PTIرکن اسمبلی کے بیٹے کی سرکاری پاسپورٹ پر اٹلی میں سیاسی پناہ

پاکستان تحریک انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے بیٹے کی جانب سے اٹلی میں مبینہ سیاسی پناہ لینے کے معاملے نے نہ صرف سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی بلکہ سرکاری پاسپورٹس کے استعمال اور ان کے قواعد و ضوابط پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

پی ٹی آئی ایم این اے اقبال آفریدی کے بیٹے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد وزارتِ داخلہ نے بلیو پاسپورٹ کے ممکنہ غلط استعمال کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے، جس کی سربراہی ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کر رہے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر سرکاری پاسپورٹس کو ذاتی مفادات یا غیر متعلقہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا تو اس سے دنیا بھر میں پاکستان کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق بعض ممالک نے پاکستانی سفارتی حکام سے بلیو پاسپورٹ کے استعمال سے متعلق شکایات بھی کی ہیں، جس کے بعد حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ان تمام افراد کا ریکارڈ اکٹھا کیا جا رہا ہے جنہوں نے بلیو پاسپورٹ پر بیرونِ ملک سفر کیا لیکن سرکاری ذمہ داریاں ادا نہیں کیں۔

یہ معاملہ اُس وقت مزید نمایاں ہوا جب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اقبال آفریدی کے بیٹے کا کیس زیرِ بحث آیا۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے اٹلی پہنچ کر اپنا بلیو پاسپورٹ سرنڈر کیا اور سیاسی پناہ کی درخواست دی۔اقبال آفریدی نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے بیٹے کو مبینہ طور پر ریاستی اداروں کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا تھا، جس کے باعث وہ بیرونِ ملک پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ ان کے مطابق ان کا بیٹا ان کی سوشل میڈیا ٹیم کا سربراہ تھا اور اگر نوجوانوں پر دباؤ بڑھایا جائے گا تو ایسے واقعات سامنے آ سکتے ہیں۔

دوسری جانب سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ارکانِ پارلیمنٹ کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ جاری نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے ایک الگ “پاسپورٹ کلب” وجود میں آ رہا ہے، جو عام پاکستانی پاسپورٹ کی اہمیت کو متاثر کر سکتا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں بلیو پاسپورٹ دراصل سرکاری پاسپورٹ کہلاتا ہے، جو مخصوص حکومتی شخصیات اور افسران کو جاری کیا جاتا ہے۔ یہ پاسپورٹ عام گرین پاسپورٹ سے مختلف ہوتا ہے اور اس کے حامل افراد کو کئی ممالک میں خصوصی سفری سہولیات اور ویزا میں آسانی حاصل ہوتی ہے۔ یہ پاسپورٹ عموماً ارکانِ قومی اسمبلی، سینیٹرز، گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے سرکاری افسران اور بعض اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو جاری کیا جاتا ہے۔ارکانِ پارلیمنٹ اور ان کے اہلِ خانہ کو پانچ سال کے لیے بلیو پاسپورٹ جاری کیا جا سکتا ہے، تاہم بچوں کے بچوں کو یہ سہولت حاصل نہیں ہوتی۔ دوسری جانب سرکاری ملازمین کے لیے اب اس پاسپورٹ کی مدت محدود کر دی گئی ہے کیونکہ ماضی میں کئی افسران بیرونِ ملک جا کر مستقل رہائش اختیار کر چکے تھے۔وزارتِ داخلہ کے مطابق اب گریڈ 17 سے 20 تک کے افسران کو محدود مدت کے لیے بلیو پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے جبکہ گریڈ 21 اور 22 کے افسران بعض رعایتوں سے مستثنیٰ ہیں۔

اسی دوران سینیٹ میں ایک ترمیمی بل بھی پیش کیا گیا ہے جس میں سابق ارکانِ پارلیمنٹ اور ان کے زیرِ کفالت بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ دینے کی تجویز شامل ہے۔ حکومت کے بعض ارکان نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بلیو پاسپورٹ کے غلط استعمال سے پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی متاثر ہو سکتی ہے۔وزیرِ مملکت طلال چوہدری نے واضح طور پر کہا کہ اگر سرکاری پاسپورٹس کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا تو اس کے اثرات پورے ملک کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

ناقدین کے مطابق یہ تنازع دراصل صرف ایک سیاسی خاندان یا ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ یہ پاکستان کے سرکاری سفری نظام، عالمی ساکھ اور ریاستی مراعات کے استعمال سے جڑا ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ حکومت اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا بلیو پاسپورٹ واقعی صرف سرکاری ذمہ داریوں کے لیے استعمال ہو رہا ہے یا یہ ایک خصوصی سہولت بن چکا ہے جس سے بعض لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

Back to top button