ممنوعہ فنڈنگ کی تصدیق کے بعد عمران کا مستقبل خطرے میں

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تحریک انصاف پرعائد کردہ ممنوعہ فنڈنگ کے الزامات درست قراردیے جانے کے بعد نہ صرف پی ٹی آئی پابندی کے خطرے سے دوچار ہوگئی ہے بلکہ عمران خان پر بھی بطور پارٹی چیئرمین تا حیات نا اہلی کی تلوار لٹکنے لگی ہے اورانکے خلاف آئینی، فوجداری اور دیوانی نوعیت کے مقدمات دائر ہونے جا رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ پاکستانی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا انوکھا مقدمہ ہے جس میں وفاقی حکومت کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کی بنیاد پر تحریک انصاف کو کالعدم جماعت قرار دلوانے کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنا ہو گا۔ آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق ایسا ریفرنس سپریم کورٹ کا فل بینچ ہی سن سکتا ہے لہذا عمران خان کے لیے خطرات شدید تر ہوتے نظر آتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کو بہت سنجیدگی سے لینا ہوگا اور بیان بازی کی بجائے مضبوط بنیادوں پر اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا ہوگا۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے اتحادی جماعتوں کے سینئر رہنماؤں پر مبنی ایک آئینی کمیٹی قائم کردی ہے جو الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں عمران خان اور اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کرے گی۔ ایسے میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ عمران اور ان کی جماعت کے سر پر ایک تیز دھار تلوار کی طرح لٹک گیا ہے۔

لیکن عمران اور ان کی پارٹی کی قسمت کا حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کے ہاتھ میں ہے جس کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال حالیہ دنوں میں کافی زیادہ متنازعہ ہو چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کے الزامات کی آٹھ برس تک تفتیش کی لہٰذا اسکا فیصلہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ہے جس کے بعد پی ٹی آئی اور اسکی قیادت کے خلاف کئی فوجداری اور دیوانی نوعیت کے مقدمات کھل سکتے ہیں۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی کے مطابق الیکشن کمیشن کے فیصلے سے قانونی حلقوں میں جن ممکنہ کیسز کے اندراج پر بحث ہو رہی ہے ان میں ممنوعہ فنڈز کی ضبطی، پارٹی کے انتخابی نشان کی واپسی، پی ٹی آئی پر پابندی اور عمران خان کی نااہلیت شامل ہیں۔ تاہم، ان کیسز کا حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی۔ انصار عباسی کے بقول الیکشن کمیشن کے فیصلے کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی قیادت کیخلاف فوجداری نوعیت کے مقدمات بھی درج ہو سکتے ہیں جن میں منی لانڈرنگ، نامعلوم بینک اکائونٹس رکھنے اور دشمن ملک کے شہریوں سے پیسے لینے وغیرہ جیسے مقدمات شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں ایف آئی اے، اسٹیٹ بینک، نیب اور پولیس کو بھی ان کیسز کی تحقیقات کیلئے بھی کہا جا سکتا ہے۔

بالآخر شاہ رخ خان کا بیٹا آریان خان بے گناہ ثابت ہو گیا

تاہم انصار عباسی کے مطابق الیکشن کمیشن کے فیصلے میں عمران خان کیخلاف جو بات سب سے زیادہ سنگین ہے اور انہیں نااہل قرار دلا سکتی ہے وہ پیراگراف نمبر (k)50 میں لکھی ہے۔ اس پیراگراف میں لکھا گیا ہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان 9 ستمبر 2008 سے 2 دسمبر 2013 تک کے پانچ سالوں کے دوران بینک اکائونٹس پر مبنی فارم ون جمع کراتے رہے۔ جب الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی طرف سے جمع کروائے گئے بینک ریکارڈز کو سٹیٹ بینک کے ریکارڈ کے ساتھ پرکھا تو معلوم ہوا کہ فارم ون میں بڑے پیمانے پر غلط معلومات دی گئیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جانب سے پانچ برسوں کے دوران جمع کروائے گئے ہر سرٹیفکیٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ تحریک انصاف قانون کے مطابق کام کر رہی ہے اور آئین کے آرٹیکل (3)17 کے مطابق اپنے فنڈز کے ذرائع اور بینک اکائونٹس کا ڈکلیریشن پیش کرتی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ سیاسی جماعت کے سربراہ اور اسکا چیئرمین ہونے کی حیثیت سے عمران خان پابند تھے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ الیکشن کمیشن میں جمع کرائی جانے والی دستاویزات سختی کے ساتھ قانون کے مطابق ہیں۔

دستیاب ریکارڈ کے مطابق دیکھا جائے تو عمران خان پاکستان کے قوانین کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام ہوئے ہیں۔الیکشن کمیشن کے فیصلے میں عمران خان کے لئے ایک اور بڑی پریشانی کی بات یہ ہے کہ دو اکائونٹس ایسے ہیں جو کھولے گئے تو چیئرمین کی درخواست پر تھے لیکن الیکشن کمیشن کو ان کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ ایک اکائونٹ ڈالر اکائونٹ تھا جو حبیب بینک لمیٹڈ اسلام آباد میں کھولا گیا جس کا ٹائٹل پی ٹی آئی تھا۔ اس اکائونٹ سے 51؍ ہزار 750؍ ڈالرز نکلوائے گئے جبکہ 51؍ ہزار 750؍ ڈالرز اسی اکائونٹ میں جمع کرائے گئے تھے۔ دوسرا اکائونٹ پاکستانی کرنسی میں ایچ بی ایل اسلام آباد سوک سینٹر برانچ میں عمران خان کی ہی درخواست پر کھولا گیا تھا۔ اس اکائونٹ سے 8 کروڑ 40 لاکھ روپے نکلوائے گئے جبکہ 8 کروڑ 60 لاکھ روپے جمع بھی کرائے گئے تھے۔

عمران خان پر ایک اور سنگین الزام یہ لگایا گیا ہے کہ انہوں نے مرضی سے غیر ملکی کمپنیوں اور غیر ملکی شخصیات سے ڈونیشن وصول کیں جو کہ پاکستان کے آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیوں نہ تحریک انصاف کے تمام ممنوعہ فنڈز ضبط کر لیے جائیں۔ ممنوعہ فنڈز کی یہ ضبطی الیکشن کمیشن کے دائرۂ کار میں آتی ہے جبکہ پی ٹی آئی کو تحلیل کرنا وفاقی حکومت کا اختیار ہے اور وہ سپریم کورٹ میں فیصلے کیلئے ’’غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والی پارٹی‘‘ کو تحلیل کرنے کا کیس دائر کرسکتی ہے۔ یعنی عمران کی نااہلی کا حتمی فیصلہ سپریم کورٹ ہی کر سکتی ہے لیکن اس میں بھی عمران کے لئے بڑی پریشانی یہ ہو گی کہ فیصلہ کرنے کے لیے فل کورٹ بیٹھے گی۔

Back to top button