عمران کو سزا کے بعدیوتھئے پاکستان سے نفرت میں اندھے

توشہ خانہ کیس میں عمران خان کرپشن کا مجرم قرار دئیے جانے کے بعد اوورسیزیوتھیوں کے حوالے سے اگر کچھ سامنے آیا تو وہ پاکستان دشمنی کےچند ایک واقعات تھے۔ ایک شخص پاکستانی پاسپورٹ پھاڑ رہا ہے تو دوسرا ایک پاکستانی قونصلیٹ سے قومی پرچم کر اتار کر تحریک انصاف کا جھنڈا لگا کر اپنی ویڈیو شئیر کر رہا ہے۔ ایک خاتون فوج اور فوج کی اعلیٰ قیادت کے خلاف گھٹیا زبان استعمال کر رہی اور ایک اور خاتوں اعلان کر رہی ہے کہ 14اگست نہیں منایا جا ئے گا۔یہ عمران خان سے کیسی محبت ہے جس نے ان لوگوں کو اس حد تک گرا دیا کہ پاکستان دشمنی پر اُتر آئے۔ ان خیآلات کا اظہار سینئر صحافی اور کالم نگار انصار عباسی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ لکھتے ہیں کہ بیرون ملک رہنے والے ایسے تمام افراد کی پاکستانی شہریت ختم کرنی چاہئے جو ایک سزا یافتہ سخص کی محبت میں اپنی ہی مادر وطن سے دشمنی کر رہے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی اوورسیز کمیونٹی کو ایسےپراگندہ طبع لوگوں کی کھل کر مذمت کرنی چاہئے کیوں کہ یہ لوگ تمام اوور سیز پاکستانیوں کی بدنامی کا بھی باعث بن رہے ہیں۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان پاکستان دشمنوں کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ سچ ہے یا جھوٹ، لیکن ان واقعات کے خلاف تحریک انصاف کے رہنما، اُن کی کور کمیٹی اور اوورسیز تنظیموں کی طرف سے کوئی آواز کیوں نہیں اُٹھائی گئی؟۔ افسوس صد افسوس تحریک انصاف کے کسی رہنما نے ان واقعات پر کوئی مذمتی بیان تک بھی جاری نہیں کیا!۔ انصار عباسی کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں اپنی گرفتاری سے قبل ایک وڈیو ریکارڈ کرائی جو اُن کی گرفتاری کے بعد سامنے آئی۔ اس وڈیو میں عمران خان نے کہا کہ یہ پیغام پاکستان کے عوام کیلئے ہے جب یہ پیغام عوام تک پہنچے گا اُن کو گرفتار کیا جا چکا ہو گا۔میری عوام سے اپیل ہے کہ آپ نے گھروں میں چپ کر کے نہیں بیٹھنا۔ جو جدوجہد میں کر رہا ہوں وہ اپنی ذات کیلئے نہیں بلکہ عوام کیلئے اوراس قوم کے بچوں کے مستقبل کیلئے کر رہا ہوں۔اُنہوں نے عوام پر زور دیا کہ اگر آپ اپنے حقوق کیلئے کھڑے نہ ہوۓ تو ہمیشہ غلامی کی زندگی گزاریں گے، غلامی کی زنجیریں بغیر جدوجہد کے نہیں ٹوٹتیں،آزادی کوئی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیتا۔ عمران کے اس خطاب کا اصل مقصد اپنے ووٹروں ، سپوٹروں اور چاہنے والوں کو اپنی گرفتاری کے خلاف پرامن احتجاج کیلئے باہر نکالنا تھا بلکہ وہ پرامن احتجاج کا ایک سلسلہ چاہتے تھے۔ لیکن اُن کی گرفتاری کے بعد نہ کوئی احتجاج دیکھا گیا، نہ کوئی تحریک انصاف کا رہنما باہر نکلا۔ اگر کہیں کوئی نکلا تو درجن دو درجن سے زیادہ افراد کہیں نظر نہ آئے
