حکومت نے ڈریکونئین سوشل میڈیا قوانین منظور کر لئے


وزیراعظم عمران خان کی میڈیا دشمن حکومت نے بالآخر سوشل میڈیا پر اپنا شکنجہ کسنے اور اسکی آزادی سلب کرنے کے ایجنڈے کے تحت ڈیجیٹل میڈیا قوانین میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔ نئی ترامیم کے تحت فیس بک، یوٹیوب، ٹویٹر جیسی سوشل میڈیا کمپنیوں کو پاکستان میں اپنے کنٹری دفاتر کھولنا ہوں گے ورنہ انھیں یہاں کام کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس کے علاوہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو ان کمپنیوں کے لائن انفارمیشن سسٹم کو بلاک کرنے اور 50 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے۔ ترمیم شدہ قواعد پاکستان کے گزٹ میں شائع کیے جائیں گے جس کے بعد وہ ڈیجیٹل میڈیا کے لیے موجودہ قوانین کا حصہ بن جائیں گے۔ تاہم تمام بین الاقوامی سوشل میڈیا کمپنیوں نے نئے قوانین کو مسترد کرتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ وہ انکے ردعمل میں پاکستان میں اپنی سروسز بند کر سکتے ہیں کیونکہ ان قواعد و ضوابط کے تحت کام جاری رکھنا انکے لیے ناممکن ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ یہی آمرانہ قوانین کپتان حکومت نے پچھلے برس بھی متعارف کروانے کی کوشش کی تھی لیکن شدید عوامی مخالفت کے بعد اسے پیچھے ہٹنا پڑا تھا۔ اب وفاقی کابینہ نے گزشتہ سال بنائے گے انہی متنازع ڈیجیٹل میڈیا قوانین میں کچھ ترامیم کے بعد انکی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ بدنام زمانہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ 2016 یعنی پیکا ایکٹ کے سیکشن 37 کے تحت بنائے گئے قوانین میں ترامیم کو وفاق کابینہ نے منظور کر لیا ہے۔ اب ترمیم شدہ قوانین کے مطابق غیر قانونی آن لائن مواد کو ہٹانا اور مسدود کرنا ممکن ہو گیا یے۔ پیکا کے رولز 2021 کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو نیا قانون نافذ ہونے کے تین ماہ کے اندر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یعنی پی ٹی اے کے ساتھ رجسٹرڈ ہونا لازمی ہو گا۔
فیس بک، یوٹیوب، ٹویٹر اور دیگر بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں کو اسی دورانیے میں پاکستان میں اپنی کمپنی کے بااختیار تعمیلی افسر اور شکایتی افسر بھی مقرر کرنا ہوں گے جنکے ذمہ سات دنوں کے اندر حکومتی شکایات کا ازالہ کرنا لازمی ہوگا۔ ترمیم شدہ قوانین سوشل میڈیا کمپنیوں کو یہ بھی ہدایت کرتے ہیں کہ وہ لاگو ہونے کے چھ ماہ کے اندر پاکستان میں کنٹری دفاتر قائم کریں۔ اسکے علاوہ پی ٹی اے تمام سوشل میڈیا کمپنی کو آن لائن مواد ہٹانے یا اس تک رسائی روکنے کے لیے 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دے گا۔ اگر سروس فراہم کرنے والا ادارہ یا سوشل میڈیا کمپنی مخصوص وقت کے اندر مواد ہٹانے، اس تک رسائی کو روکنے یا حکم تعمیل میں ناکام رہی تو پی ٹی اے انکے خلاف کارروائی کا آغاز کر سکتا ہے۔ 48 گھنٹوں کے اندر شکایت دور نہ ہونے پر سوشل میڈیا کمپنیوں کو حکومت کی جانب سے شوکاز نوٹس بھی جاری کیا جا سکے گا۔
اسکے علاوہ حکومت کو عدم تعمیل کی تحریری وضاحت بھی دینا ہو گی۔ اگر سروس فراہم کرنے والی سوشل میڈیا کمپنی ایسے نوٹس کا جواب دینے میں ناکام رہتے ہے تو پی ٹی اے اس کی سروسز خاص مدت کے معطل یا محدود کرنے کا مجاز ہو گا۔ نئے قواعد کے تحت پی ٹی اے کو کسی بھی سوشل میڈیا کمپنی کا آن لائن انفارمیشن سسٹم بلاک کرنے یا 50 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔ ترمیم شدہ قواعد پاکستان کے گزٹ میں شائع کیے جائیں گے جس کے بعد وہ ڈیجیٹل میڈیا کے لیے موجودہ قوانین کا حصہ بن جائیں گے۔ یاد رہے کہ نومبر 2020 میں منظور شدہ سوشل میڈیا رولز کو ڈیجیٹل حقوق کے نمائندوں، انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز آف پاکستان اور ایشیا انٹرنیٹ کولیشن کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر قواعد میں ترمیم نہ کی گئی تو پاکستان میں اپنی سروسز میں بند کردیں گے کیونکہ ان قواعد و ضوابط کے تحت ان کے لیے اپنا کام جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ ان قوانین کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کیا گیا تھا، درخواست پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو یقین دلایا تھا کہ حکومت قواعد پر نظرثانی کے لیے تیار ہے۔
بعد ازاں مارچ 2021 میں وزیر اعظم عمران خان نے متنازع سوشل میڈیا قوانین کا جائزہ لینے کے لیے ایک بین وزارتی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے نئے قواعد تیار کر کے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی سے 23 ستمبر کو منظور کروائے تھے جن کی اب وفاقی کابینہ نے منظوری دے دی۔ تاہم فیس بک، یو ٹیوب، ٹویٹر اور دیگر بین الاقوامی سوشل میڈیا کمپنیوں نے ترمیم شدہ قانون کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ پریشانی کا سبب بننے والی دفعات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے بلکہ انہیں مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ ایشیا انٹرنیٹ کولیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر جیف پین نے اپنا عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایشیا انٹرنیٹ کولیشن کی رکن کمپنیاں نئے قوانین سے اور بھی مایوسی کا شکار ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی ماہ تک انڈسٹری کی جانب سے بار بار آرا دیے جانے کے باوجود نئے قوانین میں ایسی سخت پریشان کن دفعات شامل کر دی گئی ہیں جن پر عملدرآمد ممکن نہیں ہے اور ہو سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان میں اپنی سروسز بند کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

Back to top button