صادق سنجرانی کو بطور چیئرمین سینٹ فارغ کرنے کا منصوبہ

پیپلز پارٹی کی قیادت نے حکمران اتحادی جماعتوں کی مدد سے چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی کو فارغ کر کے ان کی جگہ ایک مرتبہ پھر سید یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری نے یوسف رضا گیلانی کو گرین سگنل دیدیا ہے کہ وہ چیئرمین سینٹ کے اہم ترین آئینی عہدہ کے حصول کیلئے لابنگ شروع کردیں تاکہ ہوم ورک مکمل ہونے پر موجودہ چیئرمین سینٹ سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جا سکے۔
یاد رہے کہ اس وقت سینیٹ میں حکمران اتحاد کو واضح اکثریت حاصل ہےاور ان کیلئے چیئر مین سینٹ کا عہدہ حاصل کرنے کا سنہرا موقع ہے۔ اس عہدے کی اہمیت اس وجہ سے زیادہ ہے کہ عمران خان کا رائٹ ہینڈ سمجھے جانے والے صدر علوی کی رخصت یا ملک سے عدم موجودگی میں چیئر مین سینیٹ ہی قائم مقام صدر بنتے ہیں۔ اس سے پہلے حکمران اتحاد نے صدر عارف علوی کے مواخذے پر بھی غور کیا تھا لیکن اس کیلئے دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ دوسری طرف چیئر مین سینٹ کو ہٹانے کیلئے ایوان بالا میں سادہ اکثریت کی ضرورت ہے۔
لیکن صادق سنجرانی کے قریبی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چیئر مین سینٹ ایوان بالا میں عددی اکثریت کھونے کے باوجود مضبوط پوزیشن رکھتے ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ ذاتی طور پر ممبران سینٹ سے بہت اچھے مراسم رکھتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بطور چیئر مین ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی ایک جانب واضح جھکائو کی بجائے بظاہر توازن قائم رکھا جائے۔ تیسری وجہ انکی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے قربت ہے۔ اس وقت سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت پی ٹی آئی ہے جس کے 27 سنیٹرز ہیں۔ سینیٹ میں تحریک انصاف کی اتحادی جماعت جی ڈی اے کا ایک اور مسلم لیگ ق کا بھی ایک سنیٹر ہے۔ جماعت اسلامی کا بھی ایک سنیٹر ہے جس نے ماضی میں بھی خبھی کسی سائڈ کو ووٹ نہیں دیا۔ اسکے علاوہ دو آزاد سنیٹرز بھی پی ٹی آئی کیساتھ ہیں لیکن عمران کے حمایتی ارکین سینیٹ کی مجموعی تعداد محض 32 بنتی ہے۔
دوسری جانب حکمران اتحاد کے سنیٹرز کی تعداد 67 ہے۔ ایک نشست اسحقٰ ڈار کے حلف نہ اٹھانے کی وجہ سے خالی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ممبران کی تعداد 22 ہے۔ مسلم لیگ ن کے 17 سینیٹتز ہیں، بلوچستان عوامی پارٹی کے 12 ہیں، جے یو آئی ف کے 5 سینیٹرز ہیں، ایم کیو ایم کے تین، اے این پے کے 2 اور نیشنل پارٹی کے بھی دو سینیٹرز ہیں جبکہ پختون خواہ ملی عوامی پارٹی اور بی این پی مینگل کا ایک ایک سنیٹر ہے۔ یوں حکومتی اتحاد کے سینیٹ میں پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کے مقابلے میں تقریبا دوگنے ووٹ ہیں۔
ذرائع کے مطابق باپ کہلانے والی بلوچستان عوامی پارٹی اگرچہ بلوچستان میں حکمران اتحاد کی حلیف ہے لیکن چیئر مین سینٹ کو عدام اعتماد کی صورت میں باپ کے تمام ممبران سینٹ ایک جانب نہیں جائیں گے۔اس ایشو پر باپ منقسم ہے۔باپ کے کئی سنیٹرز کھلے عام صادق سنجرانی کو سپورٹ کرتے ہیں جس کی ایک وجہ ان کا بلوچستان سے تعلق ہونا ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی صورت میں انہیں 63 ووٹ پڑیں گے۔ اصل نتیجہ تو وقت آنے پر پتہ چلے گا لیکن اگر چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی تو دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلہ ہوگا۔
