عمران سمیت تمام PTI عہدیداروں کوفوری گرفتار کیا جائے
پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ کے سربراہ و جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ موالانا فضل الرحمن نے صدر مملکت عارف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے تمام عہدیداروں کو فوری گرفتار کیا جائے، ان کے ملازمین کو گرفتار کرکے مزید تفصیلات حاصل کی جائیں۔
اسلام آباد میں اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم رہنما کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا اجلاس میں حکومتی اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کے سربراہان اور نمائندگان نے شرکت کی،ہم بڑی وضاحت کے ساتھ قوم کے سامنے یہ بات کرنا چاہتے ہیں کہ فارن فنڈنگ کیس میں عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف فرد جرم آچکا ہے اور اس پر آئین اور قانون کے مطابق عملی اقدامات کہ کیا سزا بنتی ہے، معاملہ اس مرحل میں داخل ہوچکا ہے۔
انکا کہناتھااب وہ صرف ایک ملزم نہیں بلکہ مجرم قرار دیا جارہا ہے اوریہ جماعت ایک بیرونی عطیات لینے والی جماعت قرار پاچکی ہے اور ثابت ہوگیا ہے کہ پی ٹی آئی کو غیرملکی فنڈنگ ہوئی ہے،الیکشن کمیشن کے فیصلے کی رو سے بڑی صراحت کے ساتھ اب وہ صادق اور امین نہیں رہے بلکہ کذاب اور خائن بن چکے ہیں، 5 سال سے الیکشن کمیشن اور 22 سال سے مسلسل قوم سے جھوٹ بول رہا ہے اور نئی نسل کے سامنے جھوٹ بول رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئے روز عمران خان کا بیانیہ تبدیل ہوتا ہے، حکومت میں آنے سے کچھ اور باتیں کرتا، حکومت میں آنے کے بعد کچھ اور باتیں کرتا، قول کچھ اور عمل کچھ اور ہے،جو کچھ کہتا رہا بڑی آئیڈیل قسم کی باتیں لیکن عملی میدان میں آیا تو پاکستان کی تاریخ کا نااہل حکمران ثابت ہوا،انہوں نے الیکشن کمیشن کے سامنے جھوٹا سرٹیفکیٹ جمع کرایا جو آئین کی خلاف ورزی ہے، یہ ایسی خلاف ورزی ہے، جس پر سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کئی لوگوں کو نااہل قرار دے چکی ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا آج ہم اس مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں کہ صاف نظر آرہا ہے کہ اس نے ریاست اور ریاست کی عمارت زمین بوس کرنے کے لیے عالمی سطح پر مدد حاصل کی ہے،یہ ایک عالمی ایجنڈے کے طور پر عالمی امداد حاصل کرکے اقتدار تک پہنچ کر پاکستان کی ریاست کو اکھاڑ پھینکنے اور ملک کے خاتمے کے لیے اقتدار حاصل کیا، ضروری امر یہ ہے کہ آج پاکستانی قوم اور ہر وہ ادارہ، ہر ادارہ، جماعت اور ہر وہ فرد جو دفاع وطن کے جذبے سے سرشار ہے اور دفاع وطن کو اپنا فریضہ سمجھتا ہے، ان کے لیے لازم ہوگیا ہے کہ اس وقت ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں، ریاست کی بقا اور اس کے دفاع کا فرض نبھائے، دوسرا آپشن نہیں رہا۔
پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا فارن فنڈنگ کیس میں ہوش ربا حقائق سے یہ ثابت ہوگیا ہے وہ غیرملکی کٹھ پتلی ہے، لاکھوں ڈالر، اربوں روپے غیرملکی ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے وہ سیاست میں لایا، 351غیرملکی کمپنیوں، 34 غیرملکی شہریوں سے غیرقانونی فنڈنگ لی گئی، میں تو اول دن سے اس مؤقف پر ہوں کہ اس نے اسرائیل، بھارت سے مدد لی ہے، آج جو حقائق سامنے آئے ہیں تو فنڈ دینے والے شہریوں کا تعلق اسرائیل، بھارت، امریکا، کینیڈا، ڈنمارک اور فن لینڈ سمیت کئی ممالک سے ہے۔
یوم تکبیر کی وجہ سے خطے میں طاقت کا توازن بحال ہوا
پی ڈی ایم سربراہ نے کہاجن ممالک کے نام یہاں آئے ہیں وہ پاکستان کے خلاف بطور ریاست ہی نہیں سوچ رہے ہیں بلکہ پاکستان کی اسلامی حیثیت اور اسلامی ریاست کے حوالے سے ان کی سوچ دنیا کے سامنے آئی ہے، لہٰذا پاکستان کا آئین ان کے نشانے پر ہے جو ملک کے نظریے کا تعین کرتا ہے، انہوں نے الیکشن کمیشن سے 16 بینک اکاؤنٹ چھپائے، عجیب بات ہے جب فیصلہ آیا تو یک دم سے بیانات اور مبارک باد دینا شروع کیا ہمارے حق میں آیا لیکن جب ہوش آیا تو آج الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کرنے کی کوشش کی کہ فیصلہ ہمارے خلاف آیا ہے۔
انکا کہنا تھا الیکشن کمیشن بلیک میل نہیں ہوا اور فیصلہ دے دیا ہے لیکن یہ 2013 تک کے اکاؤنٹس کا حساب کتاب، جب 2013 تک اکاؤنٹس چوری کے نکل آئے ہیں تو اب ہم سمجھتے ہیں اس کے بعد کا بھی حساب لیا جائے،اس کیس میں ہم مدعی نہیں تھے، مدعی ان کی پارٹی کا ہی ایک بانی رکن اکبر ایس بابر تھا اور انہی کو سرخروئی ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے استقامت سے کیس لڑا،الیکشن کمیشن ایک ادارہ ہے، وہ حقائق کو نہیں جھٹلا سکا، ثبوت اسٹیٹ بینک نے فراہم کیے اور ان کی حکومت کے دوران کیے ہیں، سکروٹنی کمیٹی نے رپورٹ دی ہے تو ان کی حکومت میں ہی دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگوں نے اتنی بات ضرور کی ہے کہ 8 سال سے ایک کیس کیوں پڑا ہوا ہے لیکن تحقیقات اور رپورٹس جمع کرنے کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور یہ اداروں نے کیا ہے، اکبر ایس بابر کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2011 سے عمران خان کو ذاتی طور پر ان تمام غیرقانونی دھندوں اور ان جرائم سے آگاہ کیا تھا تو پھر اس کو یہ کہنا کہ مجھے تو ان چیزوں کا علم نہیں تھا تو یہ عذر ہے اور عذر بدتر از گنا ہے۔
پی ڈی ایم سربراہ نے کہا فیصلے میں تمام تفصیلات دیے ہیں اور ریکارڈ بتا رہا ہے کہ عمران خان کے اپنے دستخطوں سے اکاؤنٹ کھولے گئے، صرف ایک بینک یا ایک ادارے کی بات نہیں ہے، صرف عمران خان مجرم نہیں ہے بلکہ یہ پورا ٹبر مجرم ہے، یہ پوری پارٹی اس تمام تر جرم کی ذمہ دار ہے، اس کے مرکزی ذمہ دار یا صوبائی عہدیدار ہوں سب اس جرم میں شریک ہیں اور جرم ثابت ہوچکا ہے۔
انکا کہناتھا تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں اور اپنی حکومت کو یہ مشورہ دے رہی ہیں کہ اب فوری طور پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے، عمران خان خود ہوں یا ڈاکٹر عارف علوی ہوں، ان کو فوری طور پر اپنی پارٹی کے عہدے اور ملک کی صدارت سے استعفیٰ دینا چاہیے کیونکہ یہ اب مجرم ثابت ہوچکے ہیں، ایک مجرم جو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے اور مرحوم ساتھیوں پر ملبہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے جو بھونڈی حرکت ہے، پی ٹی آئی کے عہدیداران کی گرفتاریاں فوری طور پر عمل میں لانی چاہیے، پارٹی کے 4 ملازمین کو نجی اکاؤنٹس میں ملک سے اندر اور باہر سے پیسہ آیا ہوا لہٰذا ان کو گرفتار کر کے ان سے مزید تفصیلات لی جائیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا یہ قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، اس میں پارٹی چیئرمین، سیکریٹری جنرل یا ڈاکٹر عارف علوی ہوں، یہ سب کچھ انہی کی اجازت سے ہوا ہے اور یہ سب لوگ جرم کے مرتکب ہوئے ہیں،ریاست کی بقا کے لیے ریاست کے دفاع کے تمام ذمہ داران، اداروں، تمام قوتوں اور تمام تنظیموں کو یک جان ہو کر اس ملک کی فکر کرنی چاہیے، اس قسم کے جرائم پیشہ طبقوں کو ملک کی سیاست سے اکھاڑ باہر پھینکیں، تاریخ میں ایک عبرت کی علامت بنا دینا چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں اس قسم کے لوگوں کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔
