عوام سے زیادتی کرنے والے کپتان نے کنڈوم بھی مہنگے کر دیئے

اپنے ساڑھے تین برس کے اقتدار میں پاکستانی عوام پر پے در پے مہنگائی کے بم گرانے اور ان سے مسلسل زیادتی کرنے والے وزیراعظم عمران خان نے اب شدید سردی کے موسم میں کنڈوم مہنگے کر کے ان کی رہی سہی خوشیاں بھی چھین لی ہیں۔ تحریک انصاف حکومت کے عوام دشمن ضمنی بجٹ میں روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء کے علاوہ کنڈوم سمیت مانع حمل ادویات کی قیمتوں پر 17 فیصد ٹیکس عائد کئے جانے کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس غلط فیصلے سے شادی شدہ جوڑوں میں فیملی پلاننگ کا رجحان کم ہو جائے گا جس کے نتیجے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے جن کو قابو کرنا ناممکن ہوجائے گا۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے پارلیمںٹ سے 13جنوری کو ایک سپلیمنٹری فنانس بل پاس کیا ہے جس میں کنڈوم سمیت مانع حمل ادویات پر دو ارب سے زائد ٹیکس لگانے کا اعلان کیا گیا۔ ملک بھر میں تقریباً 21 غیر سرکاری تنظیموں کے ’اتحاد برائے آبادی‘ نے وفاقی حکومت کی جانب سے مانع حمل ادویات پر ٹیکس لگانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس لگانے سے خاندانی منصوبہ بندی کے لیے ہونے والی کاوشوں کو نقصان پہنچے گا۔حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی مانع حمل ادویات اور طریقوں پر ٹیکس لگانے کی مذمت کی ہے۔
قومی اسمبلی میں منی بجٹ پاس ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجھے عمران جیسے کھلاڑی سے مانع حمل ادویات پر ٹیکس لگانے کی امید نہیں تھی۔ پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور ہمارے اس خطے میں بے تحاشہ آبادی کی وجہ سے ہم ان کے لیے روزگار، صحت و تعلیم اور خوراک کا بندوبست نہیں کر سکتے۔جبکہ دوسری جانب ہم اس پر ٹیکس لگا رہے ہیں۔ پوری دنیا میں اس سیکٹر کو سپورٹ کیا جا رہا ہے جبکہ عمران خان اس پر ٹیکس لگا رہے ہیں۔
سول سوسائٹی تنظیموں کے مطابق اس سے پہلے مانع حمل ادویات ٹیکس سے مستثنٰی تھیں لیکن اب ان پر ٹیکس لگا کر غریب عوام کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔ اتحاد برائے آبادی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مانع حمل طریقوں کی پوری نہ ہونے والی ضروریات کی بلند شرح کی ایک بڑی وجہ خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں تک رسائی میں کمی اور ان کا مہنگا ہونا ہے۔اعلامیے کے مطابق اس وقت پاکستان میں امیر و غریب طبقے سے رکھنے والے 53 فیصد شادی شدہ جوڑے مانع حمل ادویات فارمیسیز اور نجی سیکٹر سے خریدتے ہیں۔
اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ خاندانی منصوبہ بندی کرنے والے شادی شدہ جوڑوں کی شرح میں گذشتہ سال کے مقابلے میں کمی آئی ہے۔ پاکستان کے سرکاری ادارہ برائے شماریات کی رپورٹ کے مطابق 20- 2019 میں 19- 2018 کے مقابلے میں مانع حمل کی شرح میں تقریباً 24 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ 19-2018 کے مقابلے میں اب 100شادی شدہ جوڑوں میں سے اوسطاً 24 جوڑے فیملی پلاننگ کرتے ہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق سندھ کے علاوہ تمام صوبے بشمول پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور اسلام آباد میں مانع حمل طریقوں کے استعمال کی یہ شرح کم ہوئی۔ پختونخوا میں 74 فیصد اور بلوچستان میں 19 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اسلام آباد میں یہ شرح 28 فیصد، آزاد کشمیر میں کمی کا تناسب 39 فیصد، گلگت بلتستان میں 13فیصد جبکہ قبائلی اضلاع میں اس شرح میں 59 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
اس رپورٹ میں اس بات کا بھی احاطہ کیا گیا کہ کس قسم کے مانع حمل طریقوں میں کمی سامنے آئی ہے تو اس میں سر فہرست انجیکٹبلز یعنی انجکشن لگا کر خاندانی منصوبہ بندی کے طریقہ کار میں 27 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔ جبکہ دوسرے نمبر میں کنڈوم ہیں جس کے استعمال میں 25 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔
پارلیمنٹ قومی سلامتی پالیسی سے بے خبر ہے
خاندانی منصوبہ بندی پر کام کرنے والی سول سوسائٹی تنظیموں کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ 2018میں سپریم کورٹ کی جانب سے سوموٹو نوٹس لینے کے بعد آبادی میں پائیدار اضافے کے حصول کے لیے مشترکہ مفادات کونسل نے اپنی سفارشات پیش کی تھیں۔ مشترکہ مفادات کونسل کے مطابق اگر ان سفارشات پر عمل کیا جا سکے تو آبادی اور وسائل کے درمیان توازن پیدا کیا جا سکتا ہے۔
ان سفارشات میں عوام تک مانع حمل ادویات اور طریقوں تک رسائی میں بہتری شامل ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے اب ان ادویات اور طریقوں پر سالانہ بنیادوں پر ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں۔ اعلامیے کے مطابق نئے سپلیمینٹری بل میں کچھ روزمرہ اشیاٗ کے استعمال پر ٹیکس عائد کیا گیا جن میں مانع حمل ادویات بھی شامل ہیں جو پہلے ٹیکس سے مستثنی تھیں۔ مینوفیکچررز کا کہنا ہے کہ اگر تین کنڈوم والے پیکٹ کی قیمت 60 روپے ہو اور 17 فیصد سیلز ٹیکس لگایا جائے تو اس کی ممکنہ نئی قیمت تقریبا 70 روپے ہو جائے گی اور کسی بھی غریب شخص کے لیے دس روپے بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔
حکومت کو کم از کم اس معاملے میں غریبوں پر ترس کھانا چاہیے تھا۔ ماہرین کے مطابق گر دو سال تک مانع حمل طریقے پر عمل کیا جائے تو سالانہ تقریباً چار ہزار اور دو سال میں آٹھ ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں جبکہ ڈاکٹروں کی فیس علیحدہ ہے۔ ایسے میں اگر مانع حمل ادویات مہنگی ہونے سے فیملی پلاننگ کرنے والے جوڑوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔