اس موضوع پر مزید لکھنے کی ہمت نہیں

 

 

 

 

تحریر: نصرت جاوید

بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت

 

زندگی کی کئی دہائیاں صحافت کی نذر کردینے کے باوجود خود کو عقل کل تصور کرنے کی بیماری سے محفوظ رہا ہوں۔ بانی تحریک انصاف کی صحت کے بارے میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ میں سرکاری طورپر تشکیل دئے ڈاکٹروں کی مرتب کردہ جو رپورٹ جمع کروائی گئی تھی اسے غور سے پڑھنے کے بعد رائے زنی کی جسارت کی۔ وجہ اس کی فقط میرا فشارِ خون کا مریض ہونا تھا۔ اسے قابو میں رکھنے کے لئے گزشتہ دس برسوں سے ناشتے کے ساتھ ڈاکٹروں کی تشخیص کردہ ایک گولی استعمال کرتا رہا ہوں۔ تقریباََ ایک سال قبل مگر اچانک یہ دریافت ہوا کہ میرا بلڈ پریشر اکثر بے قابو ہوجاتا ہے۔ اس کا غیر معمولی اتار چڑھائو مجھے فالج یا دل کا مریض بھی بناسکتا ہے۔ مناسب تشخیص کے لئے مختلف النوع ٹیسٹوں سے گزرنا پڑا۔ ربّ کا صد شکر کہ دل فی الوقت میری عمر کے حساب سے صحت مند ٹھہرایا گیا۔ فالج کا خطرہ ٹالنے کے لئے مگر خون پتلا کرنے والی گولیوں کے علاوہ دل کی صحت برقرار رکھنے کو نئی ادویات تشخیص ہوئیں۔ دل ودماغ پر حاوی تشویش کو قابو میں رکھنا بھی ایک اور دوائی کے استعمال سے یقینی بنانے کی کوشش ہوئی۔ بلڈ پریشر کو معمول میں رکھنے کیلئے میری ادویات بدل دی گئیں۔ یہ محض اتفاق تھا کہ عمران خان صاحب کو بلڈ پریشر کے لئے جو دوا سرکاری میڈیکل بورڈ نے تجویز کی تھی وہ میرے بھی زیر استعمال ہے۔ اس کی قوت /طاقت یا ڈوز خان صاحب کے لئے تجویز ہوئی دوا سے مگر زیادہ ہے۔
دل کی صحت کا تعین کرنے کے مختلف ٹیسٹوں کے جن مراحل سے گزرنا پڑا ان کی بدولت دریافت ہوا کہ مذکورہ تناظر میں ای سی جی کے علاوہ آپ کے جسم کے مختلف مقامات پر بخار ماپنے جیسے ڈھکن نما آلات لگاکر دل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کو ایکو ٹیسٹ کہتے ہیں۔ اس ٹیسٹ کے بعد آپ کو تیز قدم اٹھاتے ہوئے ایک مشین پر چلنا پڑتا ہے۔ اسے سڑیس ٹیسٹ کہا جاتا ہے۔ مذکورہ ٹیسٹوں سے قبل مجھے آگاہ کردیا گیا تھا کہ دل کی صحت کا ان دو کے باوجود درست اندازہ نہ لگایا جاسکا تو ایک اور ٹیسٹ بھی ہوسکتا ہے جسے سی ٹی انجیوگرافی کہا جاتا ہے۔ اس کی مگر معا لجین نے ضرورت محسوس نہ کی۔
ریگولر اور سوشل میڈیا پر چھائے ’’تحقیقی صحافیوں‘‘ کا ہجوم ہمیں آج تک سمجھا نہیں پایا کہ عمران خان صاحب کے بلڈ پریشر کے جائزے کے بعد ڈاکٹروں نے ایکو اور سٹریس ٹیسٹوں کی ضرورت محسوس کی یا نہیں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی واضح نہیں کہ بانی تحریک انصاف کا بلڈ پریشر سی ٹی انجیوگرافی کا بھی تقاضا کرتا ہے یا نہیں۔ ’’تحقیقی صحافیوں‘‘ کی رہ نمائی سے محروم سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے گزرے منگل کے روز مگر یہ تحریری حکم صادر کیا کہ عمران خان کی صحت کا جائزہ لینے کے لئے انہیں اسلام آباد کے ایک معروف نجی ہسپتال منتقل کیا جائے۔ بے شمار پاکستانیوں کی طرح مجھ سادہ لوح نے توقع باندھی کہ مذکورہ حکم پر حکومت کھلے دل سے عمل درآمد کو تیار ہوگی۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات مگر انہیں شفا کے بجائے سرکاری طورپر چلائے پمز ہسپتال لے جایا گیا۔ وہاں ہوئے معائنے کے چند گھنٹوں بعد انہیں جیل واپس پہنچادیا گیا۔ حکومت نے شفا کے بجائے پمز لے جانے کا فیصلہ کیوں کیا؟ اگر وہاں لے ہی گئے تھے تو 16ستمبر تک بانی تحریک انصاف کو اسی ہسپتال میں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کیوں نہیں رکھا گیا۔ ان سوالوں کے تشفی بخش جوابات کے لئے ہمیں سپریم کورٹ ہی کی جانب دیکھنا ہوگا جس کے روبرو حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی گئی ہے۔
پمز میں ان کے مختصر قیام کے حوالے سے مگر ایک ’’بریکنگ نیوز‘‘ نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ ہسپتال میں سی ٹی انجیوگرافی کے لئے 2022ء کے برس سے نصب مشین کام نہیں کررہی تھی۔ چند صحافیوں نے تاہم مذکورہ مشین کی عدم دستیابی کی خبر جھٹلاتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ 2022ء سے سی ٹی انجیوگرافی کے لئے پمز میں نصب مشین ہرگز مفلوج نہیں ہے۔ اس کا کنٹرول مگر ریڈیالوجی والوں کے پاس ہے اور وہاں کے ڈاکٹر اور طبی عملہ عمران خان کو پمز لانے کے وقت موجود نہیں تھے۔
مجھے ہرگز خبر نہیں کہ طبی اعتبار سے بانی تحریک انصاف کی سی ٹی انجیوگرافی درکار تھی یا نہیں۔ سپریم کورٹ کے روبرو توہین عدالت کی سما عتوں کے دوران مگر یہ ثابت ہوگیا کہ مذکورہ ٹیسٹ ہر صورت لازمی تھا تو حکومت کو بھرپور خجالت کا یقینی طورپر سامنا کرنے پڑے گا۔ ایک بات اگرچہ طے ہے اور وہ یہ کہ 2022ء سے سی ٹی انجیوگرافی کے لئے پمز میں جو سہولت موجود ہے وہ عمران خان کی جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات مذکورہ ہسپتال میں موجودگی کے دوران میسر نہیں تھی۔ وہ میسر ہوتی تو وزیر اعظم کو سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی قیادت میں ہنگامی طورپر ایک انکوائری ٹیم بنانے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی جو 2022ء سے پمز میں قائم سی ٹی انجیوگرافی سے متعلق معاملات کا تفصیلی جائزہ لے۔
سی ٹی انجیوگرافی کے نظام کا مفلوج یا عمران خان کی پمز موجودگی کے دوران دستیاب نہ ہونا مجھے بانی تحریک انصاف کے طبی مسائل کے علاوہ ایک اور اہم پہلو پر پریشانی سے غور کو مجبور کررہا ہے۔ اسلام آباد ہی نہیں اس کے گردونواح میں موجود بے تحاشہ دیہات  اور چھوٹے شہروں سے سنگین طبی امراض کا شکار ہوئے ذلتوں کے مارے عوام پمز ہسپتال ہی لائے جاتے ہیں۔ یہ سوچتے ہوئے دل کانپ گیا کہ ہنگامی حالت میں وہاں پہنچے مریض کے لئے سی ٹی انجیوگرافی کی فوری ضرورت محسوس ہو تو اس کے لواحقین کس عذاب سے گزرتے ہوں گے۔ مذکورہ معاملے پر سوچتے ہوئے ایک بار پھر خود کی بطور صحافی ملامت کو مجبور ہوا۔ گھر بیٹھے عالمی امور کے ماہر ہوئے مجھ دو نمبری دانشور کو یہ خبر ہی نہیں تھی جس شہر میں 1975ء سے مسلسل قیام پذیر ہوں وہاں کے مرکزی ہسپتال میں سی ٹی انجیوگرافی کے لئے لازم تصور ہوئے نظام کا کیا عالم ہے۔
اپنے ملک میں صحت عامہ کے بنیادی مسائل پر توجہ دینا صحافت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ہم اسے کس حد تک نبھارہے ہیں؟ اس سوال کا جواب جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات مل چکا ہے۔ فرض کیا بانی تحریک انصاف اس رات وہاں نہ لائے جاتے تو ہمیں علم ہی نہ ہوتا کہ پمز میں سی ٹی انجیوگرافی کے لئے 2022ء سے قائم نظام اور مشینوں کی کیا حالت ہے۔ اپنی غفلت کا مجرموں کی طرح اعتراف کرنے کے بعد اس موضوع پر مزید لکھنے کی ہمت نہیں۔

 

Back to top button