی گواہی نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت بھی دے چکی ہے۔ اسی طرح اعتماد سازی کی فضا کو مضبوط بنانے کے لیے تین مارچ کو ہونے جارہے سینٹ الیکشن میں بھی اسٹیبلشمنٹ کوئی واضح سیاسی مداخلت کرتی نظر نہیں آرہی ہے۔ اگرچہ ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں مریم نواز نے خفیہ والوں پر دھاندلی کرنے اور پریزائیڈنگ افسران کو دھند میں غائب کرنے کا الزام لگایا ہے تاہم لیگی زرائع کا کہنا ہے کہ مریم نے آئی ایس آئی کی بجائے وزیر اعظم کے ماتحت کام کرنے والی ملک کی سب سے بڑی سول انٹیلی جنس ایجنسی آئی بی یعنی انٹیلی جنس بیورو کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی ملٹری اسٹبلشمنٹ سے دوریاں آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہیں۔ ان حالات میں حمزہ شہباز کی رہائی کو بھی اعتماد سازی کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اگلے مرحلے میں ن لیگ کے صدر میاں شہباز شریف بھی جیل سے باہر آ جائیں گے جس کے نیتجے میں عمران خان اینڈ کمپنی کے لئے شدید مشکلات پیدا ہونے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ چند ماہ قبل اسٹیبلشمینٹ کی جانب سے ایک گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی کوششوں کا آغاز ہوا تھا جس کے بعد سینیٹر محمد علی درانی کو میدان میں اتارا گیا تھا۔ درانی نے شہباز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کی اور اسٹیبلشمنٹ کا کوئی خصوصی پیغام انہیں پہنچایا۔
درانی اس سے پہلے خواجہ آصف سے بھی ایک خفیہ ملاقات کر چکے تھے۔ تاہم وزیراعظم عمران خان نے نہلے پہ دہلا مارتے ہوئے خواجہ آصف کو بھی اندر کروا دیا گیا جس کے بعد محمد علی درانی کا مشن ناکام ہوگیا۔ لیکن مفاہمت پر یقین رکھنے والی لیگی قیادت کی اسیری کے بعد مسلم لیگ نون کی جانب سے جارحانہ انداز سیاست اختیار کیا گیا اور یہ دلیل دی گئی کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کرنے والوں کا مقدر مقدمات اور جیلیں ہیں لہذا مقتدر قوتوں کے خلاف کھل کر میدان میں آنا ہوگا۔ اس کے بعد نواز شریف اور مریم نواز نے فوجی قیادت کو نام لے کر خوب لتاڑا جس کے نتیجے میں اسٹیبلشمنٹ بیک فٹ پر آ گئی اور فوجی ترجمان نے واضح طور پر یہ اعلان کیا کہ فوج کا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں ہو گا۔

تاہم بعض تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ الگ الگ راستوں پر چل رہے ہیں۔ آرمی چیف کی سربراہی میں فوج اپوزیشن کو اکاموڈیٹ کرنے کے حق میں ہے تاہم دوسری جانب انٹیلی جنس اسٹیبلشمنٹ وزیراعظم عمران خان کی منشا کے مطابق اپوزیشن کو دبا کر رکھنے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لہذا حمزہ شہباز کی رہائی کے حوالے سے تمام توقعات درست ثابت نہیں ہو سکتیں کیونکہ عمران ہر صورت یہی کوشش کریں گے کہ اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن کے مابین فاصلے برقرار رہیں اور اس سے فائدہ اٹھا کر وہ اقتدار کے مزے اڑاتے رہیں۔ خیال رہے کہ 24 فروری کے روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت کا فیصلہ سناتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کر لی ہے اور ان کو جیل سے رہا کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا گیا۔ حمزہ شہباز کے خلاف نیب نے اس وقت دو ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کر رکھے ہیں جن میں سے ایک منی لانڈرنگ اور دوسرا آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق ہے۔ نیب نے عدالت کو بتایا کہ ان مقدمات میں گواہان کی تعداد 110 ہے جبکہ آٹھ گواہان اپنے بیانات ریکارڈ کروا چکے ہیں۔ یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو نے 11 جون 2019 میں اس وقت احاطہ عدالت سے گرفتار کیا تھا جب انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے اپنی عبوری ضمانت کی درخواست واپس لے لی تھی۔جیل جانے سے پہلے حمزہ شہباز 84 دن جسمانی ریمانڈ پر نیب کی حراست میں رہے اور پھر انہیں عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ رواں سال جنوری میں سپریم کورٹ بھی ان کی ضمانت کی درخواست واپس لیے جانے کی بنیاد پر خارج کر چکی ہے۔اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ نے دو مرتبہ ضمانت کی درخواست واپس لیے جانے کی بنیاد پر حمزہ شہباز کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کیں لیکن بالآخر 24 فروری کو انہیں ضمانت مل ہی گئی۔
24 فروری کو حمزہ شہباز کے وکیل نے دوران سماعت عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے موکل کو حراست میں 20 ماہ ہو چکے ہیں اور 17 مہینے کے بعد ان کا ٹرائل شروع کیا گیا اور ابھی اس ٹرائل کو مکمل ہونے میں مزید ایک سال لگ سکتا ہے۔حمزہ شہباز کے وکیل نے مزید کہا کہ اسی طرح پہلے جو الزام لگائے گئے تھے ان کو ٹرائل کا حصہ نہیں بنایا گیا جس میں ایک بڑا الزام آف شور کمپنیوں کا تھا۔ دوسری طرف نیب پراسیکیوٹر نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے دلائل دئیے کہ حمزہ شہباز شریف پر منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات ہیں۔ سنہ 2003 میں ان کے اکاؤنٹ میں چند لاکھ روپے تھے جبکہ 2018 میں ان کے اثاثے 53 کروڑ ہو چکے تھے۔ بیرون ملک سے آٹھ کروڑ 10 لاکھ کی ٹی ٹیز ان کے اکاونٹ میں آئیں۔نیب پراسیکیوٹر کے مطابق نصرت شہباز، رابعہ عمران، سلمان شہباز، عمران یوسف سمیت چھ ملزم اشتہاری ہیں۔ 11 نومبر، 2020 کو منی لانڈرنگ ریفرنس میں فرد جرم عائد کی گئی، جس کے بعد 110 گواہوں میں سے 10 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے۔انہوں نے کہا کہ ان پر صرف بےنامی دار ہونے کا الزام لگایا گیا جبکہ وہ نہ صرف بے نامی دار ہیں بلکہ انہوں نے شریک ملزمان کی معاونت بھی کی۔ حمزہ منی لانڈرنگ میں سہولت کار، ساتھی اور فائدہ حاصل کرنے والے ہیں۔نیب پراسیکیوٹر نے حمزہ شہباز کے مربوط نیٹ ورک کا چارٹ عدالت میں پیش کیا، جس کے مطابق شریک ملزم فضل داد عباسی ملزم حمزہ شہباز سے کیش لے کر شاہد شفیق کو دیتے تھے، منی لانڈرنگ کے لیے پانچ، چھ افراد کے ہاتھوں سے رقم ہو کر حمزہ شہباز کے قریبی عزیزوں کے اکاؤنٹس میں جاتی تھی۔

دوسرئ طرف حمزہ کے وکیل اعظم نذیر تارڈ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان الزامات کے خلاف وہ عدالت کو پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ نیب نے جو بھی الزامات لگائے وہ ٹرائل کورٹ میں ثابت نہیں کر سکے، ریفرنس بنانے کے بعد ثبوت ابھی تک پیش نہیں ہوسکے۔ اعانت جرم کے الزام میں دشواری کی بنیاد پر ضمانت کی درخواست دائر کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی، ٹرائل کی تاخیر کے معاملے پر کئی فیصلے آ چکے ہیں، عدالت کو آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت اختیارات ہیں کہ تاخیر کی بنیاد پر ضمانت منظور کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملزم احتساب عدالت میں طلب کرنے پر پہلے بھی پیش ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی پیش ہوں گے، انہیں مزید حراست میں رکھنے کا جواز نہیں۔عدالت نے دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد حمزہ شہباز کی ضمانت ایک، ایک کروڑ روپے کے دو ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button