گنڈاپور اور بشری اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچ پائیں گے یا نہیں؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ 24 نومبر کو اسلام اباد میں احتجاج کی کال دیتے وقت عمران خان کو یہ ضرور سوچنا چاہیے تھا کہ اگر ان کی فائنل کال بھی ناکام ہو گئی تو ان کا مستقبل کیا ہو گا۔ انکا کہنا ہے کہ 24 نومبر کو پی ٹی آئی کی اسلام اباد تک پہنچنے میں ناکامی کے بعد عمران کی سیاسی بارگیننگ پوزیشن اور بھی ذیادہ کمزور ہوتی نظر آتی ہے کیونکہ انہوں نے اپنا آخری پتہ بھی کھیل ڈالا یے، اب اگر علی امین گنڈاپور اور بشری بی بی کا خیبر پختون خواہ سے چلنے والا قافلہ اسلام اباد کے ڈی چوک تک نہیں پہنچ پاتا تو عمران خان کا سیاسی مستقبل مزید تاریک ہو جائے گا۔
اپنے تازہ تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ چند روز قبل اڈیالہ جیل میں قید قائد نے حکم دیا تھا کہ ان کے چاہنے والے 24 نومبر کے روز اپنے گھروں سے نکلیں اور کسی نہ کسی طرح اسلام آباد پہنچ جائیں۔ انکا خیال تھا کہ اسلام آباد میں جمع ہونے والا ہجوم ’فسطائی حکومت‘ کو جوتے چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کر دے گا۔ لیکن موصوف نے یہ نہیں سوچا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر کیا ہو گا؟ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی تحریک انصاف کی جانب سے اسلام اباد میں احتجاج کی تین کالز مسلسل ناکامی کا شکار ہوئی تھیں۔ 24 نومبر کو بھی فائنل کال کے باوجود تحریک انصاف کا کوئی بھی ورکر ڈی چوک اسلام اباد پہنچنے میں ناکام رہا۔
تاہم پی ٹی آئی والوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج کے لیے اس کا مرکزی قافلہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں پنجاب کی حدود میں میں داخل ہونے کے بعد اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے، دوسری جانب انتظامیہ نے جڑواں شہروں کے تمام داخلی راستوں کو بند کرکے شہر کو سیل کر دیا ہے تاکہ قافلے کو روکا جا سکے۔ تحریک انصاف کا دعوی ہے کہ اس کے قافلے میں 20 سے 25 ہزار لوگ موجود ہیں اور اسے اسلام اباد میں داخل ہونے اور ڈی چوک میں دھرنا دینے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ تاہم وزیر داخلہ محسن نقوی پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اسلام اباد میں دفعہ 144 نافذ ہے اور کسی کو احتجاج کے لیے داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد رہے علی امین گنڈا پور کی سربراہی میں احتجاجی قافلہ اتوار کو پشاور سے روانہ ہوا تھا اور رات دیر گئے پنجاب کی حدود میں داخل ہو گیا تھا۔ احتجاجی قافلے میں علی امین گنڈا پور کے ہمراہ موجود عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے کنٹینر سے کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جب تک خان صاحب ہمارے پاس نہیں آ جائیں گے ہم نے اس مارچ کو ختم نہیں کرنا۔‘ بشریٰ بی بی نے کہا کہ ’میں اپنے آخری سانس تک کھڑی رہوں گی، آپ لوگوں نے میرا ساتھ دینا ہے۔ کوئی ہمارا ساتھ نہیں دے تو بھی میں عمران خان کے لیے کھڑی رہوں گی کیونکہ یہ صرف میرے میاں کی بات نہیں بلکہ اس ملک کے لیڈر کی بات ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’مجھے امید نہیں بلکہ یقین ہے کہ پٹھان غیرت مند قوم ہے اور اس جنگ میں آخری سانس تک خان کا ساتھ نہیں چھوڑے گی۔
دوسری جانب اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس سے کچھ فاصلے پر واقع ’ڈی چوک‘ پر حالات اس وقت پرسکون ہیں اور کسی طرح کی کوئی گہما گہمی نہیں ہے۔ لیکن وہاں پی ٹی آئی کا کوئی حامی نظر نہیں آتا، بظاہر پولیس کی بھی کوئی بہت بھاری نفری ڈی چوک پر موجود نہیں، البتہ اسلام آباد کے بلیو ایریا میں تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں کیوں کہ اس کے سامنے کی تمام سڑکیں مختلف مقامات پر کنٹینرز لگا کر بند کر دی گئی تھیں اور لوگوں کا وہاں تک پہنچنا کسی طور آسان نہیں۔ تحریک انصاف کے انٹرنیشنل میڈیا ونگ کا کہنا ہے کہ احتجاج کو روکنے کے لیے ان کے اب تک ساڑھے تین ہزار سے زائد پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا ہے جب میں میں اراکین اسمبلی بھی شامل ہیں۔ تحریک انصاف کے مطابق گرفتار اراکین اسمبلی میں عامر ڈوگر اور زین قریشی بھی شامل ہیں۔
تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ علی امین گنڈاپور اور بشری بی بی کا قافلہ اسلام اباد پہنچ پاتا ہے یا نہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قافلے کو ابھی تک روکنے کی کوشش اس لیے نہیں کی گئی کہ حکومت ٹکراؤ نہیں چاہتی جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہو جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران کی فائنل احتجاجی کال کا بنیادی مقصد لاشیں گرانا ہے لیکن حکومت کی حتی الامکان کوشش ہے کہ کوئی قتل و غارت نہ ہو۔
