انڈیا اور پاکستان کے مابین بیک چینل رابطوں کی بازگشت کیوں؟

پاکستان اور انڈیا کے مابین بیک ڈور رابطوں کی خبروں نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا رکھا ہے، جہاں ایک طرف سرکاری سطح پر سخت گیر مؤقف اور گہری سیاسی کشیدگی موجود ہے، وہیں دوسری طرف مذاکرات اور رابطوں کی باتیں آہستہ آہستہ دوبارہ سنائی دینے لگی ہیں۔ حالیہ دنوں میں انڈیا کے اندر بعض اہم شخصیات کے بیانات نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا خطے کی دو بڑی طاقتیں دوبارہ کسی مکالمے کی طرف بڑھ رہی ہیں یا یہ محض بیانیاتی تبدیلی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل تنزلی کا شکار رہے ہیں۔ 2019 میں انڈین فضائی کارروائی، آرٹیکل 370 کے خاتمے اور پھر 2025 کے پہلگام حملے اور اس کے بعد چار روزہ جھڑپ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اس کے بعد سے سفارتی روابط تقریباً منقطع ہیں، سرحدیں بند ہیں، کرکٹ اور تجارت معطل ہیں اور اعتماد کا ماحول تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

تاہم حالیہ عرصے میں انڈیا کی بعض بااثر شخصیات کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہونے چاہییں۔ آر ایس ایس کے ایک سینئر رہنما نے اپنے بیان میں کہا کہ دونوں ممالک کو بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے، جبکہ انڈین فوج کے سابق سربراہ نے بھی اس خیال کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی سطح پر رابطے تعلقات بہتر بنانے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے سابق سفارتکاروں اور ریٹائرڈ فوجی حکام کے درمیان غیر رسمی ملاقاتیں ہو چکی ہیں، جنہیں “ٹریک ٹو ڈپلومیسی” کہا جا رہا ہے۔ اگرچہ ان ملاقاتوں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی، لیکن ذرائع ان کے وجود کی نشاندہی کرتے ہیں۔

پاکستان نے ان بیانات کو مثبت قرار دیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اگر انڈیا کے اندر بات چیت کی آوازیں اٹھ رہی ہیں تو یہ ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ تاہم ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ ابھی تک کسی باضابطہ بیک چینل یا سرکاری مذاکرات کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔

انڈیا کے اندر اس بحث کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانات محض رائے عامہ کو پرکھنے کی کوشش ہیں تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ عوام پاکستان سے بات چیت کے لیے کس حد تک تیار ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان بیانات کے پیچھے عالمی دباؤ اور سفارتی حکمت عملی بھی شامل ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب انڈیا کی خارجہ پوزیشن اور علاقائی تعلقات پیچیدہ مرحلے میں ہیں۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ ان بیانات کو فوری طور پر امن عمل کا آغاز نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ اعتماد کی کمی اور سیاسی اختلافات ہیں، جو کسی بھی مذاکراتی عمل کو انتہائی مشکل بنا دیتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب تک سیاسی قیادت واضح طور پر آگے نہیں بڑھے گی، سول سوسائٹی یا غیر رسمی رابطے صرف علامتی حیثیت رکھیں گے۔

ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ اگرچہ اس وقت مکمل امن عمل کا آغاز ممکن نظر نہیں آتا، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ دونوں ممالک میں ایک بار پھر “مکالمے کے امکان” پر بات ہونے لگی ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ مکمل خاموشی اور تنہائی کی پالیسی پر دوبارہ نظرثانی کی جا رہی ہے۔انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں ماضی کی تلخیاں، سیکیورٹی خدشات اور سیاسی بیانیہ اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، لیکن حالیہ بیانات نے کم از کم یہ دروازہ ضرور کھول دیا ہے کہ بات چیت کا تصور مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

Back to top button