کیا طالبان افغانستان کو چلانے کے قابل ہیں بھی یا نہیں؟

طالبان نے امریکہ کو شکست دے کر افغانستان پر قبضہ تو کر لیا ہے لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا ان کے پاس ملک چلانے کی صلاحیت ہے اور کیا وہ افغانستان کو چلا بھی پائیں گے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے حال ہی میں افغانستان سے واپس آنے والے سینئر صحافی اعزاز سید کا کہنا ہے کہ سچ تو یہ ہے کہ افغان طالبان نے ایک مہذب جمہوری انداز کی بجائے بندوق کے بل بوتے پر حکومت حاصل کی ہے لیکن انہیں معلوم نہیں کہ حکومت کی شکل میں انہیں ایک سزا دی گئی ہے تاکہ وہ غلطیاں کریں اور دنیا ان کا ناطقہ بند کر دے لہٰذا طالبان کو چاہئے کہ وہ تمام تر ناراض افغان گروپوں سے رابطہ کرکے انہیں حکومت میں شامل کریں اور ساتھ چلائیں ورنہ اگر خانہ جنگی شروع ہو گئی تو ملک دوبارہ بربادی کے راستے پر چل پڑے گا۔

اعزاز سید کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کی معیشت اس کی قسمت کا فیصلہ کرتی ہے لیکن افغانستان میں مسئلہ یہ ہے کہ طالبان کی معیشت اور گورننس کے اہم ترین شعبوں میں بظاہر کوئی مہارت نہیں ہے۔ ابتدا میں افغان طالبان کی طرف سے مرکزی بینک کا گورنر ایسے شخص کو تعینات کیا گیا جو معیشت کی الف ب بھی نہیں جانتا تھا۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ طالبان کو تو احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کا طریقہ بھی نہیں آتا، اسی لئے جہاں کہیں احتجاج ہوتا ہے اکثر طالبان ہوائی فائرنگ کے ذریعے اس سے نمٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اعزاز سید کہتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان کے اقتدار میں آنے سے دنیا بھر میں جاری اسلامی تحریکوں کو ایک نئی تقویت ملی ہے۔ ایک طرف اسلام پسند قوتوں کی اکثریت طالبان کو ایک نمونے کے طور پرپیش کر رہی ہے تو دوسری طرف اسلام مخالف قوتیں اسے ایک نیا خطرہ تصور کر رہی ہیں بظاہر چین کا نام نئے خطرے کے طور پر ببانگ دہل لیا جا رہا ہے مگر اس کے ساتھ افغانستان کے تناظرمیں طالبان یا سیاسی اسلام بھی خطرے کے طور پر سرگوشیوں میں موجود ہے۔ بین الاقوامی قوتیں ہوں یا علاقائی ممالک، مذہب پسند قوتیں ہوں یا مذہب بیزار، سب کی ایک تشویش مشترک ہے اور وہ یہ کہ کیا طالبان افغانستان حکومت کوکامیابی سے چلا پائیں گے یا نہیں؟ اگرطالبان حکومت کامیابی سے چلا پائے توخطہ امن کا گہوارہ ہوگا اورترقی کے ثمرات سے سب مستفید ہونگے لیکن اگرایسا نہ ہوپایا تو سب سے پہلے افغانستان کے 6 پڑوسی ممالک یعنی پاکستان، ایران، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان اور پھر دنیا بھر کو مختلف انداز میں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

اعزاز سید کہتے ہیں کہ پہلے تو یہ دیکھ لیں کہ حکومت کو کامیابی سے چلانے کے لئے وہ کون سے شعبے ہیں، جن میں طالبان کو کارکردگی دکھانا ہوگی۔ وہ تین شعبے ہیں، اول معیشت، دوئم، مقامی، علاقائی و بین الاقوامی امن عامہ اورسوئم انسانی حقوق۔ معیشت کی صورتحال یہ ہے کہ اگست کے مہینے سے افغان وزارت دفاع، خارجہ، اعلیٰ تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد سمیت اہم اداروں کے ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں۔ افغان حکومت نے بلدیہ، محکمہ ڈاک، بجلی اورچند دیگر چھوٹے اداروں کو تنخواہ دی ہے لیکن امریکہ کی طرف سے افغان حکومت کے 9 ارب ڈالرز فریز کیے جانے کے بعد سے ڈالرکا افغانستان کے مرکزی بینک کے ساتھ کاروبارمعطل ہے۔ نتیجے میں افغان بینکوں میں بھی کاروبار عملی طورپربند ہے۔ پیڑول اوراشیا خورونوش کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے۔

اعزاز کہتے ہیں کہ میں اس بات پر قائل ہوں کہ طالبان افغانستان میں مجموعی طورپرامن لانے کی مکمل اہلیت و صلاحیت رکھتے ہیں۔ فی الحال طالبان کواندرونی طورپر داعش کے چیلنج کا سامنا ہے اگر داعش کے پیچھے کوئی ریاستی سپورٹ نہ ہوئی تویہ کم ازکم طالبان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں۔ طالبان کیلئے القاعدہ، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، ٹی ٹی پی و دیگراس وقت مسئلہ ضرور پیدا کرسکتی ہیں کہ جب ان جماعتوں میں سے کسی نے بین الاقوامی یا علاقائی طورپرکسی عسکری کارروائی میں حصہ لیا اورتحقیقات کے نتیجے میں اس کے تانے بانے افغانستان سے نکل آئے۔ ایسے میں تمام طالبان مخالف قوتیں ان کی حکومت ختم کرنے کے درپے ہوجائیں گی۔طالبان کی طرف سے عالمی سطح پر جو تشویش سب سے زیادہ پائی جاتی ہے وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں۔ طالبان نے عورتوں کے حالیہ احتجاجوں کو جس اندازسے روکا ہے اس سے دنیا بھر میں ان کے بارے میں پہلے سے موجود تشویش میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔ یہ معاملہ بھی عالمی سطح پرایک بڑا بحران پیداکرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اعزاز کہتے ہیں کہ طالبان نے بندوق کے زور پر ملک واپس حاصل کیا ہے اور وہ اب بھی اسی مائینڈ سیٹ کے ساتھ چل رہے ہیں لیکن اگر انہیں افغانستان کو کامیابی سے چلانا ہے تو ضروری ہے کہ وہ ناراض افغان گروپوں کو منا کر انہیں حکومت میں شامل کریں اور معیشت جیسے اہم امور اپنے ہاتھ میں رکھنے کی بجائے یہ ذمہ داری ماہرین معیشت کو دیں۔ دوسرا اہم کام افغان عوام خو خوف کی فضا سے نکال کر ان کا اعتماد بحال کرنا یے تا کہ افغانستان دنیا میں ایک ناکام ریاست کی بجائے ترقی یافتہ ریاست کے طور پر آگے بڑھ سکے مگر سوال وہی ہے کہ آیا طالبان ایسا کرتے بھی ہیں یا نہیں؟ وقت جلد یا بدیر اپنا فیصلہ سنا دے گا۔

Back to top button