ایاز امیر بہو کے قتل کیس میں 1 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

صحافی ایاز امیر کوبہو کے قتل کیس میں 1 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا۔
ایاز امیر کو ڈیوٹی جج زاہد ترمذی کی عدالت میں پیش کیا گیا، ایاز امیر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ میں نے خود پولیس کو اطلاع دی، ایس ایچ او کو فارم ہاؤس کا پتا تک میں نے دیا، قتل کے وقت میں اسلام آباد میں نہیں چکوال میں تھا۔
عدالت میں وکیل صفائی نے کہا کہ ایاز امیر کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہیں جبکہ پولیس نے بھی تصدیق کی کہ واقعے کی اطلاع ایاز امیر نے ہی دی تھی۔
دوران سماعت وکیل صفائی کہا کہ ایاز امیر کا نام ایف ائی آر میں نامزد نہیں ہے جبکہ پولیس نے کہا کہ ہائی پروفائل کیس ہے، ملزم کے والد کو شامل تفتیش کرنا ہے۔
سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے ایاز امیر کے 4 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تاہم عدالت نے ایاز امیر کو ایک روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔
ڈیوٹی جج محمد زاہد ترمذی نے ایاز امیر کا ایک روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔
دوران سماعت پولیس نے ملزم کے والدین کے علاوہ چچا، چچی کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی بھی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے ملزم کے والدین کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست منظور کرتے ہوئے چچا چچی کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔
صحافی ایاز امیر کو بیٹے کے ہاتھوں بہو کے قتل کے باعث تفتیش کے لیے گزشتہ رات گرفتار کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے 23 ستمبر کو معروف صحافی ایاز امیر کے بیٹے کو اپنی کینیڈین شہری بیوی کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت 37 سالہ سارہ انعام کے نام سے ہوئی جو مبینہ قاتل کی تیسری بیوی تھی اور جمعرات کو ہی دبئی سے اسلام آباد پہنچی تھیں۔پولیس کے مطابق دونوں سوشل میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے تھے جس کے بعد چند ماہ قبل شادی کی تھی۔
قتل کا واقعہ شہزاد ٹاؤن میں واقع ایک فارم ہاؤس میں پیش آیا جہاں ملزم اپنی والدہ کے ساتھ رہتا تھا۔
