کیا وفاق میں اگلی حکومت نواز لیگ بنائے گی؟


اسلام آباد کے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں آج کل یہ سوال زیر بحث ہے کہ کپتان حکومت کی ناکام ترین کارکردگی کے بعد اگلے الیکشن میں کون سی جماعت وفاق میں اگلی حکومت بنائے گی؟ اس حوالے سے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہمیشہ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ناطے پنجاب ہی طے کرتا ہے کہ اسلام آباد میں کون سی جماعت حکومت بنائے گی۔ انکا کہنا ہے کہ تحریک انصاف حکومت کی ناکامی اب عیاں ہو چکی ہے جسکی واضح نشانیاں ضمنی انتخابات کے نتائج کو صورت میں سامنے آ رہی ہیں جن میں نواز لیگ سر فہرست رہی ہے لہازا اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگر آئندہ الیکشن میں جھولوں نہ پھیرا گیا اور آڑ ٹی ایس سسٹم نہ بٹھایا گیا تو وفاق میں آئندہ حکومت نواز لیگ کی ہی قائم ہو گی۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے انتخابی امکانات کا اندازہ کرنے کے لئے یہ ایک دلچسپ وقت ہے، جس کا آغاز صوبہ پنجاب سے ہوتا ہے۔ یہاں بشمول اسلام آباد 272 میں سے براہ راست منتخب ہونے والی 144 نشستیں ہیں۔ اگرچہ 1988 اور 2008 کے الیکشنز میں مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں کامیابی حاصل کی لیکن پھر بھی وہ قومی سطح پر اکثریت نہ لے پائی اور پیپلز پارٹی پنجاب میں شکست کے باوجود اسلام آباد میں حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔ واضح رہے کہ پاکستان میں تین اہم سیاسی جماعتیں پی ایم ایل این ، پیپلز پارٹی اور حکمران جماعت پی ٹی آئی ہیں۔ لیکن ن لیگ کے سوا کسی بھی دوسری جماعت کے پاس پنجاب میں اگلے انتخابات میں واضح کامیابی کا امکان نظر نہیں آتا ہے۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کا معاملہ دیکھیں تو واضح نظر آتا ہے کہ یہ سندھ کی سب سے بڑی پارٹی ہے جس نے وہاں حالیہ ضمنی انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ سے زیادہ یہ پنجاب ہی تھا جو اپنے ابتدائی برسوں میں پیپلز پارٹی کا سب سے مضبوط گڑھ رہا۔ در حقیقت ، 1970 کے انتخابات میں ، پیپلز پارٹی کو سندھ میں سادہ اکثریت نہیں ملی تھی۔ لیکن اس نے پنجاب میں قومی اسمبلی کی دو تہائی نشستیں جیت لی تھیں۔ دوسری جانب عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں سادہ اکثریت حاصل کرلی تھی لیکن مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد ، پیپلز پارٹی نے اسلام آباد میں حکومت بنائی۔ اس کی بنیادی وجہ پنجاب میں انتخابی طاقت ہی تھی۔ یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی 1988 کے انتخابات تک پنجاب میں ایک پاور ہاؤس رہی جب اسے نواز شریف کی طرف سے پہلے انتخابی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔
اسکے بعد آہستہ آہستہ پیپلز پارٹی نے پنجاب میں اپنی مقبولیت کھو دی- 1997 کے عام انتخابات پیپلزپارٹی کی پنجاب میں حکمرانی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئے۔ پیپلز پارٹی نے 2002 کے انتخابات میں یہاں نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی کی لیکن اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ مسلم لیگ (ن) کو اس وقت کے فوجی حکمران جنرل مشرف کی جانب سے جبر کا سامنا تھا۔ 2008 کے عام انتخابات آخری معرکہ تھے جب پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب میں معقول سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی تھی لیکن اس کے بعد سے وہ پنجاب کے کسی بھی حصے میں کوئی اثر ڈالنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک پی ٹی آئی صرف ایک وقتی رجحان ہے جس نے 2013 کے انتخابات میں پہلا اثر ڈالا۔ 1996 میں پارٹی کی تشکیل کے بعد ، اس نے 1997 کے انتخابات میں انتخابی آغاز کیا تھا۔ 2002 میں تحریک انصاف صرف ایک سیٹ جیت سکی۔ 2008 کے انتخابات کا عمران خان نے بائیکاٹ کردیا تھا – 2013 کے عام انتخابات میں بھی تحریک انصاف صرف 30 سیٹیں جیت سکتی تھی ، جن میں سے اکثریت خیبر پختون خوا کی ہی تھی۔ یہ پنجاب میں بری طرح ہار گئے لیکن بعد میں ہنگامہ برپا ہوگیا ، جس کا اختتام 126 دن کے مشہور دھرنے پر ہوا۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے تین دہائیوں سے پنجاب میں سیاست پر غلبہ حاصل کیا ہے۔ 1988 میں اپنی پیپلزپارٹی مخالف انتخابی اتحاد آئی جے آئی سے انتخابی سیاست کا آغاز کرتے ہوئے ، یہ پنجاب بھر میں سب سے زیادہ مقبول سیاسی جماعت رہی ہے۔ پارٹی کے مخالفین اکثر غیر جمہوری قوتوں کی حمایت کے نتیجے میں پنجاب میں اکثریت سے ووٹ حاصل کرنے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اگر یہ سچ ہے تو ، 2008 کے انتخابات میں اس کی نمایاں کارکردگی کی کیا وجہ ہے جب جنرل مشرف صدر تھے اور ان کی کنگز پارٹی مسلم لیگ (ق) پنجاب میں بالادستی کے لئے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مقابلہ کررہی تھی۔ نواز شریف اور شہباز شریف کاغذات نامزدگی جمع کروانے سے ایک دن پہلے ہی پاکستان واپس آئے تھے- منصوبہ بندی اور تیاری کے لئے بمشکل ہی وقت تھا۔ کہا جاتا ہے کہ 2013 میں مسلم لیگ (ن) کی نمایاں کارکردگی ، پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے 2008-2013 کے دوران بڑے پیمانے پر ترقیاتی کاموں کا قدرتی نتیجہ تھا ، جس کی سربراہی شہباز شریف نے وزیر اعلی کی حیثیت سے کی۔
2018 کے انتخابات میں کامیابی کا اختتام ہونے کے باوجود ، مسلم لیگ (ن) نے اب بھی پنجاب میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ یہاں تک کہ نواز شریف اور مریم نواز کو سلاخوں کے پیچھے رکھنے کے بعد بھی پارٹی تمام تر مشکلات کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہی اور اس نے اپنے پنجاب کے مضبوط گڑھ میں کامیابی حاصل کی۔ پنجاب میں نواز لیگ کی مضبوط شہری مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ اسکی قیادت تعلیم یافتہ اور متوسط ​​طبقے میں اپنی اپیل برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کی یہی طاقت ہے۔ یہ الیکٹ ایبلز پر انحصار کرتی ہے۔ 80 کی دہائی میں سیاست میں آنے کے بعد سے نواز شریف ایک مقبول رہنما رہے ہیں اور اب مریم نواز کے حوصلے اور ہمت نے پارٹی کے انتخابی امکانات کو مزید تقویت بخشی ہے۔
چنانچہ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پنجاب میں حالیہ ضمنی انتخابات نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں سب سے زیادہ مقبول سیاسی جماعت ہے اور اگر اس کو بھی کھیل کا میدان دیا گیا تو شاید وہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی اور اسلام آباد میں اگلی حکومت بنائے گی۔

Back to top button