کیا ہائبرڈ جمہوریت کی ویکیسن کامیاب ہو گئی؟


پاکستان میں کرونا سے بچاؤکی ویکیسین تو تیار نہیں کی جاسکی لیکن فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے جمہوریت کے موذی وائرس کا پھیلائو روکنے کے لئے تیار کردہ ہائبرڈ جمہوریت نامی منفرد ویکیسن ٹرائلز کے بعد اب تک کی کامیاب ترین ویکسین ثابت ہوئی ہے۔ یہ اور بات کے اس عسکری ویکسین کے سائیڈ افیکٹس انسانی جان تو نہیں لیتے لیکن انسانی ضمیر اور اجتماعی قومی شعور کو مردہ کر دیتے ہیں۔
سنیئر صحافی مظہر عباس روزنامہ جنگ کے لئے اپنی طنزیہ تحریر میں کہتے ہیں کہ تمام اہلِ وطن کو مبارک ہو کہ پاکستان نے جمہوریت کے وائرس کا پھیلاو روکنے کے لیے ایک موثر اور قابل عمل ہائبرڈ جمہوریت ویکسین تیار کرلی ہے جو ابتدائی ٹرائلز میں پاس ہونے کے بعد اب ہر شعبہ ہائے زندگی میں اپلائی کی جا رہی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ جمہوری وائرس کے مکمل خاتمے کے لئے 2023 تک تمام اہل وطن کو ہائبرڈ جمہوریت کی ویکسین لگانے کی منصوبہ کی جا چکی ہے۔ ملک کے بڑوں کے مابین متفقہ طور پر طے پایا ہے کہ اب میدان سیاست میں صرف وہی داخل ہوسکے گا جسے یہ ویکسین لگ چکی ہو گی۔ ملک کی جن اہم سیاسی شخصیات میں اب بھی تھوڑی بہت جمہوری وائرس کی علامات پائی جا رہی ہیں ان کو بھی مشورہ دیا جارہا ہے کہ وہ جلد یہ ویکسین لگوالیں تاکہ سیاست میں اُن کی واپسی ہو سکے۔ مظہر عباس کہتے ہیں کہ یہ بات طے ہے کہ اس ویکسین کو لگوائے بغیر جمہوری وائرس کا شکار سیاستدان اگلے انتخابی عمل میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہائیبرڈ ویکسین کے استعمال کے بعد اب کوئی مزاحمتی تحریک نما وائرس ملک میں نظر نہیں آئے گا، اور ہر طرف مفاہمت کا بول بالا ہوگا۔ اس ویکسین سے جمہوریت پسند بھی خوش ہیں کہ بات آگے بڑھ رہی ہے اور جمہوریت کے مخالفین کو بھی اطمینان کہ کم ازکم نظام کو ہائبرڈ تو کیا گیا۔
مظہر عباس کے خیال می اس ویکسین کو لگانے کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ آپ کے اندر فوراً اینٹی باڈیز بننے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ آپ فوراً جدوجہد، احتجاج، دھرنے اور ہڑتال جیسی خرافات سے اجتناب کرنے لگتے ہیں اور صحیح معنوں میں ’محب وطن‘ بن جاتے ہیں کیونکہ یہ ویکسین ’غداری‘ کی علامات زائل کرے دیتی ہے۔ ایک بات بہرحال ہماری ریاست نے طے کر لی ہے کہ جو سیاستدان ہابرڈ ویکسین لگوانے کے عمل سے نہیں گزرے گا اس پر سیاست کے دروازے بند رہیں گے جبکہ دوسری جانب اس سے فائدہ اٹھانے والے وزیر بھی بن سکتے ہیں اور وزیر اعظم بھی۔
مظہر کہتے ہیں کہ اب دیکھیں نا یہ اس ’ہائبرڈ جمہوریت ویکسین ‘ کا ہی تو کمال تھا کہ آئین شکن ڈکٹیٹر مشرف پاکستان سے باعزت طریقے سے فرار ہوا اور بڑے سے بڑا الزام بھی اسے دبئی جانے سے نہ روک سکا۔ مظہر کے بقول اب ہم ایک قدم آگے جارہے ہیں اور پہلی بار موجودہ وزیر اعظم اپنے پانچ سال بھی پورے کریں گے اور نئے الیکشن کااعلان بھی کریں گے۔ رہ گیا معاملہ دوبھائیوں کا تو ایک نے تو یہ ویکسین لگوائی ہوئی ہے، دوسرا مارے خوف کے لگوانے کو تیار نہیں۔ انکا کہنا ہے کہ چھوٹے بھائی اسی لیے لندن جانا چاہتے تھے کہ وہ بھائی جان کو تیار کر لیں گے کہ 2023 سے پہلے یہ ویکسین لگوالیں ورنہ آپ واپس نہیں آسکتے۔ یعنی ’نو ویکسین نو انٹری‘۔
مظہر عباس کے مطابق اصل میں ہمارے لوگوں کو تاریخ کا صحیح طرح پتا نہیں ہے۔ میاں صاحب کو تو لایا ہی ایک ’ ویکسین‘ کے طور پر گیا تھا تاکہ ملک سے نظریاتی سیاست کے خطرناک وائرس کا خاتمہ کیا جاسکے۔ تجربہ تو کامیاب رہا مگر وائرس کی نئی علامات سامنے آ گئیں جن میں کرپشن وائرس نمایاں ترین ہے۔ اس نے پورے نظام کا ہی بیڑہ غرق کر دیا مگر چونکہ اس ملک میں وائرس کا شکار صرف سیاسی لوگ ہوتے ہیں لہٰذا تجربات بھی انہی پر ہوتے ہیں، باقیوں کی تو اینٹی باڈیز بنتی رہتی ہیں۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ اب آپ لوگ اطمینان رکھیں، اس ملک میں کوئی حسن ناصر اور نظیر عباسی اب کسی ٹارچر سیل میں نہیں مارا جائے گا۔ کوئی ذوالفقار علی بھٹو پھانسی نہیں چڑھے گا۔ اب ہم سب ایک ایسی جمہوریت کے مسافر ہوں گے جو نظر آئے گی مگر ہوگی نہیں، جیسے انتخابی نتائج قبول نہیں کیے جاتے مگر ہرائے جانے والے بھی پارلیمنٹ کا حصہ بنے رہتے ہیں اور اپنے وقت کا انتظار کرتے ہیں۔ مظہر کہتے ہیں کہ چونکہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون اور اب ایک تناور درخت بن گیا ہے، لہٰذا اس کے لئے بھی یہ ضروری قرار دیا گیا کہ صحافیوں بشمول اینکرز کو بھی یہ ’ویکسین‘ لگوائی جائے۔ ان میں سے جن صحافیوں نے ہائبرڈ ویکسین لگوانے سے انکار کیا انہیں قرنطینہ کر دیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس ویکسین کی وجہ سے اب ملک میں کوئی مارشل لا نہیں لگے گا، کوئی پھانسی نہیں چڑھے گا اور 2023 تک سب’ہائبرڈ ‘ ہو جائیں گے۔ پھر بھی اگر جمہوری وائرس نے دوبارہ سر اٹھایا تو ملک و قوم کے عظیم تر مفاد میں اور اس نظام کو بچانے کے لئے ’ڈاکٹرز‘ اپنی پوری ذمہ داری سے ’جمہوری وائرس‘ سے متاثرہ مریضوں کا مکمل علاج کرائیں گے وہ بھی مفت۔ لہازا سیاستدانوں کو مشورہ ہے کہ وہ ’ہائبرڈ‘ جمہوریت ویکسین‘ لگا کر آگے بڑھیں کیونکہ اب سیاست میں رہنے کا یہی راستہ باقی بچا ہے۔

Back to top button