انمول عرف پنکی فلم ہیروئین کی بجائے کوکین کوئین کیسے بنی؟

منشیات فروشی کے الزام پر گرفتار ہونے والی کوکین کوئین انمول عرف پنکی کی زندگی کی کہانی سامنے آ گئی ہے جس کے مطابق وہ 12 سال کی عمر میں فلموں میں کام کرنے کے لیے گھر سے نکلی اور ماڈل بننے کی کوشش کی۔ تاہم اسکا انجام یہ ہوا کہ وہ پہلے جسم فروشی کے دھندے میں پڑی اور پھر جرائم سے جڑی دنیا کی طرف چلی گئی۔
پولیس اور تفتیشی حکام کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق انمول عرف پنکی نہ صرف ایک منظم منشیات نیٹ ورک چلا رہی تھی بلکہ اس کے خاندان کے متعدد افراد بھی اس کاروبار میں شریک تھے۔ پولیس حکام کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی کا تعلق کراچی سے ہے اور وہ 1995 میں شہر قائد میں پیدا ہوئی۔ تفتیشی ریکارڈ کے مطابق اس نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ گرلز اسکول سہراب گوٹھ سے حاصل کی اور بعدازاں مختلف علاقوں میں رہائش اختیار کی، جن میں جمشید کوارٹرز، گلستانِ جوہر اور لاہور شامل ہیں۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ انمول کم عمری ہی سے شوبز انڈسٹری اور ماڈلنگ کی دنیا میں آنے کی خواہشمند تھی۔ ذرائع کے مطابق وہ صرف 12 برس کی عمر میں 2006 کے دوران لاہور منتقل ہوگئی تاکہ فلم اور ماڈلنگ کے شعبے میں قسمت آزما سکے۔ تاہم حالات نے اسے جسم فروشی کے دھندے میں ڈال دیا جس کے بعد وہ جرائم سے جڑی دنیا کی طرف بڑھتی چلی گئی۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ لاہور پہنچنے کے بعد انمول نے نجی تقریبات، پارٹیوں اور فلمی حلقوں میں آنا جانا شروع کیا جہاں اس کے روابط مختلف بااثر شخصیات سے قائم ہوئے۔ اسی دوران اسے منشیات کے استعمال اور خفیہ سپلائی نیٹ ورک کے طریقہ کار کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں، جس نے بعدازاں اسے منشیات کے مبینہ کاروبار کی طرف راغب کیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق مینارِ پاکستان کے قریب اس کی ملاقات عائشہ نامی خاتون سے ہوئی، جس نے اسے رہائش فراہم کی۔ ان دنوں انمول بطور ماڈل مختلف پروڈکشن ہاؤسز اور فلم ڈائریکٹرز سے ملاقاتیں کرتی رہی تاکہ کسی فلم میں کام مل سکے لیکن اسے کوئی کامیابی نہ مل سکی۔ اسی دوران اس کی ملاقات رانا ناصر نامی شخص سے ہوئی جو بعد میں اس کا شوہر بنا۔
تفتیشی حکام کے مطابق رانا ناصر پیشے کے اعتبار سے وکیل تھا اور اسکے ایک انٹرنیشنل کوکین گینگ سے رابطے تھے۔ انمول نے ابتدا میں اسی کے ساتھ مل کر منشیات کے کاروبار میں قدم رکھا اور بعد میں خود اس نیٹ ورک کی اہم کردار بن گئی۔ پولیس کے مطابق ملزمہ نے انٹرنیٹ سے کوکین تیار کرنے کے طریقے سیکھے اور بعدازاں اپنا الگ “برانڈ” بھی متعارف کروایا۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق اس کی تیار کردہ کوکین کو ملک کی مہنگی ترین کوکین میں شمار کیا جاتا تھا اور مخصوص حلقوں میں اس کی خاص مانگ تھی۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ رانا ناصر سے علیحدگی کے بعد انمول نے ایک ریٹائرڈ پولیس افسر رانا اکرم سے شادی کی۔ اسی دور میں اس نے اپنے منشیات نیٹ ورک کو کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر شہروں تک وسعت دی۔ ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی اپنے بھائیوں ریاض بلوچ، محمد ناصر اور شوکت بخش کے ساتھ مل کر پورا نیٹ ورک چلاتی تھی۔ شوکت بخش نیٹ ورک کا خاص کارندہ تھا جبکہ ناصر کی گرل فرینڈ کراچی کی پوش پارٹیوں اور مخصوص حلقوں میں کوکین سپلائی کرنے میں مدد فراہم کرتی تھی۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق ملزمہ کے خاندان کے متعدد افراد کے خلاف اسلحہ آرڈیننس اور نارکوٹکس ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہیں۔ شوکت بخش 2024 میں بوٹ بیسن تھانے میں درج ایک مقدمے میں گرفتار بھی ہوچکا ہے جبکہ ریاض بلوچ اور ناصر کے خلاف سچل، گزری اور بوٹ بیسن تھانوں میں مقدمات موجود ہیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک انتہائی منظم انداز میں کام کرتا تھا۔ لاہور سے خواتین کے ذریعے ٹرینوں اور انٹرسٹی بسوں میں کوکین کراچی بھجوائی جاتی تھی۔ کراچی پہنچنے کے بعد بائیک رائیڈرز مختلف علاقوں میں موجود ڈیلرز تک سامان پہنچاتے تھے۔ یہ منشیات بعدازاں طلبہ، پارٹی سرکلز، بااثر شخصیات اور مخصوص گاہکوں تک پہنچائی جاتی تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک کے ارکان ایک دوسرے سے براہ راست رابطہ کم رکھتے تھے تاکہ گرفتاری کی صورت میں پورا گروہ بے نقاب نہ ہوسکے۔
پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ ادائیگیوں اور مالی لین دین کے لیے جدید آن لائن طریقہ کار اختیار کیا گیا تھا۔ تفتیش کے مطابق موبائل ایپس، بینک اکاؤنٹس اور مختلف افراد کے ناموں پر رجسٹرڈ سمز استعمال کی جاتی تھیں تاکہ اصل شناخت چھپائی جاسکے۔
ابتدائی تحقیقات میں ملزمہ نے انکشاف کیا کہ کراچی میں ماہانہ دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی منشیات فروخت کی جاتی تھیں۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مختلف تھانوں کی پولیس کو ماہانہ لاکھوں روپے ادا کیے جاتے تھے تاکہ پولیس کارروائیوں سے بچا جاسکے۔ پنکی نے دورانِ تفتیش یہ بھی کہا کہ اس کے رائیڈرز کو حراست میں لے کر ایک کروڑ روپے تک کی مجموعی رشوت وصول کی گئی۔ اس نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بعض اہلکاروں کی جانب سے دباؤ اور ہراسانی کے باعث اس نے مبینہ طور پر ایک پولیس اہلکار کے قتل کی منصوبہ بندی تک پر غور کیا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق خفیہ اطلاع ملنے پر کراچی کے علاقے گارڈن ویسٹ میں ایک فلیٹ پر چھاپہ مارا گیا جہاں مبینہ طور پر کوکین تیار اور فروخت کی جارہی تھی۔ کارروائی کے دوران انمول عرف پنکی کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ بڑی مقدار میں منشیات اور کیمیکل برآمد کیے گئے۔
کراچی کی “کوکین کوئن” پنکی کے سیاسی و سرکاری روابط بے نقاب
حکام کے مطابق فلیٹ سے 1540 گرام کوکین، 6970 گرام مختلف کیمیکل اور خام مال برآمد ہوا۔ قبضے میں لی گئی اشیاء میں بیکنگ پاؤڈر، ایفیڈرین، کیٹامین اور کوکین ہائیڈرو کلورائیڈ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک پستول، دو میگزین اور 10 راؤنڈ بھی برآمد کیے گئے جبکہ ملزمہ اسلحے کا لائسنس پیش نہ کرسکی۔ پولیس نے چھاپے کے دوران نقد رقم، موبائل فونز، بلینک چیکس، اہم دستاویزات اور دیگر سامان بھی تحویل میں لے لیا۔ تفتیشی ادارے ان موبائل فونز اور مالی ریکارڈ کی مدد سے نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ کرداروں تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تحقیقات میں یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمہ نے گلگت میں ایک ہوٹل قائم کر رکھا تھا۔ حکام کو شبہ ہے کہ ہوٹل کو سرمایہ کاری اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ وہ تقریباً پانچ سال قبل بھی پنجاب پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوئی تھی لیکن مبینہ طور پر بھاری رشوت دے کر رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ متعلقہ حکام اب اس دعوے کی بھی چھان بین کررہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق اس کیس نے نہ صرف منشیات کے بڑھتے ہوئے منظم نیٹ ورکس بلکہ ممکنہ کرپشن، مالی معاونت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جڑے کئی سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جارہا ہے اور جلد مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
