انمول عرف پنکی کی تشہیر ہمارے بندوبستِ حکومت کی نااہلی ہے

تحریر:نصرت جاوید
بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت
ہفتے میں پانچ دن صبح اٹھتے ہی یہ کالم لکھتا ہوں۔ سورج ڈھلنے کے بعد پیر سے جمعرات کی شام ایک ٹی وی شو کا میزبان بھی ہوں۔ 1975ءسے سوائے صحافت کے آمدنی کا اور کوئی ذریعہ نہیں رہا۔ کل وقتی صحافت کے آغاز سے پہلے روز مجھے آج تک کسی مدیر یا نشریاتی ادارے کے مالک نے یہ نہیں کہا کہ کونسے موضوع پر لکھنا یا بولنا ہے ۔ جمہوری، نیم جمہوری یا کامل آمرانہ حکومتوں کے ادوار میں بھی سرکار سے ایک بار بھی کالموں کے موضوعات کی فہرست وصول نہیں ہوئی۔
جنرل ضیائکے دور میں 1980ئکی دہائی کا آغاز ہوا تو اخبار چھپنے سے پہلے سینسرکیلئے بھجوانا پڑتے تھے ۔ میری لکھی اکثر تحریروں کو اشاعت کی اجازت نہ ملتی۔ محمد خان جونیجو مرحوم کے وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد سرکاری نگہبانی کم ہونا شروع ہوگئی۔ بتدریج ہم کامل آزادی کی جانب بڑھتے دکھائی دئے ۔ کامل آزادی کے ادوار میں بھی چند موضوعات سے گریزلازمی تھا۔ یہ غالب کی بیان کردہ اُس گلی کی مانند تھے جہاں جانے سے دین ودل عزیز رکھنے والوں کو پرہیز کرنا چاہیے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ سدھائے جانور کی طرح قلم اٹھاتے ہی ذہن فقط ان راستوں کی جانب چل پڑتا ہے جو سرکار کو ناراض کرنے کے بجائے نوکری کا تحفظ یقینی بناتے ہیں۔
تمہید لمبی ہوگئی۔ حقیقت بیان کرنا مگر لازمی تھا کیونکہ بدھ کی صبح سے رات گئے تک میرے کئی پڑھنے اور سننے والے ٹیلی فون،واٹس ایپ اور ٹویٹر کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ تمام ٹی وی چینلوں کو نظربظاہر کراچی سے گرفتار ہونے والی انمول عرف پنکی کے مبینہ جرائم پر گھنٹوں تک پھیلی لائیو نشریات کا حکم کس نے دیا ہے ؟ اس معاملہ پر میڈیا کی توجہ فوکس کراتے ہوئے سرکار مائی باپ کس اہم معاملے سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے ۔ میں فقط اپنی ذات کے حوالے سے دیانتدارانہ جواب دے سکتا تھا۔ مجھے کہیں سے بھی انمول عرف پنکی کو زیر بحث لانے کا حکم نہیں ملا۔ اس کے باوجود بدھ کی شام اپنے ٹی وی شو کا آغاز ہوتے ہی اس کی ذات،گرفتاری اور مبینہ دھندے کو سمجھنے اور ناظرین کو سمجھانے کے لئے 23منٹ صرف کئے ۔ چند دوستوں نے وہ پروگرام دیکھا تو رات گئے تک فون کے ذریعے اپنے رویے اور لہجے سے افسوس کا اظہار کرتے رہے ۔ انہیں کامل یقین تھا کہ سرکار مائی باپ کے کسی تگڑے ادارے کی جانب سے انمول عرف پنکی کا معاملہ اچھالنے کا حکم آیا ہے ۔ میں بدنصیب بھی عمر کے آخری حصے میں انکار کی جرا ت نہ دکھا پایا۔ نوکری پیشہ کی مجبوری کا احترام کرتے ہوئے تاہم وہ جاننا چاہ رہے تھے کہ سرکار مائی باپ انمول عرف پنکی پر میڈیا کی توجہ کیوں مبذول رکھنا چاہ رہی ہے ۔ ذاتی حوالوں سے ٹھوس وضاحتیں مذکورہ تاثر زائل کرنے میں ناکام رہیں۔ کئی سیانے بلکہ بڈھے گھوڑے کو یاد دلاتے رہے کہ ماضی میں بھی کچھ بڑا ہونے سے قبل انمول عرف پنکی جیسے کرداروں کی داستانیں اچھالی جاتی رہی ہیں۔ کسی زمانے میں ہتھوڑا گروپ بہت مشہور ہوا تھا۔ جاوید اقبال نامی ایک سفاک شخص کے تذکرے بھی رہے جو سوسے زیادہ بچوں کو درندگی سے قتل کردیا کرتا تھا۔ قصور میں بچوں سے زیادتی پر بنائی فلموں کا بھی کچھ سال قبل بہت چرچا رہا۔
سرکار مائی باپ کے حکم پر انمول عرف پنکی پر توجہ کا الزام لگانے والوں کے ساتھ تکرار کے بجائے نہایت عاجزی سے میں یہ جاننے کی کوشش کرتا رہا کہ ہتھوڑا گروپ یا جاوید اقبال جیسے سفاک شخص پرمیڈیا کی توجہ مبذول کرواتے ہوئے سرکار مائی باپ نے کیا حاصل کیا تھا۔ کسی ایک صاحب نے تسلی بخش جواب فراہم کرنے کی زحمت نہ اٹھائی۔ فقط ایک مہربان دوست نے معنی خیز انداز میں یاد دلایا کہ گزشتہ دو دنوں سے گزرے جمعہ کی رات پٹرولیم مصنوعات پر لگائی لیوی کا میڈیا میں ذکر نہیں ہورہا۔ مہنگائی کے خلاف مچایا واویلا بھی کم ہورہا ہے ۔ دو کو دو کے ساتھ ملا کر یوں چار بنادیا۔
عمر تمام صحافت کی نذر کردینے کی وجہ سے جمع ہوئے تجربات کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرنے کی جسارت کررہا ہوں کہ ہماری سرکار مائی باپ ہرگز اتنی ذہین و ہوشیار نہیں کہ عوام کے دلوں میں مہنگائی وغیرہ کی وجہ سے بھڑکے اضطراب سے توجہ ہٹانے کے لئے انمول عرف پنکی جیسے کرداروں کی گرفتاری کا ناٹک رچاسکے ۔ جنرل ضیائکے دور میں نفسیاتی جنگ کے ماہر شمار ہوتے جنرل مجیب الرحمن مرحوم تقریباََ آٹھ برس تک طاقت ور ترین سیکرٹری اطلاعات رہے ۔ ان کی نگرانی اور سرپرستی میں کرکٹ میچوں کو پاکستان ٹی وی پر براہِ راست دکھانے کا چلن متعارف ہوا۔ ہمارے بے تحاشہ سیانے ان دنوں یہ دعویٰ کیا کرتے تھے کہ جنرل ضیاءکی سخت گیر آمریت سے توجہ ہٹانے کے لئے عوام کو لائیو کرکٹ میچوں کے ذریعے تفریح فراہم کی جارہی ہے ۔ سنگین الزامات کے تحت گرفتار ہوئے مجرموں کو برسرعام کوڑے بھی ان ہی دنوں لگائے جاتے تھے ۔ سیانوں کی یہ تھیوری میں کئی برسوں تک سنجیدگی سے لیتا رہا۔ اپنی سوچ سے مستقل رجوع کرنے کی مگر بیماری لاحق رہی ہے ۔ جنرل ضیائکی سخت گیر آمریت سے توجہ ہٹانے کے لئے کرکٹ میچوں کی براہ راست نشریات والی کہانی کا تواتر سے ذکر ہوا تو اسے رد کرنے کے دلائل ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ اس تناظر میں ذرا تحقیق کی بدولت دریافت ہوا کہ کرکٹ کو ٹی وی سکرین کے ذریعے پرکشش ا ور منافع بخش بنانے کا رواج آسٹریلیا سے شروع ہوا تھا۔ غالباََ کیری پیکر نام کا کوئی سیٹھ تھا جس نے کرکٹ کوٹی وی کے لئے پرکشش بنایا اور بالآخر ان دنوں ہم ٹی-ٹونٹی جیسے فارمیٹ سے جی بہلاتے ہیں۔ آسٹریلیا میں آمرانہ حکومت نہیں تھی۔ امریکہ میں بھی ٹی وی کا دھندا منافع بخش بنانے میں بیس بال میچ اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میچوں کو وہاں کی حکومتیں اہم مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے استعمال نہیں کرتیں۔
انمول عرف پنکی پر مبذول ہوئی میڈیا کی توجہ کے پیچھے مبینہ طورپر کارفرما سرکاری ہاتھ کا سراغ لگانے اور اس حوالے سے سازشی تھیوریاں گھڑتے ہوئے ہم اس سادہ حقیقت کا ادراک کرنے میں نجانے کیوں ناکام ہیں کہ گرفتار ہونے کے بعد انمول عرف پنکی جس انداز میں عدالت آئی اس پر مبنی ویڈیو کلپ ہر حوالے سے ڈرامائی اور سنسنی خیزتھی۔ مبینہ طورپر برسوں سے مہنگی ترین منشیات سپلائی کرکے کروڑوں کمانے والی انمول عرف پنکی آسمانی رنگ کی ٹی شرٹ اور پھولدار پاجامہ پہن کر اپنے ہاتھوں میں پانی کی بوتل سے کھیلتی عدالت میں کمال خوداعتمادی اور اطمینان سے یوں چل رہی تھی جیسے کوئی ملکہ اپنی راجدھانی میں گشت کررہی ہو۔ اس کلپ نے ناظرین کے جی موہ لئے ۔ اس کلپ کو کئی گھنٹوں تک سکرین پر دکھانے کے لئے لائیو نشریات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ صحافت چسکہ فروشی میں مصروف ہوگئی۔
سرکار مائی باپ اگر واقعتا اتنی ہی سیانی ہوتی جتنا ہم فرض کئے بیٹھے ہیں تو کچھ وقت گزرجانے کے بعد انمول عرف پنکی کا ذکر سکرینوں سے غائب کروادیا جاتا۔ اس کا مسلسل ذکر ہمارے بندوبستِ حکومت کی نااہلی اور کمزوریوں کا شرمناک اشتہاراورانسداد منشیات کے تمام اداروں کی کامل بے بسی کا ثبوت ہے ۔
