ہارنے کے بعد ٹرمپ کی بیوی کا بھی انھیں فارغ کرنے کا فیصلہ


امریکہ کے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اور بڑا دھچکا لگنے والا ہے کیونکہ امریکی میڈیا نے یہ خبر بریک کی ہے کہ ٹرمپ کی تیسری اہلیہ میلانیا بھی ان سے طلاق لینے جا رہی ہیں۔
اگرچہ صدر ٹرمپ شکست کے باوجود آئندہ سال جنوری کے وسط تک صدر کی ذمہ داریاں نبھایئں گے اور وائیٹ ہاؤس میں ہی رہیں گے لیکن اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ ان کی تیسری اہلیہ ان سے فوری طور پر طلاق مانگ لیں گی۔ یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ ان سے گزشتہ چار سال سے تنگ ہیں اور اب جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کا اعلان ہو چکا ہے امریکی میڈیا میں یہ خبریں دے رہا ہے کہ میلانیا نے اپنے شوہر سے طلاق لینے کا فیصلہ کرلیا ہے اور ممکنہ طور پر وی بہت جلد طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کریں گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے درمیان گزشتہ چار سال سے کشیدہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے وائیٹ ہاؤس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ میلانیا ٹرمپ شوہر سے طلاق لینے پر غور ر رہی ہیں۔ ماضی میں واہیٹ ہاؤس کے ملازمین کی جانب سے کیے گئے دعووں کو جواز بنا کر بتایا جا رہا ہے کہ دونوں گزشتہ چار سال سے صدارتی ہاؤس میں الگ الگ کمروں میں رہتے تھے۔ ساتھ ہی بتایا گیا کہ 2016 سے اب تک دونوں کے درمیان کشیدہ تعلقات کی خبریں آتی رہیں اور میلانیا ٹرمپ 4 سال سے مجبوری کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ رہنے پر مجبور ہوئیں۔
وائٹ ہاؤس کی ایک سابق ملازمہ کے بیانات کا ذکر کرتے ہوئے امریکی میڈیا نے بتایا ہے کہ 2016 سے ایک ہی محل میں رہنے کے باوجود میلانیا اور ڈونلڈ ٹرمپ الگ الگ کمروں میں رہتے تھے۔ وائیٹ ہاؤس کی سابق ملازمہ اور میلانیا ٹرمپ کے قریب رہنے والی اوماروسا کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ صدارت کے ختم ہونے کے فوری بعد میلانیا ٹرمپ نے شوہر سے طلاق لینے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ ان کےمطابق میلانیا ٹرمپ ہر ایک پل کو گن رہی ہیں، وہ جلد طلاق لے کر آزادی حاصل کرنا چاہتی ہیں، اگر میلانیا ٹرمپ وائیٹ ہاؤس میں رہائش کے دوران شوہر سے طلاق لیتی تو وہ انہیں جوابی طور پر سخت مشکلات میں ڈال کر بدلہ لیتا، اس لیے میلانیا نے 4 سال گن گن کر صبر میں گزارے۔ گزشتہ چار سال کے دوران میلانیا اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کشیدہ تعلقات کی خبریں آتی رہی ہیں اور دونوں کے درمیان سرد مہری کی افواہیں عالمی میڈیا کی زینت بھی بنتی رہی ہیں۔میلانیا اپنے شوہر سے کس قدر تنگ تھیں اس کا اظہار انہوں نے کئی مرتبہ غیر ملکی دوروں کے دوران سب کے سامنے اپنے شوہر کا ہاتھ جھٹک کر بھی کیا۔
گزشتہ برس دسمبر میں ہی وائیٹ ہاؤس کی سابق ملازم اور میلانیا ٹرمپ کی قریبی دوست امریکی صحافی کیٹ بینت کی 320 صفحات پر مشتمل کتاب ’فری میلانیا: دی ان اتھورائزڈ بایوگرافی‘ میں بھی ڈونلڈ اور میلانیا کے درمیان کشیدہ تعلقات کے حوالے سے دعوے کیے گئے تھے۔ کتاب میں بتایا گیا تھا کہ میلانیا اور ڈونلڈ ٹرمپ ایک ہی کمرے میں نہیں رہتے اور دونوں کے درمیان کشیدگی کافی بڑھ چکی ہے اور ایسے دعووں پر میلانیا یا ڈونلڈ ٹرمپ نے کوئی رد عمل بھی نہیں دیا تھا۔ اس کے علاوہ چند ماہ قبل ہی میلانیا ٹرمپ کی پہلی سیکرٹری صحافی و لکھاری اسٹیفی ونسن وولکوف نے اپنی کتاب ‘میلانیا اینڈ می: دی رائز اینڈ فال آف مائے فرینڈشپ ود فرسٹ لیڈی’ میں بھی صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ کے درمیان کشیدہ تعلقات کا ذکر کیا تھا۔ ساتھ ہی اس کتاب میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ میلانیا اور ایوانکا ٹرمپ کے درمیان بھی تعلقات کافی کشیدہ ہیں اور دونوں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش میں رہتی ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ طلاق کی بنیادی وجہ ڈونلڈ ٹرمپ کا رویہ ہو سکتا ہے جسے کہ غیر متوازن کہا جا سکتا ہے اور جس وجہ سے ان کی پہلی شادی بھی کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اس کے علاوہ ٹرمپ کی پہلی بیوی سے ہونے والی بیٹی ایوانکا کو بھی صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ کے مابین اختلافات کی ایک وجہ بتایا جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ میلانیا پہلی خاتونِ اول ہیں جنھوں نے کسی جریدے میں اپنی برہنہ تصاویر چھپوائی ہوں۔ یاد رہے کہ 2016 میں صدارت کے امیدوار کی ریپبلیکن نامزدگی کی دوڑ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق حریف ٹیڈ کروز کے حمایتیوں نے ملانیا کے ماڈلنگ کے دنوں کی برہنہ تصاویر نکال کر کہا تھا: ’ملیے میلانیا ٹرمپ سے، آپ کی اگلی خاتونِ اول۔ یا آپ ٹیڈ کروز کو ووٹ دیں گے۔‘
2016 کے اوائل میں ریڈیو پریزینٹر ہوارڈ سٹرن کا کیا ہوا ڈونلڈ اور میلانیا کا ایک فحش انٹرویو بھی سامنے آیا تھا جس میں پریزینٹر نے یہ تک پوچھ ڈالا کہ اس وقت انھوں نے کیا پہنا ہوا ہے۔ جواب تھا ’تقریباً کچھ نہیں۔‘ اور آپ کتنی مرتبہ مسٹر ٹرمپ کے ساتھ سیکس کرتی ہیں، جواب تھا ’ہر رات اور کئی مرتبہ زیادہ۔‘ اس انٹرویو کو بعد میں خواتین سے نفرت کے زمرے میں لیا گیا۔
میلانیا نے ایک مضمون کی وجہ سے ڈیلی میل پر بھی ہرجانے کا دعویٰ کیا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ وہ 1990 کی دہائی میں ایک سیکس ورکر تھیں۔ اخبار نے بعد میں ان سے معافی مانگی اور ہرجانہ دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ ان کے ساتھ اس رویے کو کچھ تجزیہ کار ’سلٹ شیمنگ‘ بھی کہتے ہیں جو کہ عورتوں کو ملبوسات اور رہن سہن کی وجہ سے نشانہ بنانے کی ایک پریکٹس ہے۔
مسز ٹرمپ کا پیدائشی نام میلانیا کناوس رکھا گیا اور وہ سلوینیا کے دارالحکومت لبلانا سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع چھوٹے سے قصبے سیونیکا میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد وکٹر پہلے ایک میئر کے ساتھ کام کرتے تھے اور بعد میں ایک کامیاب کار ڈیلر بن گئے۔ ان کی والدہ امالیجا ایک فیشن برانڈ کے لیے ڈیزائن پرنٹ کرتی تھیں۔ میلانیا نے ڈیزائن اور آرکیٹیکچر کی تعلیم حاصل کی۔ ان کی پروفیشنل ویب سائٹ پر یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھوں نے ڈگری حاصل کی ہوئی ہے، لیکن بعد میں یہ سامنے آیا کہ وہ پہلے ہی سال تعلیم چھوڑ گئی تھیں۔ اس کے بعد اس ویب سائٹ کو بالکل صاف کر دیا گیا اور ڈونلڈ ٹرمپ کی کاروباری ویب سائٹ کی طرف ری ڈائریکٹ کیا جانے لگا۔ 18 سال کی عمر میں انھوں نے میلان میں واقع ایک ماڈلنگ ایجنسی سے معاہدہ کیا اور یورپ اور امریکہ کے دورے کرنے لگیں، جس دوران وہ بڑی اشتہاری کیمپینز میں بھی نظر آئیں۔ ان کی ٹرمپ سے ملاقات نیو یارک فیشن ویک کے دوران ایک پارٹی میں ہی ہوئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق اپنے شوہر کی طرح وہ شراب نہیں پیتیں، اور رات گئے تک جاری رہنے والی پارٹیوں سے اجتناب کرتی ہیں۔ ان کا اپنا برانڈڈ جیولری کا کاروبار ہے جسے وہ ڈیزائن بھی خود کرتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button