مندر حملہ کیس:سپریم کورٹ کا ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم

چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب انعام غنی اورچیف سیکرٹری کی سرزنش کرتے ہوئے کہا مندرپرحملہ ہوا،انتظامیہ اورپولیس کیا کر رہی تھی جس پر آئی جی پنجاب نے بتایا کہ اے سی اوراے ایس پی موقع پرموجودتھے ، انتظامیہ کی ترجیح مندر کے آس پاس 70 ہندو گھروں کا تحفظ تھا۔ چیف جسٹس نے سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈی پی او، ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کام نہیں کر سکتے تو ہٹا دیں۔
جس کے جواب میں آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات لگائی گئی ہیں۔ سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے مندرکی توڑ پھوڑ سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس گلزا ر احمد نے ریما رکس دئیے کہ پولیس نے 8سالہ بچے کو گرفتار کرکے اس کا جوڈیشل ریمانڈ لیا، کیا ایس یچ او کو علم نہیں تھا کہ جس کوانہوں نے گرفتارکیا وہ بچہ ہے ،8سالہ بچے کو مذاہب کاکیاپتہ؟
جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ جس بچے کو گرفتار کیا گیا اس کو ایس ایچ او بھی ضمانت پر رہا کرسکتا تھا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ بچے کو عدالت نے ضمانت پر رہا کیا اورسکیورٹی بھی دی ہے، واقعے کے بعد پولیس افسر پاکستان ہندو کاونسل رہنما رمیش کمارسے رابطے میں تھا،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ جس ایس ایچ او نے بچے کو گرفتار کیا اس کو نوکری سے فارغ کردینا چاہئیے جس پر پولیس حکام کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کو معطل کردیں گے۔
چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ پولیس والے کو معطل کرنے سے کچھ نہیں ہوگا،معطلی کے بعد صرف کمائی بند ہو جاتی ہے وہ سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انتظامیہ کوفارغ کریں وہ صرف زندگی انجوائے کر رہے ہیں۔جسٹس قاضی امین نے آئی جی سےاستفسار کیا کیا کوئی گرفتاری کی گئی؟ آئی جی پنجاب نے بتایا ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا وزیر اعظم نےبھی معاملےکانوٹس لےلیاہے، جس پر جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے پولیس اپنی ذمہ داری اداکرنےمیں ناکام ہوئی ، پولیس ملزمان کی ضمانت اور صلح کروائے گی اور سرکاری پیسے سےمندر کی تعمیر ہو گی۔
چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا واقعے کو3 دن ہوگئے ایک بندہ پکڑا نہیں گیا ، واقعے پرپولیس کی ندامت دیکھ کر لگتا ہے ان میں جوش ولولہ نہیں، قابل افسر ہوتے تو اب تک یہ معاملہ حل ہو چکا ہوتا۔ دوران سماعت سپریم کورٹ نے مندر حملہ کیس کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دندناتے پھرتے ملزمان ہندو کمیونٹی کے لیے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوؤں کامندر گرا دیاسوچیں ان کے دل پر کیا گزری ہو گی، سوچیں مسجد گرا دی جاتی تومسلمانوں کا کیا ردعمل ہوتا۔ اس واقعہ سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی، پولیس نے ماسوائے تماشہ دیکھنے کے کچھ نہیں کیا ۔بیوروکریسی صرف تنخواہیں اور مراعات لے رہی ہے۔ جسٹس قاضی امین کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کی پارلیمنٹس واقعے پر تشویش کا اظہارکر رہی ہیں، اقلیتوں کو تحفظ کا احساس ہونا چاہئے جس پر چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا بے لگام سوشل میڈیامسئلےکی بنیادی وجہ ہے، عبدالرزاق سومرونامی شخص نےسوشل میڈیا پرپوسٹ لگائی، گزشتہ محرم میں کافی لوگوں کوسوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سےگرفتار کیا۔
چیف جسٹس نے شر پسندی پر اُکسانے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا اور مندر کی بحالی کے اخراجات بھی ملزمان سے وصول کرنے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ نے کمشنر رحیم یار خان کی کارکردگی پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا اور رحیم یار خان کے متاثرہ علاقے میں قیام امن کے لیے ویلیج کمیٹی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یقینی بنایا جائے کہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔عدالت نے آئی جی اور چیف سیکریٹری سے ایک ہفتے میں پیشرفت رپورٹ بھی طلب کر لی۔ جس کے بعد رحیم یارخان میں مندر کی توڑپھوڑ سے متعلق کیس کی سماعت 13 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے مندر واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا۔ چیف جسٹس نے ازخود نوٹس چیئرمین ہندو کونسل و رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار سے ملاقات کے بعد لیا تھا۔
چیف سیکٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کو آج سپریم کورٹ میں طلب کیا گیا تھا۔ قبل ازیں وزیراعظم نے بھی واقعہ کا نوٹس لیا۔ وزیراعظم نے ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا کہ متعلقہ واقعے کی تحقیقات کی جائے۔اور اس میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پولیس کی جانب سے کسی بھی قسم کی غفلت کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ حکومت متاثرہ مندر کو بحال کرے گی۔
واضح رہے کہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد میں بدھ کی رات کو تشویش ناک واقعہ پیش آیا جب صادق آباد میں واقع ایک قدیم مندر پر مشتعل افراد نے حملہ اور توڑ پھوڑ کے بعد مندر کو نذر آتش کر دیا،2 گروپوں کے درمیان ہونے والا جھگڑا مذہبی رنگ اختیار کر گیا تھا جس کے بعد ایک گروپ کے مشتعل افراد نے علاقے میں واقع ہندؤوں کے قدیم مندر پر دھاوا بول دیا۔
جبکہ علاقے میں کشیدگی کی وجہ سے ایم 5 موٹروے بھی بند کر دی گئی۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ یہ واقعہ آئین پاکستان اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ وزارت انسانی حقوق شیریں مزاری بھی رحیم یار خان پولیس کے ساتھ رابطے میں رہیں تاکہ ملزمان کے خلاف ایکشن کو یقینی بنایا جا سکے۔
