27 ویں ترمیم: کیا عمران والی غلطی شہباز بھی دہرا رہے ہیں؟

تحریک انصاف کے لیے ہمدردیاں رکھنے والے معروف لکھاری اور تجزیہ کار کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر نے مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ ہائبرڈ نظام بھی فرمانبرداری کے اس اصول پر کار فرما ہے جو عمران خان کے دور حکومت میں اپنایا گیا تھا، لیکن اس کے نتیجے میں سویلین بالادستی کا جنازہ اٹھ گیا تھا لہذا شہباز شریف کو خان والی غلطی دہرانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

ایاز میر اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ نہ جانے موجودہ حکومت کو اب کس چیز کی کمی ہے کہ اسے مزید قانون سازی کی ضرورت پڑ رہی ہے؟ سیاسی نظام فارم 47 کے تابع ہے، پھر بھی اصل فیصلہ سازوں کو حکومت اور پارلیمان کی فرمانبرداری میں کوئی کمی محسوس ہو رہی ہے۔ عدلیہ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہیں، ایسے میں نظام کی بے توقیری بے معنی ہوکر رہ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین میں مجوزہ 27ویں ترمیم کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی خصوصاً ایک ایسے وقت میں کہ جب ارادہ ظاہر کرنے کی دیر ہوتی ہے اور اشاروں پہ کام ہو جاتا ہے۔

ایاز امیر کہتے ہیں کہ 27 ویں ترمیم کا اصل ہدف آئین کی شق 243 سمیت بعض شقیں ہیں جن میں تبدیلی مقصود ہے۔ پتا نہیں چل سکا کہ ان شقوں میں کون سی نئی چیز ڈالی جا رہی ہے اس سے پہلے پارلیمانی سیٹ اَپ نے اپنی فرمانبرداری کا ثبوت جنرل قمر باجوہ کی ایکسٹینشن کی صورت میں مہیا کر دیا تھا۔ تب خان صاحب کی حکومت تھی‘ اور وہ توسیع دینے کے حق میں تھے۔ کسی ناگہانی طریقے سے مسئلہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سپریم کورٹ تک پہنچا تو چیف جسٹس نے فرمایا کہ توسیع کا تو کوئی قانون موجود نہیں‘۔ ایسے میں خان صاحب کو کھوسہ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ فیلڈ مارشل ایوب خان کی دس سالہ آمریت‘ جنرل یحییٰ خان کی ڈھائی سالہ پیوند کاری‘ جنرل ضیا الحق کے گیارہ سال کے کھلواڑ اور جنرل پرویز مشرف کی آٹھ سالہ روشن خیالی کے لیے کس قانون کی ضرورت تھی؟ لیکن خان کی حکومت نے یہ سوال نہ اٹھایا اور باقاعدہ قانون سازی کی تیاریاں ہو گئیں۔ باجوہ اس بات پر راضی نہ ہوئے کہ مجوزہ قانون کے لیے محض خان صاحب کی حمایت میسر ہو رہی ہے‘ ان کی خواہش تھی کہ چونکہ مسئلہ اہم ہے لہٰذا قانون سازی میں سارے سیاسی ریوڑ کی حمایت ہونی چاہیے۔ پیچھے سے ریشہ دوانیوں کا سلسلہ شروع ہوا تو پارلیمان میں موجود ساری سیاسی پارٹیاں قانون کی حمایت میں کھڑی ہو گئیں۔

بلاول بھٹو نے 27 ویں ترمیم کی پٹاری کھول کر کیا حاصل کیا ہے ؟

ایاز امیر کہتے ہیں کہ جب سیاسی لوگوں کی نفسیاتی حالت ایسی پتلی ہو تو مزید کسی کو انگوٹھا چھاپ بنانے کا کیا مقصد رہ جاتا ہے؟ اس وقت پاکستان کے تمام سیاسی نظام کا بنیادی اصول فرمانبرداری ہے۔ لہٰذا جب ہر طرف مرضی چل رہی ہو تو مزید قانونی اور آئینی ضمانتوں کی ضرورت نہیں رہتی۔ بہرحال ہم کون ہیں انکار کرنے والے۔ یعنی جو ہمارے بس میں ہے وہ حاضر ہے۔ ایسے میں ہم تو دعا ہی کر سکتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ 1971 کا سانحہ مشرقی پاکستان ہو یا نام نہاد افغان جہاد ہو، وقت کے گاڈ فاردر جو کرتے رہے وہی ریاستی پالیسی بنی اور حب الوطنی کے پیمانے بھی انہی پالیسیوں کو دیکھ کر تشکیل پاتے رہے۔ یعنی 1970 کے انتخابات کے نتائج نہ تسلیم کیے گئے اور عوامی لیگ پر چڑھائی ہوئی تو اس وقت تقاضا وہی ٹھہرا۔

جب پاکستان کو افغانستان کی دلدل میں دھکیلا گیا تو اس فیصلے کو اعلیٰ ترین قومی مفاد میں لیا گیا فیصلہ قرار دیا گیا۔ لیکن اب جبکہ بات ترکیہ اور قطر کی سفارتی کوششوں تک جا پہنچی ہے تو کوئی تو پوچھے کہ اکابرینِ ملت چالیس سال تک جو جھک افغانستان میں مارتے رہے اس کا کیا جواز تھا؟ لیکن اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ طاقتور فیصلہ سازوں سے ایسے سوال کس نے کرنے ہیں اور ان کے جواب کس نے دینے ہیں۔ اگر کسی مقبول سیاست دان یا عوامی رہنما سے ایسی غلطی ہو جائے تو سوال جواب کا طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور معافی کی گنجائش بھی نہیں رہتی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ بھٹو کو راستے سے ہٹانا ضروری تھا اس لیے نہیں کہ انہعں نے کسی کا قتل کرایا تھا بلکہ اس لیے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے سیاسی خطرہ بن گئے تھے۔ لہذا بھٹو پر ایک جھوٹا مقدمہ قتل درج ہوا، اس کے بعد اس معاملے میں جو ہیر پھیر ہو سکتا تھا وہ کیا گیا کیونکہ بھٹو کو پھانسی کے تختے پر لٹکانا ضروری تھا۔

 

ایاز امیر کہتے ہیں کہ عدلیہ کو بھی دیکھیں اس کا کیا حال ہو چکا ہے، 45 سال بعد بھٹو کیس کی ریویو پٹیشن کا فیصلہ سناتے ہوئے تسلیم کیا جاتا ہے کہ فیصلہ سنایا جاتا ہے کہ یہ مقدمہ ٹھیک طریقے سے نہیں چلایا گیا تھا اور پھانسی کا فیصلہ غلط تھا۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسا ویژن رکھنے والے سیاستدان کے لیے معافی کی کوئی گنجائش نہیں لیکن جنہوں نے طالبان کو ایک طاقتور قاتل گروہ کے طور پر کھڑا کیا اور اسے دودھ پلایا، ان سے کوئی سوال نہیں پوچھا جا سکتا۔ افسوس صد افسوس کہ یہاں کا یہی دستور ہے۔

 

Back to top button