ہیلی کاپٹر کیس: نیب کا عمران سے 23 کروڑ وصولی کا فیصلہ


قومی احتساب بیورو نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے خیبرپختونخوا حکومت کے ہیلی کاپٹر کو 166 گھنٹے تک غیر قانونی طور پر اپنی ذات کے لیے استعمال کرنے پر 35 کروڑ روپے بطور جرمانہ وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے نیب چیئرمین آفتاب سلطان نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ عمران نے جو 166 گھنٹے خیبرپختونخوا حکومت کا سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کیا تب وہ وزیراعظم نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر کیس میں عمران خان سے 34 کروڑ 70 لاکھ کی ریکوری بنتی ہے، جو فی الحال وصول کرنے ہیں۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے نیب کو ہیلی کاپٹر کیس میں ریکوری کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجوع کرنے کی ہدایت بھی کر دی ہے۔نیب کی جانب سے مرتب کردہ دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر خیبر پختونخوا کا سرکاری ہیلی کاپٹر 166 گھنٹے استعمال کیا جس سے قومی خزانے کو 7 کروڑ سے زائد کا نقصان ہوا۔ جبکہ اوور ہالنگ کی مد میں قومی خزانے کو 3 کروڑ 70 لاکھ کا نقصان ہوا۔
دستاویزات کے مطابق گورنر اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے استعمال کے لیے سال 2010 میں دو ہیلی کاپٹر خریدے گئے اور ہیلی کاپٹر صرف وزیر اعلیٰ کی اجازت سے ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی اجازت سے 1800 غیر متعلقہ لوگوں نے خیبر پختونخوا کے سرکاری ہیلی کاپٹر کو استعمال کیا جس سے قومی خزانے کو 24 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ غیر متعلقہ لوگوں نے خیبر پختونخوا کے سرکاری ہیلی کاپٹر کو 561 گھنٹے استعمال کیا اور فلائٹ کے دوران وزیر اعلیٰ اور گورنر دونوں موجود نہیں تھے۔ دستاویزات میں لکھا گیا ہے کہ سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرنے سے قومی خزانے کو 34 کروڑ ستر لاکھ کا نقصان ہوا، دستاویزات کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے دونوں ہیلی کاپٹرز کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال پر دے دیا تھا مگر 1800 لوگوں نے 561 گھنٹے سے زائد سرکاری ہیلی کاپٹر کو استعمال کرنے کے باوجود قومی خزانے میں کوئی رقم جمع نہیں کروائی۔

چنانچہ سابق چییرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے تحریک انصاف کی جانب سے خیبر پختونخوا حکومت کے سرکاری ہیلی کاپٹرز کے غیر قانونی استعمال کا نوٹس لیا تھا جس کے بعد عمران خان کے خلاف ریفرنس دائر کردیا گیا تھا۔

دوسری جانب نیب والے بطور وزیر اعظم عمران خان کے استعمال میں رہنے والے ہیلی کاپٹر پر اٹھنے والے اخراجات بارے معلومات اکٹھی کر رہے ہیں تاکہ ریفرنس دائر کیا جا سکے۔ نیب کے پاس موجود دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران خان نے اپنے دور اقتدار میں کل دو ہزار 725 گھنٹے ہیلی کاپٹر پر سفر کیا اور اس حساب سے فی گھنٹہ کل دو لاکھ 75 ہزار روپے خرچ ہوئے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس ہیلی کاپٹر پر جون 2018 سے مارچ 2022 کے دوران کل 984 ملین یعنی 98 کروڑ خرچ ہوئے۔ وزارت اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹر کی دیکھ بھال و مرمت پر 51 کروڑ اور فلائٹ کے دوران اخراجات پر 47 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ اب اگر ہم سالانہ بنیادوں پر دیکھیں تو مریم اورنگزیب کی جانب سے مہیا کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے چار سال کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

2018 میں اگست میں عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد اس برس دسمبر تک ہیلی کاپٹر کا خرچ تین کروڑ 70 لاکھ تک تھا اور کُل 289 گھنٹے پرواز کی گئی۔ سنہ 2019 میں تقریباً 742 گھنٹے پرواز پر 13 کروڑ 10 لاکھ خرچ آیا۔ سنہ 2020 میں کچھ گھنٹے کمی کے ساتھ پرواز کے گھنٹے 729 رہے جبکہ خرچہ 14 کروڑ 30 لاکھ ہوا۔ سنہ 2021 میں سفر کے اوقات بڑھ کر 800 گھنٹے ہوئے، اس برس خرچ کم رہا جو 12 کروڑ 30 لاکھ بتایا گیا ہے۔ رواں برس مارچ تک کے اعداد و شمار بھی بتائے گئے ہیں اور اس عرصے میں عمران خان نے وزیراعظم کی حیثیت سے 164 گھنٹے اس ہیلی کاپٹر کو استعمال کیا اور اس پر ساڑھے تین کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ چار برسوں کے بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو بجٹ میں مخصوص رقم اسکے اخراجات کے لیے رکھی جاتی تھی۔ یہاں یہ بات بتانی ضروری ہے کہ عمران خان ہیلی کاپٹر پر سفر صرف بنی گالہ اور دفتر جانے کے لیے ہی نہیں استعمال کرتے تھے بلکہ پنجاب اور خیبر پختواخوا اور نور خان ائیر بیس کے لیے بھی استعمال کرتے تھے۔

Back to top button