امریکہ نے ظواہری کو مارنے کے لیے بلیڈوں والا میزائل داغا

امریکی میڈیا رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ سی آئی اے نے 31 جولائی بروزاتوارصبح چھ بج کر18 منٹ پرکابل میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو ایک گھرکی کھڑکی میں نشانہ بنانے کے لیے جو ہتھیار استعمال کیا، وہ کوئی عام میزائل نہیں تھا بلکہ چاقووں یا بلیڈوں والا میزائل تھا جسکا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا۔

امریکی میڈیا کے مطابق روایتی طور پر سی آئی اے دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے لیے ڈرون سے پھینکے جانے والے بم نما میزائل استعمال کرتی ہے جس کے پھٹنے سے بڑا دھماکہ ہوتا ہے اور ہدف کے علاوہ آس پاس موجود لوگ بھی مارے جاتے ہیں۔ ان ہلاکتوں کو امریکیوں نے ’کولیٹرل ڈیمیج‘ کا نام دے رکھا ہے۔ گذشتہ برس 29 اگست کو کابل میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کولیٹرل ڈیمیج پر امریکہ نے معذرت بھی کی تھی۔ شاید اسی لیے اب امریکی سی آئی اے نے القاعدہ کے مفرور سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کو مارنے کے لیے ایک مختلف میزائل استعمال کیا ہے جسے ہیل فائر آر نائن ایکس Hellfire R9X کہا جاتا ہے۔ اس میزائل میں پھٹنے والا باردوی مواد نہیں تھا بلکہ اس پر تیز دھاری دار بلیڈ یا چاقو لگے ہوئے تھے جو اپنے ہدف کے جسم کو نشانہ بنانے ہیں اور اس سے آس پاس کے لوگ متاثر نہیں ہوتے۔ ڈاکٹر ایمن الظواہری کو بھی تب نشانہ بنایا گیا جب وہ صبح کے وقت اپنی گھر کی بالکنی میں آ کر کھڑے ہوئے۔

امریکی سی آئی اے کی جانب سے ’ننجا بم‘ کے نام سے مشہور ہیل فائر نامی میزائل اس سے پہلے مرتبہ استعمال کر چکا ہے۔

ایک امریکی عہدے دار نے امریکی میڈیا کو بتایا ہے کہ ’ڈاکٹر ظواہری کے اہلِ خانہ بھی حملے کے وقت گھر میں موجود تھے مگر انہیں نشانہ نہیں بنایا گیا اور وہ محفوظ رہے۔‘ ٹوئٹر پر شیئر کی گئی تصویروں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ الظواہری جس گھر میں موجود تھے، اسے بہت کم نقصان پہنچا۔ ممتاز امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ ہیل فائر نامہ بلیڈوں والا میزائل سابق امریکی صدر براک اوباما کے دباؤ پر بنایا گیا تھا اور اس کا مقصد یہ تھا کہ حملے کے ہدف کے علاوہ دوسرے لوگ نقصان سے محفوظ رہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق عام طور پر ڈرون میں استعمال ہونے والے ہیل فائر میزائل میں نو کلوگرام کے لگ بھگ باردوی مواد استعمال ہوتا ہے۔ جب یہ پھٹتا ہے تو اس مقام کو خاصا نقصان پہنچتا ہے اور اس سے متعدد افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔

شاران بلوچ، مرحومہ کریمہ بلوچ سے متاثر نکلی

اس کے برعکس جب امریکی سی آئی اے نے 2019 میں اسامہ بن لادن کے داماد ابو الخیر المصری کے خلاف شام کے صوبہ ادلب میں آر نائن ایکس میزائل چلایا تو اس وقت المصری ایک گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ میزائل گاڑی کی چھت سے گزر کر المصری کو آ لگا اور انہیں ہلاک کر ڈالا۔ مگر بعد میں جب اس گاڑی کی تصویریں سامنے آئیں تو معلوم ہوا کہ چھت کے سوراخ کے علاوہ اسے کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔

اسی طرح 24 جون 2020 کو ایک اور القاعدہ رہنما خالد العاروری کو ہلاک کرنے کے لیے بھی یہی میزائل استعمال کیا گیا۔ اس میزائل میں چھ لمبے بلیڈ لگے ہوئے تھے جو اپنے ہدف سے ٹکرانے کے بعد فعال ہو گئے اور انہوں نے اپنے ہدف کو چیر پھاڑ دیا۔ ابھی تک امریکہ نے یہ معلومات ظاہر نہیں کیں کہ یہ میزائل فائر کرنے والا ڈرون کہاں سے اڑا تھا۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے گذشتہ برس افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد واضح کیا تھا کہ امریکہ جب مناسب سمجھے گا، افغانستان میں اہداف کے خلاف کارروائی کرے گا، تاہم اسی وقت کے بعد سے یہ سوال باقی ہے کہ ڈرون کہاں سے اڑیں گے۔ بظاہر اس وقت کے پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے absolutely not کہہ کر پاکستان سے ایسی کسی کارروائی کا امکان ختم کر دیا تھا۔

امریکہ کے پاس وسطی ایشیا کے کسی ملک میں کوئی ایسا اڈا نہیں ہے جہاں سے افغانستان میں کارروائی کی جا سکے۔ تاجکستان اور قزاقستان ایسے دو ملک ہیں جنہیں امریکہ ممکنہ طور پر استعمال کر سکتا ہے، لیکن ان دونوں ملکوں پر روس کا دباؤ ہے، اس لیے وہاں سے ڈرون اڑانے قرینِ قیاس نہیں ہے، خاص طور پر موجودہ حالات میں جب یوکرین کی جنگ کے بعد امریکہ اور روس کے تعلقات سخت کشیدہ ہیں۔

اس کے بعد ایک ہی صورت بچتی ہے کہ امریکہ نے بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری جہاز سے یہ ڈرون بھیجا ہو گا، لیکن اس صورت میں اس ڈرون نے پاکستانی فضا کو استعمال کیا ہو گا۔ تاہم پاکستانی حکام اس معاملے پر خاموش ہیں۔

Back to top button