گرفتاری پر دھاڑیں مار کے رونے والا جمیل فاروقی کون ہے؟

پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد دھاڑیں مار کر رونے والا عمرانڈو صحافی جمیل فاروقی نے اسے آزاد صحافت پر حملہ قرار دینے کی کوشش کی ہے مگر موصوف بھول گئے کہ جب عمران خان دور حکومت میں حق اور سچ کی بات کرنے والے صحافیوں کو گرفتار اور اغوا کیا جاتا تھا تو یہی جمیل فاروقی نہ صرف سوشل میڈیا پر اس ریاستی جبر کی حمایت کرتا تھا بلکہ انکا مذاق بھی اڑاتاتھا۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق یوٹیوبر جمیل فاروقی کے خلاف اسلام آباد کیپٹل پولیس پر جنسی تشدد کرنے اور شہباز گل پر مرچوں والا ڈنڈا استعمال کرنے کا جھوٹا الزام لگانے کی پاداش میں تھانہ رمنا میں کیس درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق جمیل فاروقی نے شہباز گل کے خلاف مقدمے کی تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے، تفتیش کو غلط رخ پر لے جانے اور غلط رنگ دینے کی کوشش کی ہے، علاوہ ازیں ملزم کے اس بیان نے پولیس کو بدنام کیا ہے اور نیک نامی کو نقصان پہنچایا ہے۔جمیل فاروقی یوٹیوب پر وی لاگنگ کے علاوہ بول ٹی وی چینل سے بھی بطور اینکر وابستہ ہے اور ماضی میں سما ٹی وی، ڈان نیوز، آج نیوز اور نیو نیوز کے ساتھ بھی منسلک رہ چکا ہے۔
جمیل فاروقی ان عمرانڈو صحافیوں میں سے شمار کیے جاتے ہیں جن کا جھکاؤ عمران خان کی جانب ہے، اسی لئے بہت سے صحافی حلقوں میں انہیں بھی عمران ریاض خان عرف گیلے تیتر کی طرح صحافی کم اور ایک پارٹی کا نمائندہ یوٹیوبر زیادہ مانا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے جلسوں اور احتجاجوں میں جا کر عمران خان کے سیاسی مخالفین کے خلاف تقاریر بھی کیا کرتے تھے۔ جب انہیں کراچی سے گرفتار کیا گیا تو ایئر پورٹ سے ان کی گرفتاری کی ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں موصوف نے زارو قطار روتے ہوئے سینئر صحافی فیصل عزیز خان کو بتایا کہ اسے پولیس حراست میں ننگا کر کے چپیڑیں ماری گئیں۔ جمیل نے بتایا کہ اسے بول ٹی وی کے دفتر کے باہر سے اغوا کیا گیا اور تھپڑ مارے گئے۔ انہوں نے پاکستان میں میڈیا کی آزادی پر سوال بھی اٹھایا اور بین الاقوامی میڈیا سے درخواست کی کہ ان کی گرفتاری پر آواز بلند کی جائے۔ تاہم، عدالت نے ان کا راہداری ریمانڈ دیتے ہوئے اپنے حکم نامے میں یہ واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ ملزم نے خود پر ہوئے پولیس کے تشدد کی کوئی شکایت نہیں کی۔
راہداری ریمانڈ پر کراچی سے اسلام آباد پہنچائے جانے کے بعد وہاں کی عدالت نے بھی اسلام آباد پولیس کو جمیل فاروقی کا دو روزہ ریمانڈ دے دیا۔عمرانڈو جمیل فاروقی نے اپنی گرفتاری کو تو آزادی صحافت کے ساتھ جوڑ دیا مگر ماضی میں جب جب حکومت مخالف صحافیوں کو ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا تو یہی جمیل فاروقی تھے جنہوں نے اپنے ٹوئٹر اور یوٹیوب پر ویڈیوز بنا کر ناصرف ان صحافیوں کے اغوا و تشدد کی حمایت کی بلکہ ان کا مذاق بھی اڑایا۔
گذشتہ برس جب سینئر صحافی اسد طور پر نامعلوم افراد کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا تو جمیل فاروقی نے ان پر تشدد کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا تھا کہ ‘اکیلے فلیٹوں میں بچیاں بلاؤ، ڈیٹیں مارو اور جب ان کا بھائی ٹھکائی کر دے تو فوجی اسٹیبلشمنٹ پر ڈال دو کیونکہ گیٹڈ کمیونٹی اور سیکیور فلیٹ میں گھس کے مارنے والا زندہ نہیں چھوڑتا، یہ وہی کرتا ہے جسے بتانا ہوتا ہے کہ اب ہماری بہن کو مت چھیڑنا’۔ جمیل نے اسد طور پر تشدد کے کیس کا مذاق اڑاتے ہوئے مزید لکھا تھا کہ ‘باوثوق ذرائع سے معلومات ملی ہیں کہ اسلام آباد میں صحافی تشدد کیس سے جڑے 3 کرداروں کو ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے، جھگڑا انتہائی ذاتی نوعیت کا تھا جس سے وہ صحافی بخوبی واقف تھا، ذرائع کے مطابق اس صحافی اور اسکے سب حامیوں کی شرمندگی کا وقت ہوا چاہتا ہے۔
اسد طور پر حملے کے خلاف جب صحافیوں کے مظاہرے کے دوران حامد میر نے اس واردات کی ذمہ داری فوجی اسٹیبلشمنٹ پر ڈالی اور انہیں جیو کی انتظامیہ نے کیپٹل ٹاک کی میزبانی سے ہٹا دیا تو اس پر بھی جمیل فاروقی نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کافی بکواس کی۔ فاروقی نے حامد میر کے پروگرام کو ‘کیپٹل ٹھوک’ کا نام دیا اور طنزیہ ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ لیفٹینوننٹ جنرول بھڑک میر تاتاری المعروف لڑکی کے بھائی کے پروگرام "کیپٹل ٹھوک” پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور یہ مذاق نہیں ہے۔’ فاروقی وہ واحد عمرانڈو صحافی ہے جس نے حال ہی میں پی ٹی آئی کے احتجاج میں اپنی صحافتی کمیونٹی کے خلاف نعرے لگائے۔ جمیل فاروقی نے سینئر صحافی عاصمہ شیرازی کے خلاف ناصرف نعرے لگائے بلکہ ان کے خلاف تقریر بھی کی۔ سطحی سوچ اور مشکوک کردار کے مالک فاروقی کے متنازع صحافتی کردار کی کہانی یہاں نہیں رکتی۔ جب موصوف نیو نیوز میں تھے اور اوریا مقبول جان کے ساتھ ایک شو ہوسٹ کرتے تھے تو اوریا اور انکے درمیان کسی بات پر تنازع ہو گیا، جس کے بعد جمیل فاروقی نے ایک آڈیو لیک میں اوریا مقبول جان پر انتہائی ذاتی نوعیت کے حملوں پر مبنی الزامات لگائے۔ اس آڈیو لیک میں انہوں نے اوریا مقبول جان پر الزام لگایا کہ ان کے گذشتہ آٹھ سال سے اپنی پروڈیوسر کے ساتھ جنسی تعلقات ہیں۔ فاروقی نے الزام لگایا کہ اوریا مقبول جان اس خاتون کو اپنی بیٹی بنا کر لے جاتے ہیں، ہوٹل بک کرواتے ہیں اور اس کے ساتھ ڈیٹیں مارتے۔ جمیل فاروقی نے اس خاتون پر بھی الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا تعلق حزب التحریر نامی جہادی تنظیم سے تھا۔ اس آڈیو لیک میں انہوں نے یہاں تک کہا کہ اوریا مقبول جان کی عقل ان کی دو ٹانگوں کے بیچ ہے۔
یہی نہیں عمران ریاض خان کے کیس کی سماعت کے بعد عمران ریاض خان، سمیع ابراہیم اور جمیل فاروقی نے مطیع اللہ جان سے انٹرویو کے دوران ان پر ویڈیو میں رققی حملے کیے اور کہا کہ فوج کے بیرک میں آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی اور اسی وجہ سے آپ کو فوج سے نکال دیا گیا تھا۔ اس دوران جمیل فاروقی سمیت دیگر مطیع اللہ جان پر ہنستے رہے۔
عمران خان کے دور حکومت میں فیض کی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مطیع اللہ جان، اسد علی طور، ابصار عالم، عامر میر، عمران شفقت اور دیگر سینئر صحافیوں کو گرفتار کرنے اور ہراساں کرنے کا مذاق اڑانے والے فاروقی نے عمران حکومت ختم ہونے کے بعد اپنا بیانیہ تبدیل کیا اور وہی ‘نیوٹرلز’ جو پہلے اچھے ہوتے تھے، وہ فیض حمید کے جانے کے بعد ان کی نظر میں گندے ہو گئے۔ اپنے ایک وی لاگ میں جمیل فاروقی نے ‘نیوٹرل امپائر’ کو لعن طعن کرتے ہوئے اپنا جوتا اتار کر اس کی علامتی پٹائی بھی شروع کر دی اور کہا کہ یہ سدھر نہیں رہا حالانکہ اس کو باجرا بھی کھلایا گیا ہے اور ‘ایکسٹیشن’ بھی دی گئی ہے۔
آج جب فرقہ عمرانیہ سے تعلق رکھنے والا یوتھیا جمیل فاروقی گرفتار ہونے کے بعد خود جسمانی ریمانڈ پر ہے تو اسے اپنا ماضی یاد کرنے کے علاوہ اپنے ساتھی صحافیوں بارے کی گئی بکواس پر بھی ضرور سوچنا چاہیے۔ بےشک خدا کی لاٹھی بے آواز ہے اور مکافات عمل دنیا پر ہی دیکھنا پڑ جاتا ہے۔
