پارلیمنٹ اور عدلیہ آمنے سامنے، کھلی جنگ شروع

سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ میں کھلی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ چیف جسٹس سپریم  کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے سیاستدانوں پر مخصوص ججز کے ذریعے من پسند فیصلے حاصل کرنے کے الزامات اور قومی اسمبلی سے پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ طلب کرنے کے بعد خواجہ آصف نے جہاں عدلیہ کی ماضی کی سیاہ کاریوں کا کڑا احتساب کرنے اور تمام حاضر سروس اور ریٹائرڈ ججز سے جواب طلبی کا مطالبہ کیا ہے وہیں چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان نے پیش ہو کر سپریم کورٹ کے اکاؤنٹس کا حساب مہیا نہ کرنے پر رجسٹرار سپریم کورٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ پارلیمنٹ میں اراکین کے جارحانہ رویے سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مقننہ نہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہے اور نہ ہی کسی صورت اپنے اختیارات پر کوئی کمپرومائز کرے گی۔

سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کے آمنے سامنے آنے کے بعد وفاقی دارالحکومت میں سیاسی، آئینی اور عدالتی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک بھونچال کی سی کیفیت ہے ہر دن نتیجہ خیز ہونے کے امکان اور خدشے کی ملی جلی کیفیت میں گزرتا ہے اور اس صورتحال میں اگلے دن کا سورج طلوع ہو جاتا ہے ، 2مئی کے دن کا آغاز بھی عدالتی اصلاحات کیخلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران چیف جسٹس کے ان ریمارکس کے حوالے سے سیاستدانوں کو چھبتا ہوا محسوس ہوا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سیاست نے تمام عدالتی کارروائی کو آلودہ کردیا ہے سیاسی فریقین انصاف نہیں فائدہ چاہتے ہیں ان ریمارکس کا جواب تو سیاستدانوں کے پاس تھا اور انہوں نے اپنے بیانات کے ذریعے جواب دینے میں دیر نہیں لگائی لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے قانون پر پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ طلب کئے جانے پر اسکا جواب مفصل اور مدلل انداز میں خواجہ محمد آصف، نور عالم اور میاں جاوید لطیف نے فلور آف دی ہاؤس پر دیا، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی جو عدالتی فیصلوں سے زخم خوردہ ہیں لیکن سلے ہوئے لبوں سے احتجاج اور اپنے خلاف ہونیوالی مبینہ ناانصافیوں پر کئی دہائیوں سے خاموش تھیں اب انہیں اس حوالے سے پارلیمنٹ کا فورم آزادی سے اپنے سیاسی دکھوں کے اظہار کا وسیلہ بن گیا ہے اور وہ نہایت دلیری، جراتمندی اور نتائج کی پرواہ کئے بغیر اپنے دل کے پھپھولے پھوڑ رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ دونوں جماعتوں کے قائدین اور رہنماؤں کے پاس اس حوالے سے اتنا مواد ہے کہ وہ اس موضوع پر قومی اسمبلی کا اجلاس مہینوں جاری رکھ سکتے ہیں، خواجہ محمد آصف نے تو فوجی آمروں کی جانب سے آئین معطل کئے جانے کا ذکر کرتے ہوئے استفسار کیا کہ جمہوریت کا بار بار خون ہوا کیا ان عدالتی کارروائیوں کی پروسیڈنگ منگوائی جائیگی؟، انہوں نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے قدرے بگڑے ہوئے لب ولہجے میں کہا کہ عدلیہ کا بھی یوم احتساب آنا چاہئے انکی تاریخ بھی سامنے آنی چاہئے انہیں بھی معافی مانگنی پڑیگی اس ادارے کے لوگ سیاسی ٹکٹوں پر پیسے پکڑ رہے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کے نور عالم نے قدرے آگے بڑھ کر سپیکر سے کہا کہ ہم انکو دی جانیوالی مراعات، خطیر تنخواہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد لاکھوں روپے کی مراعات کا حساب مانگتے ہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے میں سپریم کورٹ کے متعلقہ سیکشن سے گزشتہ ایک دہائی کا حساب مانگ رہا ہوں لیکن وہ جواب نہیں دیتے اب میں کمیٹی میں مسلسل عدم حاضری پر انکے وارنٹ بھجواؤں گا جس کی مجھے آئین اور کمیٹی کے ضوابط اجازت دیتے ہیں اس سارے معاملے میں ایوان میں موجود خواتین ارکان بھی پیچھے نہیں رہیں پیپلز پارٹی کی شازیہ مری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جو کچھ اس پارلیمنٹ کے حوالے سے کہہ رہے ہیں آئین کو ری وزٹ کرنے کے عزائم ظاہر کر رہے ہیں پارلیمنٹ کی بالادستی کو چیلنج کر رہے ہیں جناب سپیکر آپکو چاہئے کہ اسکا نوٹس لیں میں کہتی ہوں کہ وہ ٹرمینیٹر کا کردار ادا نہ کریں،ہماری کوئی سکریسی نہیں ہم جو بولتے ہیں سب سنتے دیکھتے ہیں آپکی سکریسی آپ بتائیں آپ کیا کرتے ہیں،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا حوالہ آج بھی ایوان میں آیا دیگر مقررین کی طرح شازیہ مری نے بھی ان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ثاقب نثار سابق ہوکر اپنے بیٹے کے ذریعے کروڑوں روپے کما رہے ہیں تو پھر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے دور اختیار میں کیا کچھ نہیں کرتے ہونگے اجلاس کے دوران سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کے بیٹے کی آڈیو لیک کے حوالے سے ثاقب نثارکے سیاسی اور عدالتی کردار کی شدید مذمت کی گئی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے دونوں جماعتوں کے ارکان نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور ان کیخلاف تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا، جےیوآئی کی خاتون رکن شاہدہ اختر علی نے ایم کیو ایم کے رکن ابوبکر کی تجویزپر ثاقب نثار کے بیٹے کی آڈیو لیکس پر ایک تحریک پیش کی اس سے قبل انہوں نے ثاقب نثار کے اس کردار کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور آڈیو کی فرانزک کرانے اور اس میں شامل تمام کرداروں کی متعلقہ اداروں سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ بھی کیا تو ایوان میں موجود ارکان نے اتفاق رائے سے منظور کر لیا۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال آرمی چیف کی طرح کا رول پلے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں جس طرح ملٹری چیف ہائبرڈ نظام چلا سکتے ہیں میں بھی چلا سکتا ہوں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ دنیا کے کسی چیف جسٹس میں اس طرح طاقت کا لالچ پیدا نہیں ہوا جو پچھلے چند برسوں میں ہمارے ہاں پیدا ہو چکا ہے۔ ہمارے جج فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جگہ لینا چاہتے ہیں اسی لئے آج کل چیف جسٹس کی ایکسٹینشن کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ چیف جسٹس بندیال کہتے ہیں چونکہ 8 ججوں کے خلاف ریفرنس فائل ہو چکے ہیں تو میں سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہی نہیں بلاؤں گا، یہ کیسی دلیل ہے؟ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلا کر ایک ایک ریفرنس کو ڈسکس کر کے اسے خارج کر دیں۔ چیف جسٹس نے فیصلہ کر لیا ہے کہ سپریم کورٹ کو بادشاہ کی طرح چلانا ہے۔ سینئر رپورٹر حسن ایوب خان کا موجودہ صورتحال بارے کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں اس وقت ایک تماشہ لگا ہوا ہے اور چیف جسٹس سیاسی معاملات پہ جواب الجواب دے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ سے قانون سازی کا جو ریکارڈ مانگا ہے سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کے پاس اختیار ہے کہ وہ یہ ریکارڈ مہیا کرنے سے انکار کر دیں۔ اس پہ اگر توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جاتی ہے تو اس سے عدالت کی اپنی تضحیک ہو گی۔
سپریم کورٹ کے ریمارکس اور تبصرہ پرگفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کاراحمد بلال محبوب نے کہاکہ اسمبلی کی کارروائی کی تفصیلات طلب کرنا تشویشنا ک بات ہے،احمد بلال محبوب نے کہا کہ میں تھوڑا سا حیران ہوا ہوں انہوں نے اسمبلی کی کارروائی کی تفصیلات طلب کر لی ہیں مجھے نہیں معلوم وہ کیا جاننا چاہتے ہیں اگر اسمبلی نے کوئی قانون پاس کیا ہے اور وہ مختلف مراحل سے گزرتا ہوا جوائنٹ سیشن میں بھی پاس ہوگیا ہے تو اس کے بعد یہ کیوں تفصیلات طلب کر رہے ہیں یہ تشویشناک بات ہے ۔

سینئر تجزیہ کار منیب فاروق نے کہا کہ پارلیمان کے اندر ہوئی کارروائی پر عدالت میں سوال نہیں کیا جاسکتا۔ منیب فاروق نے کہا کہ بنیادی بات یہ ہے کہ آرٹیکل 69 واضح کرتا ہے کہ پارلیمان کے اندر ہوئی کارروائی پر عدالت میں سوال نہیں کیا جاسکتا لیکن قاسم سوری کا جو معاملہ تھا جس پر انہوں نے ایک غیر قانونی اور غیر آئینی عمل کیا ،یہ مثال ہے کہ اگر کوئی غیر آئینی عمل ہوا ہے پارلیمان کے اندر بھی اور وہ کارروائی کا حصہ تو اس پر عدالت سوال اٹھا سکتی ہے اور فیصلہ بھی دے سکتی ہے اب بادی النظر میں جو ریمارکس سامنے آئے ہیں اس سے یہ تاثر یہ مل رہا ہے کہ جو قانون سازی ہوئی وہ آئین سے متصادم ہے اور جو نقطہ پاکستان تحریک انصاف یا بہت سے وکلاء اٹھا رہے ہیں کہ آئین میں ترمیم کے بغیر اس کے اندر یہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ آ نہیں سکتا تھا۔

دوسری جانب تجزیہ کار آصف ہارون کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے درمیان جاری تعطل دھماکہ خیز شکل اختیار کر گیا ہے۔ آصف ہارون کے بقول اگر یہ لاوا پھٹتا ہے تو فوج کو بے دریغ قدم اٹھانا پڑے گا۔ بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ جنرل عاصم منیر اقتدار پر قبضہ کریں اور کم از کم ایک سے تین سال کے لیے سخت مارشل لا کا اعلان کریں۔ اس کے بعد منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد سے پہلے بدعنوانوں کو ختم کرنے کے لیے مکمل سرجری کریں، اور جامع اصلاحات کریں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ تین بڑوں کے ٹرائیکاجنرل باجوہ، جنرل فیض حمید اور جسٹس ثاقب نثار نے ملک کو ان حالات میں پہنچایا- ابلتا سیاسی لاوا پھٹ گیا تو فوج کو بے دریغ قدم اٹھانا پڑے گا۔

Back to top button