پاکستان نے ایران جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا : صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کا فیصلہ مختلف ممالک کی درخواست پر کیا گیا، جس میں انہوں نے خاص طور پر پاکستان اور فیلڈ مارشل کا ذکر کرتے ہوئے تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی تیل خریدنے والی چینی کمپنیوں پر عائد پابندیاں ختم کرنے سے متعلق چند روز میں فیصلہ کیا جائے گا۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دورۂ چین کے بعد اپنے خصوصی طیارے ’ایئر فورس ون‘ میں میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے کہاکہ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کا فیصلہ براہ راست اپنی ترجیح پر نہیں بلکہ دیگر ممالک کی درخواست پر کیا۔خاص طور پر پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کی درخواست کی گئی تھی۔ میں ذاتی طور پر اس کےحق میں زیادہ نہیں تھا، لیکن ہم نے اسے ایک رعایت کے طور پر قبول کیا۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیاکہ امریکا نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو بڑی حد تک ختم کردیا ہے۔اسی گفتگو میں انہوں نے مستقبل کے ممکنہ اقدامات کا اشارہ دیتے ہوئے کہاکہ صورت حال کےمطابق امریکا کو ایران میں تھوڑا سا ’کلین اپ‘ دوبارہ کرنا پڑسکتا ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے یومیہ 500 ملین ڈالر کا کاروبار کرتا ہے اور ناکہ بندی کے ذریعے ایران کی تجارت کو روکا گیا۔
صدر ٹرمپ نے دورۂ چین میں ہونےوالی پیش رفت سے آگاہ کرتےہوئے بتایاکہ چین امریکا سے اربوں ڈالر کی سویابین اور 200 بوئنگ طیارے خریدنے جا رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ تاحال تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے کی منظوری نہیں دی گئی،تاہم ممکن ہے منظوری دی جائے اور ممکن ہےنہ دی جائے۔تائیوان سے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور انہوں نے تائیوان کے حوالے سے کوئی وعدہ بھی نہیں کیا۔
صدر ٹرمپ نے ایک اہم انکشاف کرتےہوئے بتایاکہ ملاقات کے دوران صدر شی جن پنگ نے ان سے براہِ راست سوال کیاکہ ’اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو کیا امریکا تائیوان کا دفاع کرےگا؟‘۔ انہوں نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا اور کہا ’اس کا جواب صرف ایک ہی شخص جانتا ہےاور وہ میں ہوں۔میں نے صدر شی سے کہاکہ میں اس کا جواب نہیں دینا چاہتا‘۔
صدر ٹرمپ کےمطابق انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ شمالی کوریا، جوہری ہتھیاروں میں کمی اور دیگر اہم امور پر بات چیت کی جب کہ ٹیرف کے معاملے پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ چینی صدر کو آمر کہیں، جب کہ ایک بار پھر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف بھی کی۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں تاحال ناکام نہیں ہوئیں، عباس عراقچی
دوسری جانب چینی حکومت کی جانب سے اس ملاقات کےحوالے سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سختی سے خبردار کیا تھاکہ تائیوان کا معاملہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان براہِ راست محاذ آرائی کا سبب بن سکتا ہے۔
یاد رہے کہ چین تائیوان کو اپنا علاقہ قراردیتا ہے اور امریکا کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتےہوئے اس کی مسلسل مخالفت کرتا رہاہے۔
