گمشدہ صحافی مدثر ناڑو کو زمین نگل گئی یا آسمان؟


‘یہ بچہ مجھ سے سوال کر رہا تھا عدالت میں، دادو ہم یہاں کیا کرنے آئے ہیں۔ میں اس بچے کو کیا بتاؤں، کہ ہم کیا کرنے ادھر آئے ہیں۔ اگر اس کا باپ کوئی مجرم ہوتا تو چلو باپ سے نفرت کرے گا۔ اگر مجرم نہیں ہے، تو یہ ساری زندگی ملک سے نفرت کرے گا۔ لیکن میں ایسا نہیں چاہتی۔ میں اپنے ملک سے پیار کرتی ہوں اور میری آواز جہاں پہنچ رہی ہے، اسلیے میری آرمی چیف باجوہ صاحب اور وزیر اعظم عمران خان صاحب سے اپیل ہے کہ وہ میرے گمشدہ صحافی بیٹے کی بازیابی کے لیے مدد کریں۔’
یہ کہنا تھا صحافی، مصنف اور شاعر مدثر محمود نارو کی والدہ کا جو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے بیٹے کی گمشدگی کیس کی سماعت میں شرکت کے لیے اپنے تین سالہ پوتے سچل کے ساتھ عدالت آئی تھیں۔ یاد رہے کہ ڈھائی سال قبل گمشدہ ہونے والے مدثر کی بیوی اور سچل کی والدہ صدف بھی چند ماہ پہلے اپنے خاوند کے انتظار میں اس دنیا سے جوان عمری میں ہی کوچ کر گئی تھیں اور اب ان کے بچے کو دادی پال رہی ہے۔
یاد رہے کہ مدثر ناڑو اگست 2018 میں اپنی اہلیہ صدف اور اس وقت چھ ماہ کے بیٹے سچل کے ہمراہ شمالی علاقوں میں گھومنے کی غرض سے گئے تھے۔لیکن اچانک لاپتہ ہو گئے تھے۔ اس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں، لیکن ان کے خاندان کے افراد الزام لگاتے ہیں کہ انہیں خفیہ ایجنسی نے غائب کیا تھا چونکہ وہ تب ان کے ریڈار پر تھے۔
مدثر نارو کی گمشدگی کے بارے میں اس سال عدالت میں جمع کروائی گئی پٹیشن کے مطابق 2018 کے انتخابات کے چند روز بعد ان کو فون پر کہا گیا کہ وہ انتخابات میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کے بارے میں سوشل میڈیا پر تبصرہ کرنے سے گریز کریں۔ اس کے علاوہ ان کی والدہ کہتی ہیں کہ گمشدگی سے چند ماہ قبل ان کی نوکری بھی چلی گئی تھی اور اس کی کوئی واضح وجہ بھی انھیں نہیں بتائی گئی تھی۔
رواں سال مئی میں ان کی اہلیہ صدف کی بھی پراسرار حالات میں موت ہو گئی تھی۔ اس دوران اسلام آباد ہائی کورٹ میں مدثر نارو کی بازیابی کے حوالے سے سماعت کا سلسلہ جاری تھا اور ان کے خاندان کے افراد اسلام آباد میں مظاہروں کا اہتمام کر رہے تھے۔
17 جون کو اس کیس کی پانچویں سماعت میں شرکت کے لیے مدثر کی والدہ اور بیٹا جب صبح عدالت پہنچے تو ان کو علم ہوا کہ جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں لگنے والے کیس کا آخری نمبر ہے۔ ساڑھے نو بجے جب عدالتی کارروائیاں شروع ہوئی تو سچل نے اپنی دادی سے پوچھا کہ وہ یہاں عدالت میں کیا کرنے آئے ہیں۔ اس پر عدالتی کارروائی میں خلل پڑنے کے خدشہ کے باعث ان دونوں سے درخواست کی گئی کہ وہ عدالت سے باہر چلے جائیں، جس کے بعد وہ باہر چلے گئے اور سوا دس بجے اپنے مقدمے کی سماعت شروع ہونے پر واپس آئے۔ مدثر نارو کی فیملی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کو فریق بنایا گیا ہے اور جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں وزارت دفاع کی جانب سے بتایا گیا کہ مدثر نارو ان کے پاس نہیں ہیں۔ مدثر نارو کی جانب سے وکالت کرنے والے عثمان وڑائچ نے کہا کہ وزارت داخلہ کیس میں دوسرا فریق ہے، کسی ادارے پر تو ذمہ داری عائد کی جائے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے اور ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ جبری گمشدگی کے لیے قائم کیے گئے کمیشن کے پاس ہے، جس پر عدالت نے ان سے تفصیل طلب کی کہ اب تک تفتیش کہاں تک پہنچی ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے پیش کردہ ایک صفحے کی رپورٹ پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہ ون پیجر نہ دیں بلکہ تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں۔ مدثر نارو کے وکیل نے ان کے خاندان کے لیے معاوضے کے بارے میں نکتہ اٹھایا جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ بچے کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور ہدایت کی کہ لاپتہ صحافی کے تین سالہ بچے کی کفالت کے لیے دیکھ بھال کے اخراجات کا آرڈر کرنے کے لیے مدثر نارو کے قانونی ورثا کی فہرست جمع کرائی جائے۔
عدالت نے لاپتہ صحافی مدثر نارو کے بازیابی کیس میں وزارت داخلہ و دفاع کے ذمہ دار افسران طلب کیے ہیں اور اگلی سماعت 23 جون کو مقرر کر دی گئی۔ سماعت کے بعد عدالتی کمرے کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مدثر نارو کی والدہ نے کہا کہ ‘میں اس بچے کے لیے پریشان ہوں۔ میں خود 60 برس کی ہو گئی ہوں، بونس میں جی رہی ہوں۔ اس کا باپ آ جائے تو فکر کم ہو جائے، اس لیے میں ہر دروازے پر دستخط دے رہی ہوں کہ پلیز میری کوئی مدد کرے۔’ انھوں نے بتایا کہ ڈھائی سال قبل ان کے بیٹے کے گمشدہ ہو جانے کے بعد ان کے گھر چند لوگ آئے جنھوں نے اپنا تعارف ‘خفیہ ایجنسی’ سے کروایا اور کہا کہ وہ یہ جاننے کے لیے آئے ہیں کہ کیا واقعہ رونما ہوا ہے۔ پھر میری بہو اور مدثر کی اہلیہ صدف کی حال ہی میں اچانک موت ہوئی تو اس دن دوبارہ فون آیا کہ ہمیں پیچھے سے آرڈر آیا ہے کہ مدثر کو ڈھونڈیں لہازا ہمیں ایف آئی آر دیں اور شناختی کارڈ کا نمبر دیں جو ہم نے فوراً دے دیا۔ لیکن اس کے بعد کسی نے ہم سے رابطہ نہیں کیا اور کچھ بتایا نہیں۔ ہم بے حد پریشان ہیں۔ اس موقع پر مدثر کی والدہ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی کہ ان کے گمشدہ بیٹے کی فوری بازیابی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔

Back to top button