عمران کا سیاسی منظر نامے سے آؤٹ ہونے کا امکان روشن کیوں؟


سابق وزیراعظم عمران خان کے سیاسی منظر نامے سے آؤٹ ہونے کے امکانات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے جسکی بنیادی وجہ ان کے خلاف الیکشن کمیشن اور عدالت میں زیر سماعت چار کیسز ہیں۔ اگر عمران کو ان میں سے کسی ایک بھی کیس میں سزا ہوگئی تو وہ آرٹیکل 62 کے تحت عوامی عہدہ رکھنے کے لیے نااہل قرار پائیں گے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان چار کیسز میں سے کسی ایک میں بھی الزام پر عمران کو سزا ہوئی تو ان کا سیاسی مستقبل تاریک ہو جائے گا اور ان کی آخری امید سپریم کورٹ آف پاکستان ہی ہو گی۔ لیکن سپریم کورٹ کے لئے بھی عمران خان کے حق میں فیصلہ دینا اس لیے مشکل ہوگا کہ وہ خود سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت پر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو حقائق چھپانے پر نااہل قرار دے چکی ہے۔ عمران خان کے خلاف بھی توہین عدالت اور حقائق چھپانے کے کیسز ہیں۔

یاد رہے کہ اس وقت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں عمران خان کے خلاف فارن فنڈنگ اور توشہ خانہ کیسز کی بنیاد پر آرٹیکل 62 کے تحت نااہلی کے دو ریفرنسز کی سماعت جاری ہے جن میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد دائر کردہ ریفرنس میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ عمران خان نے اپنے سالانہ گوشوارے جمع کرواتے ہوئے اپنی پارٹی کے 16 اکاؤنٹس ظاہر نہیں کیے جو کہ اثاثے چھپانے کے مترادف ہے لہٰذا وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ الیکشن کمیشن میں دائر کردہ دوسرے ریفرنس میں موقف اختیار کیا گیا کہ بطور وزیر اعظم عمران نے سرکاری توشہ خانہ سے جو قیمتی تحائف بیچ کر12 کروڑ روپوں سے زائد کمائے وہ انہوں نے دو برس تک سالانہ گوشواروں میں ظاہر نہیں کئے چنانچہ یہ عمل بھی اثاثے چھپانے کے مترادف ہے لہذا وہ نااہلی کی زد میں آجاتے ہیں۔

عمران کے خلاف توہین عدالت کے زیر سماعت دو کیسز میں سے ایک اسلام آباد ہائی کورٹ میں لگا ہوا ہے جس میں عدالت نے انہیں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اگست کو طلب کر رکھا ہے۔ یاد رہے کہ عدالت نے عمران خان کیخلاف تب از خود نوٹس لیا جب انہوں نے ایک ریلی میں شہباز گِل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ریمانڈ پر بھیجنے والی ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد زیبا چوہدری کو دھمکی دی اور خبردار کیا کہ خاتون جج نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس جج کیخلاف ایکشن لازمی لیں گے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کا سنگین ترین کیس ہے کیونکہ خاتون جج کو دھمکی کوئی معمولی معاملہ نہیں، یہ پوری عدلیہ کی توہین ہے جس کا بنیادی مقصد ڈرا دھمکا کر قانون کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔ اس لیے اب اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ میں مزید توسیع کرکے اسے پانچ رکنی بنایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ویمن ایکشن فورم نے بھی عمران کی جانب سے خاتون جج کو دھمکی پر معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے عمران کی ’خواتین مخالف‘ ذہنیت کا عکاس قرار دیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر عمران خان کو اس کیس میں سزا ہو جاتی ہے تو وہ بھی یوسف رضا گیلانی کی طرح پانچ سال کے لیے سیاست سے نااہل ہو جائیں گے۔

عمران خان کے خلاف توہین عدالت کا دوسرا کیس الیکشن کمیشن آف پاکستان میں زیر سماعت ہے۔ انتخابی ادارے پر اپنی تقاریر میں رقیق حملے کرنے اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے پر الیکشن کمیشن نے عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کو توہین کا نوٹس دے رکھا ہے اور 31اگست تک جواب دینے کا حکم دیا ہے۔ ای سی پی کا کہنا تھا کہ ادارے نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی مختلف تقاریر کا جائزہ لینے کے بعد نوٹس جاری کیے ہیں۔

اگر الیکشن کمیشن نے ان تین میں سے کسی کو بھی قصور وار قرار دے دیا تو اس کی سزا پانچ سال تک سیاست سے نااہلی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے الیکشن کمیشن فواد چوہدری کو توہین عدالت کے الزام پر معافی دے چکا ہے لیکن اس مرتبہ ایسا امکان نظر نہیں آتا۔

جہاں تک سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن میں دائر کردہ توشہ خانہ نااہلی ریفرنس کا تعلق ہے تو یہ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے الیکشن کمیشن کو بھیجا تھا۔ اس میں الزام ہے کہ عمران نے الیکشن کمیشن میں اپنے سالانہ گوشوارے جمع کرواتے وقت کچھ اہم تفصیلات چھپائی تھیں جو کہ قابل تعزیر جرم ہے اور وہ عوامی عہدہ رکھنے کے لیے نااہل قرار دیئے جا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی آرٹیکل 62 کے تحت صادق اور امین نہ رہنے پر نااہل قرار دے دیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں ’’غیر حاصل شدہ قابل وصول‘‘ اثاثہ جات کو چھپایا تھا۔ عمران پر الزام ہے کہ انہوں نے توشہ خان کے تحائف خریدنے اور بیچنے کے بعد حاصل ہونے والی کروڑوں کی آمدنی اپنے سالانہ گوشواروں میں دو برس تک چھپائی اور صرف تب ظاہر کی جب ایک شہری نے انفارمیشن کمیشن آف سے ان کے خریدے گئے توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیل مانگی۔

نواز شریف اور عمران خان کے کیس میں کسی قدر مماثلت یوں ہے کہ دونوں رہنمائوں نے اپنے اثاثہ جات کے گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے۔ نواز شریف کے معاملے میں دیکھیں تو انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ قابل وصول اثاثہ جات انہوں نے وصول نہیں کیے۔ عمران کے کیس میں انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ توشہ خانہ کے تحائف فروخت کرکے انہیں کتنی رقم ملی۔ یاد رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ کے تحائف بھیج کر 12 کروڑ روپے سے زائد کی کمائی کی تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ عمران نے غلط گوشوارے بطور وزیر اعظم جمع کرائے۔ یاد رہے کہ ارکان پارلیمنٹ کیلئے لازمی شرط ہے کہ وہ ہر سال اپنے اثاثہ جات اور واجبات کے حوالے سے گوشوارے جمع کرائیں گے۔

عمران خان کے خلاف زیر سماعت چوتھا خطرناک کیس فارن فنڈنگ کا ہے۔ الیکشن کمیشن نے پہلے ہی اکبر ایس بابر کی جانب سے تحریک انصاف پر لگائے گئے فارن فنڈنگ وصولی کے الزامات کی تصدیق کر دی ہے۔ لیکن جس الزام پر عمران خان کی نااہلی کا ریفرنس دائر کیا گیا ہے وہ انکی جانب سے الیکشن کمیشن میں غلط گوشوارے جمع کروانا ہے۔ کمیشن نے اپنے فیصلے میں بتایا تھا کہ بطور پارٹی چیئرمین عمران خان نے تحریک انصاف کے 16 بینک اکاؤنٹس کو الیکشن کمیشن میں ظاہر نہیں کیا اور خفیہ رکھا۔ اس فیصلے کی بنیاد پر دائر کردہ ریفرنس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران اب صادق اور امین نہیں رہے اور آرٹیکل 62 کے تحت عوامی عہدہ رکھنے کے لیے نااہل قرار دیے جائیں۔

تاہم، جو بات زیادہ سنگین ہے وہ عمران خان کی جانب سے کھولے گئے دو بینک اکائونٹس ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق یہ دو اکاؤنٹس کھولنے کی دستاویزات پر عمران کے اپنے دستخط ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے فارن فنڈنگ کیس میں یہ بات الیکشن کمیشن کو نہیں بتائی تھی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان چار کیسز میں سے کسی ایک بھی الزام پر عمران کو سزا ہوئی تو ان کا سیاسی مستقبل تاریک ہو جائے گا اور ان کی آخری امید سپریم کورٹ آف پاکستان ہی ہو گی۔ لیکن سپریم کورٹ کے لئے بھی عمران خان کے حق میں فیصلہ دینا اس لیے مشکل ہوگا کہ وہ خود سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت پر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو حقائق چھپانے پر نااہل قرار دے چکی ہے۔

Back to top button