فضیلہ عباسی کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں ڈرامائی موڑ

معروف ڈرماٹالوجسٹ اور اداکار حمزہ علی عباسی کی بڑی بہن فضیلہ عباسی کے خلاف اربوں روپے کے منی لانڈرنگ کیس نے ایک ڈرامائی موڑ لے لیا ہے، کیونکہ وفاقی تحقیقاتی اداروں کی تفتیش کا دائرہ کار اب شوبز شخصیات سے نکل کر معروف سیاسی اور کاروباری حلقوں تک پہنچ گیا ہے۔ تازہ تحقیقات میں معروف اداکار حمزہ علی عباسی اور ان کی والدہ، سابق رکن اسمبلی نسیمہ چوہدری کے ساتھ ہونے والی مالیاتی ٹرانزیکشنز بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بعد انہیں شاملِ تفتیش کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ فضیلہ عباسی معروف ڈرماٹالوجسٹ اور کاسمیٹک ایکسپرٹ سمجھی جاتی ہیں۔ ان کے کلینکس اسلام آباد، دبئی اور لندن میں موجود ہیں جبکہ وہ 2003 سے ڈرماٹولوجی پریکٹس سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے King’s College London کے سینٹ جانز انسٹی ٹیوٹ آف ڈرماٹولوجی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور مختلف ٹی وی پروگرامز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی شہرت حاصل کی۔ حالیہ تحقیقات کے بعد یہ مقدمہ ملک کے حساس ترین مالیاتی کیسز میں شمار کیا جا رہا ہے اور آئندہ ہفتوں میں مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے فضیلہ عباسی اور ان سے منسلک 22 بینک اکاؤنٹس کا ریکارڈ حاصل کیا ہے، جن میں اربوں روپے کی غیر معمولی ٹرانزیکشنز کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی طور پر یہ تحقیقات تقریباً ڈھائی ارب روپے کی مشکوک مالی سرگرمیوں کے گرد شروع ہوئیں، تاہم اب تحقیقاتی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس مبینہ نیٹ ورک کا حجم 25 ارب روپے سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔ تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اکاؤنٹس کے ذریعے نہ صرف مختلف کاروباری اداروں بلکہ کئی بااثر شخصیات کے ساتھ بھی مالی لین دین کیا گیا۔ انہی ٹرانزیکشنز میں حمزہ علی عباسی اور نسیمہ چوہدری کے ساتھ ہونے والے مالی معاملات بھی شامل ہیں، جن کی نوعیت اور قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم ایف آئی اے حکام کے مطابق دونوں شخصیات کو تاحال باضابطہ ملزم قرار نہیں دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کسی زیرِ تفتیش فرد کے اکاؤنٹس سے مشکوک لین دین سامنے آنے پر متعلقہ افراد کو وضاحت کے لیے طلب کیا جا سکتا ہے۔
تحقیقات کے مطابق اوپن مارکیٹ سے امریکی ڈالرز اور یو اے ای درہم خرید کر مختلف بینک اکاؤنٹس کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل کیے گئے۔ ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ تقریباً 14 لاکھ امریکی ڈالر کے مساوی رقوم بیرون ملک بھجوائی گئیں، جبکہ انہی رقوم سے امریکا میں پانچ سے چھ جائیدادوں کی خریداری کے شواہد بھی حاصل ہوئے ہیں۔
تحقیقاتی حکام کے مطابق فضیلہ عباسی کی ایف بی آر میں ظاہر کردہ سالانہ آمدن چار لاکھ سے ساٹھ لاکھ روپے کے درمیان رہی، تاہم ان کے اکاؤنٹس میں اربوں روپے کی ٹرانزیکشنز نے حکام کو حیران کر دیا۔ اسی تضاد کو تحقیقات کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے اس وقت مالیاتی ریکارڈ کا فرانزک آڈٹ کر رہی ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا یہ رقوم قانونی ذرائع سے حاصل ہوئیں یا ان کے پیچھے حوالہ ہنڈی، بے نامی اکاؤنٹس اور منظم منی لانڈرنگ نیٹ ورک کارفرما تھا۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات میں رائس ٹریڈرز، پولٹری کمپنی، الجحت کارپوریشن، الکا ٹریڈنگ اور فرینڈز آٹوز سمیت متعدد کمپنیوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔ ایف آئی اے اب ان اداروں کے مالکان، ڈائریکٹرز اور متعلقہ افراد کے بینک ریکارڈ حاصل کر رہی ہے تاکہ رقوم کے اصل ذرائع اور ممکنہ بینیفشل اونرز تک پہنچا جا سکے۔
یاد رہے کہ اس ہائی پروفائل کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے فضیلہ عباسی کی عبوری ضمانت بحال کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کا فوری امکان ختم کر دیا ہے۔ جسٹس محمد اعظم خان نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت بحال کرتے ہوئے انہیں ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔ اس سے پہلے اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت نے ان کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے بعد ایف آئی اے نے گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی تھیں۔ فضیلہ عباسی اپنے وکیل نعیم بخاری کے ہمراہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئیں جہاں ابتدائی دلائل سننے کے بعد عدالت نے ان کی عبوری ضمانت بحال کر دی۔
اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے فضیلہ عباسی کی جانب سے منی لانڈرنگ اور 2.5 ارب روپے کے لین دین کا کیس خارج کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی تھی۔ جسٹس خادم حسین کی عدالت نے ایف آئی اے کو قانون کے مطابق شفاف تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا تھا اور قرار دیا تھا کہ فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت تحقیقات جاری رہیں گی۔ تاہم عدالت نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت بعض الزامات اور انکوائری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایف آئی اے نے طے شدہ قانونی طریقہ کار پر مکمل عمل نہیں کیا۔
عدالتی فیصلے کے بعد ردعمل دیتے ہوئے حمزہ علی عباسی نے اپنی بہن کے خلاف جاری تحقیقات سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کوریج سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے جیسے وہ بھی اس معاملے میں ملوث ہیں، حالانکہ وہ کسی بھی تفتیش کا حصہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بہن ایک تجربہ کار پروفیشنل ہیں اور انہیں ان کی دیانتداری پر مکمل یقین ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق مقدمے میں مزید شواہد سامنے آنے کے بعد مشکوک ٹرانزیکشنز کی مالیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور تحقیقات اس پہلو کا بھی جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا اس نیٹ ورک میں دیگر افراد یا سرکاری اہلکار بھی شامل تھے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ حوالہ ہنڈی اور مشکوک ٹرانزیکشنز کے ذریعے منی لانڈرنگ کے بظاہر شواہد موجود ہیں جبکہ ایف بی آر حکام کے ممکنہ کردار کا تعین بھی کیا جائے گا۔
PTIرکن اسمبلی کے بیٹے کی سرکاری پاسپورٹ پر اٹلی میں سیاسی پناہ
تحقیقات سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کیس مکمل طور پر کھولا گیا تو یہ ایک پنڈورا باکس ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں کئی سیاست دانوں، بیوروکریٹس، بزنس شخصیات اور ان کے اہل خانہ کے نام سامنے آنے کا امکان ہے۔ ایف آئی اے مختلف بینکوں سے مزید ریکارڈ حاصل کر رہی ہے جبکہ بیرونِ ملک اثاثوں اور جائیدادوں کی تفصیلات کے لیے بین الاقوامی اداروں سے رابطوں کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کیس صرف ایک مالیاتی سکینڈل نہیں بلکہ پاکستان میں مالیاتی شفافیت، ٹیکس نظام، بے نامی اکاؤنٹس اور غیر قانونی رقوم کی بیرونِ ملک منتقلی جیسے بڑے سوالات کو بھی اجاگر کر رہا ہے۔
