کیا سلیکٹرز واقعی اپنے ہی سلیکٹڈ کپتان سے خوف زدہ ہیں؟

تحریک انصاف کے دو سالہ اقتدار کے دوران حکومت کی ہر محاذ پر ناکامی کے باوجود سلیکٹرز ایک ناکام ترین کپتان کو ہٹانے کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں کیونکہ حکومت ان کے گلے میں پھنسی ایک ایسی ہڈی بن چکی ہے جو کہ نہ تو نگلی جارہی ہے اور نہ ہی اگلی۔ تاہم کپتان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ دراصل یہ ان کے لیڈر کا خوف اور دبدبہ ہے جس نے طاقتور غیر سیاسی حلقوں کو انکے خلاف کسی قسم کی محلاتی سازش کرنے سے روک رکھا ہے۔ تاہم پاکستانی سیاسی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے یوتھیوں کے اس تھیسز سے بالکل بھی اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تیزی سے غیر مقبول ہوتا عمران اسٹیبلشمنٹ کے لئے مکمل طور پر بوجھ بن جائے گا تو اس کا بھی انجام وہی ہوگا جو ماضی کے وزرائے اعظم کا ہوتا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ابھی اسٹیبلشمنٹ نے کپتان کو تبدیل کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ موجودہ اقتدار فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہے اور عمران خان صرف ایک پتلی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کے اہم داخلی اور خارجی معاملات پر بھی فیصلہ سازی اسٹیبلشمنٹ ہی کے کہنے پر کی جا رہی ہے لہذا ابھی عمران خان اسے سوٹ کرتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک ناکام حکومت کو اقتدار میں لانے اور چلانے کی ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ نہیں سمجھتی کہ ایک ناکام سرکار کی سرپرستی کرنے سے اس کا اپنا تاثر خراب ہو رہا ہے۔ اس کا جواب تجزیہ نگار کچھ یوں دیتے ہیں کہ عوام کو جواب سلیکٹرز نے نہیں دینا ہوتا بلکہ سیاست دانوں نے دینا ہوتا ہے اور اگر عمران ناکام ہوگا تو اس کا نقصان تحریک انصاف اور وزیر اعظم کو ہوگا فوجی اسٹیبلشمنٹ کو نہیں۔
آج کی صورتحال یہ ہے کہ ملک کی مخدوش معاشی صورتحال کے باعث عمران خان اس وقت غیر مقبول ہوتے جا رہے ہیں ان کی یہی غیرمقبولیت ان کے اقتدار کو بالآخر خاتمے کی طرف لی جائے گی۔اپوزیشن کے حلقوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ عمران خان کو اقتدارسے نکالنے کی خواہش اب صرف ان کی ہی نہیں ہے بلکہ غیر سیاسی حلقے بھی اس حوالے سے اپنا ذہن بنا چکے ہیں اور اب مناسب موقع کی تلاش میں ہیں۔ لیکن شنید یہی ہے کہ ابھی انہیں کپتان کو بیدخل کرنے کے بعد کے منظر نامے کے حوالے سے کوئی واضح راستہ سجھائی نہیں دے رہا۔
دراصل کپتان کی اقتدارسے بے دخلی دو بنیادی نکات کے اردگرد گھومتی ہے۔ اول یہ کہ ان کا متبادل کون ہوگا ؟ دوئم یہ کہ اقتدارسے بے دخلی پر کپتان کا ردعمل کیا ہوگا؟ ملکی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار اعزاز سید کے مطابق کپتان کے متبادل کے طور پر تین راستے واضح ہیں۔ اول یہ کہ ان ہائوس تبدیلی کے ذریعے پی ٹی آئی کے اندرسے نیا وزیراعظم لایا جائے۔ دوئم یہ کہ پارلیمنٹ کے اندرسے اپوزیشن کے کسی قابل قبول چہرے کو وزیراعظم بنا دیا جائے اور سوئم یہ کہ ملک میں نئے انتخابات کروا دئیے جائیں۔ پارٹی کے اندرسے تبدیلی کا پہلا آپشن شاید عمران خان کو قبول نہیں ہوگا۔ پارلیمنٹ کے اندرسے اپوزیشن کو موقع دینے کا آپشن بلاول بھٹوکی سربراہی میں پیپلز پارٹی کو قبول ہے مگر پنجاب سے مسلم لیگ ن کے تعاون کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ سب سے آخری یعنی عام انتخابات کا آپشن مسلم لیگ ن کو قبول ہے مگریہ شاید اس لیے قابل عمل نہیں کہ ملکی خزانہ خالی ہے اور ملک کی کمزور معیشت عام انتخابات کے اخراجات جھیلنے کے قابل نہیں۔
اعزاز سید کے مطابق ایک اور اہم سوال عمران کے ردعمل سے متعلق ہے۔ یہ سوال عمران کے متبادل سے زیادہ اہم ہے۔ اس پردو خیال ہیں۔ اول یہ کہ عمران خاموشی سے گھر چلے جائیں گے اور دوسرا یہ کہ وہ بھرپو رردعمل کا مظاہرہ کریں گے اور ڈی چوک پہنچ کر اپنے محسنوں پر حملہ آور ہو جائیں گے۔ اعزاز سید کے مطابق مقتدر حلقوں سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ حکام نجی محفلوں میں یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ ہم عمران خان سے تنگ ہیں مگر ہمیں ڈر ہے کہ یہ شخص کہیں فراغت کی صورت میں بھڑک ہی نہ اٹھے۔ اس لئے ہم دیکھو اورانتظار کرو کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ تاہم دوسری طرف اس خیال کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ کپتان کو اقتدار میں لانے والی غیر سیاسی قوتیں اتنی کمزور نہیں ہیں کہ اپنی بنائی گئی کٹھ پتلی کو سنبھال نہ پائیں۔
