فارن فنڈنگ ہو یا ممنوعہ فنڈنگ، دونوں کی وصولی جرم ہے

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تحریک انصاف پر عائد کردہ ممنوعہ فنڈنگ کے الزامات درست قرار دیے جانے کے بعد عمران خان کے ساتھی اس بات پر خوش ہیں کہ ان پر ممنوعہ فنڈنگ کی وصولی کا الزام لگا ہے، فارن فنڈنگ کا نہیں۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ فارن فنڈنگ اور ممنوعہ فنڈنگ میں کیا فرق ہے اور کیا کسی سیاسی جماعت کو بیرونِ ملک سے ملنے والی تمام فنڈنگ ممنوعہ ہے۔ دراصل ممنوعہ فنڈنگ اور فارن فنڈنگ کا معاملہ 1962 سے ہی پاکستان کی سیاست میں موضوع بحث رہا ہے۔ اس دور میں ایک پولیٹیکل پارٹی ایکٹ بنایا گیا تھا جس کے بعد فارن فنڈنگ اور ممنوعہ فنڈنگ کی وصولی سے تمام سیاسی جماعتوں کو روک دیا گیا تھا۔

تحریکِ انصاف کی فنڈنگ کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے فیصلے میں جہاں یہ کہا گیا ہے کہ عمران خان کی جماعت پر بیرونِ ملک سے ممنوعہ فنڈز لینے کے الزامات ثابت ہوئے ہیں وہیں اس نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا سیاسی جماعتوں کے لیے ہر قسم کے غیر ملکی فنڈز ممنوعہ ہیں۔ یاد رہے کہ آٹھ سال تک تحریک انصاف کے خلاف فارن یا ممنوعہ فنڈنگ کا معاملہ الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت رہا۔ اس دوران کبھی تحریک انصاف کی طرف سے الیکشن کمیشن کے دائرہ سماعت کے اختیار کو چیلنج کیا گیا تو کبھی الیکشن کمیشن کے کسی حکم کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے پہلے حکم امتناعی حاصل کیا گیا اور پھر عدالت کی طرف سے یہ حکم امتناعی خارج بھی کیا گیا۔

پاکستانی میڈیا میں پاکستان تحریک انصاف کے خلاف اس جماعت کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی الیکشن کمیشن میں درخواست کو ابتدا سے ہی فارن فنڈنگ کے نام سے ہی لکھا جاتا تھا۔ ساڑھے سات سال تک تحریک انصاف کی قیادت کو فارن فنڈنگ کے نام سے کوئی مسئلہ نہیں تھا بلکہ الیکشن کمیشن میں جو کاز لسٹ جاری کی جاتی تھی اس میں بھی اکبر ایس بابر بنام تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس ہی لکھا جاتا تھا۔
الیکشن کمیشن میں جب اس مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کو تھی تو تب تحریک انصاف کے وکیل انور منصور کی طرف سے یہ اعتراص اٹھایا گیا کہ الیکشن کمیشن کی کاز لسٹ میں ان کی جماعت کے خلاف مقدمے کا ٹائٹل فارن فنڈنگ نہیں بلکہ ممنوعہ فنڈنگ کے طور پر لکھا جائے۔ دراصل ممنوعہ فنڈنگ اور فارن فنڈنگ کا معاملہ سنہ 1962 سے ہی پاکستان کی سیاست میں زیربحث رہا ہے۔ اس دور میں پولیٹیکل پارٹی ایکٹ بنایا گیا تھا جس کے بعد فارن فنڈنگ اور ممنوعہ فنڈنگ دونوں کی وصولی کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے جرم قرار پائی تھی۔ اسی ایکٹ کو مشرف دور میں بنائے گئے پولیٹیکل پارٹی ایکٹ 2002 میں بھی برقرار رکھا گیا۔ اسکے بعد الیکشن ایکٹ 2017 میں بھی اس قانون کو برقرار رکھا گیا۔ الیکشن کمیشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 204 کے سب سیکشن 3 کے تحت کسی بھی سیاسی جماعت کو بلواسطہ یا بلاواسطہ حاصل ہونے والے فنڈز جو کسی غیر ملکی حکومت، ملٹی نیشنل یا پرائیویٹ کمپنی یا فرد سے حاصل کیے گئے ہوں وہ ممنوعہ فنڈز کے زمرے میں آتے ہیں۔

جنرل باجوہ کے امریکیوں کو فون کا مطلب ہم کمزور ہو رہے ہیں

پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کے فیصلے میں بھی الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ سیاسی جماعت کسی بھی غیر ملکی حکومت، ملٹی نیشنل یا کسی بھی ملکی سرکاری و غیر سرکاری کمپنی سے کوئی بھی فنڈ براہ راست یا بالواسطہ نہیں لے سکتی۔اسی طرح اسے کسی تجارتی کمپنی اور پروفیشنل ایسوسی ایشن سے بھی فنڈز حاصل کرنے کی اجازت نہیں۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی لکھا ہے کہ جس طرح قانون سازوں نے کسی سیاسی جماعت کے لیے پاکستان میں کام کرنے والی مقامی کمپنی سے بھی فنڈنگ کو ممنوعہ قرار دیا ہے ایسے ہی غیر ملکی کمپنیوں سے بھی فنڈنگ لینا ممنوع ہے۔ الیکشن کمیشن نے متعلقہ قانون اور سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جو چیز براہ راست نہیں کی جا سکتی وہ بالواسطہ بھی نہیں کی جا سکتی ہے۔ اسی فیصلے میں الیکشن کمیشن نے یہ بھی واضح کیا کہ سیاسی جماعت بیرونِ ملک سے کس قسم کی فنڈنگ لے سکتی ہے اور فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون کے تحت صرف اندرونِ ملک یا بیرونِ ملک مقیم ایسے افراد سے ہی چندہ یا فنڈز لیے جا سکتے ہیں جو کہ پاکستانی شہریت کے حامل ہوں۔

الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ ‘الیکشن ایکٹ کے تحت اگر کوئی ملک یا اس کا کوئی ادارہ کسی دوسرے ملک کی سیاسی جماعت کو مالی مدد فراہم کرتا ہے اور اس کے ثبوت بھی الیکشن کمیشن کو مل جاتے ہیں تو ایسی فنڈنگ کا الزام ثابت ہونے پر الیکشن کمیشن کے پاس ایسی جماعت کی رجسٹریشن کو منسوخ کرنے اور ان کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی کے لیے وفاقی حکومت کو سفارشات بھیجنے کا اختیار ہے۔‘ ممنوعہ فنڈنگ کے بارے میں کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ کوئی ایسا شخص جو کہ پاکستانی نہ ہو اور یا وہ اپنی پاکستانی شہریت کو چھوڑ چکا ہو اور وہ پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت اس سے فنڈز وغیرہ لے تو ایسے فنڈز ممنوعہ فنڈنگ کے ذمرے میں آتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ کسی سیاسی جماعت نے بیرون ممالک سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی ہے تو الیکشن کمیشن کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اس رقم کو بحقِ سرکار ضبط کر سکتا ہے اور اس کے علاوہ اس جماعت کو دیا جانے والا انتخابی نشان بھی واپس لے سکتا ہے۔ کنور دلشاد نے کہا کہ ‘جرم ثابت ہونے کی صورت میں الیکشن کمیشن نہ صرف اس جماعت کی رجسٹریشن منسوخ کر کے اس کا انتخابی نشان واپس لے سکتا ہے بلکہ اس جماعت کے سربراہ کو بھی غلط بیان حلفی دینے پر چارج شیٹ کر سکتا ہے کیونکہ ہر سال گوشوارے جمع کرواتے وقت جماعت کا سربراہ یہ بیان حلفی دیتا ہے کہ ان کی جماعت نے فارن فنڈنگ یا ممنوعہ فنڈنگ حاصل نہیں کی۔’

کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ ‘فارن فنڈنگ ثابت ہونے کی صورت میں کسی جماعت کو کالعدم قرار دینے کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے۔’ انھوں نے کہا کہ ‘الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن کے سب سیکشن ون کے تحت وفاقی حکومت 15 روز میں سپریم کورٹ کو ریفرنس بھجوائے گی اور عدالت عظمیٰ کا فل بینچ اس ریفرنس پر فیصلہ کرے گا۔’

پاکستان میں انتخابی معاملات پر نظر رکھنے والے ادارے پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف پر فارن فنڈنگ یا ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہونے کی صورت میں ان کے اکاؤنٹس میں پیسے ضبط ہونے کے علاوہ جو اس جماعت کے سربراہ عمران خان کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہو گی وہ ان کے صادق اور امین ہونے پر سوال اٹھایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ‘ایسا ہونے سے نہ صرف عمران کی اپنی ساکھ متاثر ہو گی بلکہ ان کے کرپشن کے بیانیے کو شدید دھچکا لگے گا۔’ انھوں نے کہا کہ پارٹی کے مالیاتی گوشوارے جمع کرواتے وقت یہ بیان حلفی دیتا ہے کہ ان کی جماعت نے کوئی ممنوعہ فنڈنگ حاصل نہیں کی۔ احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر سکتی ہے تاہم اگر عدالت تحریک انصاف کے حق میں حکم امتناعی جاری نہیں کرتی تو اس کے لیے مزید مشکلات ہو سکتی ہیں۔

Back to top button