عمران نئے آرمی چیف کی تعیناتی متنازعہ کیوں بنا رہے ہیں؟

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نئے آرمی چیف کی تقرری کا فیصلہ اگلے عام انتخابات کے بعد نئی حکومت پر چھوڑنے کا مطالبہ دراصل موجودہ حکومت کو مشکل میں ڈالنے اور نئے چیف کی تعیناتی کو متنازعہ بنانے کی کوشش ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ عمران پچھلے چار برس سے جس متنازعہ سیاسی جرنیل کو آرمی چیف بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے وہ اب دوڑ سے باہر ہوتا نظر آ رہا ہے کیونکہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ موجودہ حکومت نئے آرمی چیف کو سنیارٹی اصول کے تحت تعینات کرے گی۔ ماضی میں کبھی بھی کسی بھی وزیراعظم نے آرمی چیف کا انتخاب سنیارٹی کی بنیاد پر نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اپنی پسند کے جونیئر جرنیل کو ترقی دی اور پھر اس غلطی کا خمیازہ بھی بھگتا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 11ویں نمبر کے جرنیل ضیاءالحق کو اٹھا کر آرمی چیف بنایا تو نواز شریف نے بھی پرویز مشرف اور جنرل قمر باجوہ جیسے جونیئر جرنیلوں کو ترقی دی۔ لیکن یہ تمام جرنیل سیاست کے شوقین ثابت ہوئے۔ ضیاء اور پرویز مشرف نے مارشل لاء لگایا تو جنرل باجوہ نے ہائبرڈ نظام حکومت دیا اور دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے عمران کو بطور وزیر اعظم قوم پر مسلط کیا۔ اب اسی عمران خان نے اقتدار سے فارغ ہو کر 6 مہینے گالی گلوچ کرنے کے بعد اسی جنرل باجوہ کے لیے مزید توسیع کا فارمولا دے دیا ہے۔ ایک طرف شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ عمران نے کامران خان کے ساتھ انٹرویو میں جنرل باجوہ کی توسیع کی بات ویسے نہیں کی جیسے بتائی جا رہی ہے جبکہ دوسری جانب فواد چوہدری کا اصرار ہے کہ عمران نے بہت سوچ سمجھا کر باجوہ کو اگلے آرمی چیف کی تعیناتی تک برقرار رکھنے کا فارمولہ دیا ہے۔

عمران نے آرمی چیف کی توسیع سے متعلق بیان کی تردید کر دی

حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ عمران اور ان کے ساتھی نئے آرمی چیف کی تقرری کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ جنرل فیض کا کھیل ختم ہو چکا ہے اور نیا آرمی چیف میرٹ پر لگنے جا رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی ترجمان 6 ماہ پہلے بتا چکے ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا مزید توسیع لینے کا کوئی ارادہ نہیں۔ آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ گذشتہ سال سے ہی خبروں، تجزیوں اور بحث کا حصہ بنا رہا لیکن عمران خان کی جانب سے عام انتخابات کے بعد نئی حکومت آنے کے بعد نئے آرمی چیف کی تعیناتی کی تجویز نے ایک سیاسی اور قانونی بحث سمیت نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ عمران نے ’دنیا نیوز‘ کے اینکر کامران خان کو انٹرویو میں کہا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی اگلے الیکشن کے بعد نئی منتخب حکومت کو کرنی چاہیے اور تب تک کے لیے قانون میں کوئی گنجائش نکالی جا سکتی ہے۔ عمران نے براہ راست یہ نہیں کہا کہ وہ موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع چاہتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر ان کی اس تجویز سے بہرحال یہی نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے۔

ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ آیا جنرل باجوہ کو قانونی طور پر ایک اور توسیع مل سکتی ہے یا نہیں اور اس پر حکومت کا موقف کیا ہے؟ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’موجودہ حکومت اس ذمہ داری کو مقررہ وقت پر آئین اور ادارے کی بہترین روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی، اہم قومی فیصلے سیاسی مفادات سے مشروط نہیں ہوتے۔‘

اس حکومتی رائے کے بعد اب یہ سوال بھی سر اٹھا رہا ہے کہ کہ کیا عمران کی یہ تجویز ایک سوچا سمجھا بیان تھا؟یہ سوالات اس تناظر میں بھی اہم ہے کہ عمران خان بلاواسطہ اسٹیبلشمنٹ پر اپنی حکومت گرائے جانے کے بعد سے تنقید کرتے رہے ہیں۔عمران کی جانب سے تازہ بیان ان کے اس بیان سے جڑا ہے جب فیصل آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے نومبر میں آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق انھوں نے کہا کہ ’آصف زرادری اور نواز شریف نومبر میں اپنا فیورٹ آرمی چیف لے کر آنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ ڈرتے ہیں کہ یہاں کوئی تگڑا اور محب وطن آرمی چیف آ گیا تو ان سے کرپشن کا حساب لے گا اور پوچھے گا۔

اگلے روز اس بیان کے ردِ عمل میں آئی ایس پی آر نے بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ پاکستان آرمی میں فیصل آباد میں ایک سیاسی جلسے کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے ‘پاک فوج کی سینئر قیادت کے بارے میں ہتک آمیز اور غیر ضروری بیان پر شدید غم و غصہ ہے۔واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے 14 اپریل 2022 کو ایک پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں یہ بیان دیا تھا کہ ’چیف آف آرمی سٹاف نہ تو توسیع کے خواہش مند ہیں اور نہ ہی وہ اس کو قبول کریں گے، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ وہ 29 نومبر 2022 کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ تاہم وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے جیو نیوز کے شاہ زیب خانزادہ سے بات کرتے ہوئے عمران کے تازہ بیان اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر کہا کہ ’یہ بحث قبل از وقت ہے۔ ابھی ڈھائی ماہ باقی ہیں۔ اس وقت اس ایشو کو کھولنا نہ پاکستان کے لیے بہتر ہے اور نہ ہمارے ادارے کے لیے بہتر ہے۔‘ خواجہ آصف نے کہا کہ سیاسی عناصر سے، بشمول عمران خان سے۔میری اپیل ہو گی کہ اس معاملے کو متنازع نہ بنائیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’عمران خان دراصل ہماری حکومت کی لیجیٹمیسی کو چیلنج کر رہے ہیں۔‘ خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ اس انٹرویو میں سوال اور جواب پہلے طے ہو چکے تھے۔‘ خواجہ آصف نے کہا کہ ’نئے آرمی چیف کی تعیناتی ہماری حکومت کا حق ہے اور ہم وقت آنے پر اس حق کو استعمال کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ اس معاملے پر کسی قسم کی گفتگو کا تبادلہ ابھی تک نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے رواں سال 11 مئی کو بی بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ‘اگلے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر عمران خان اپنی ذاتی مرضی کرنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ایسا ہو کہ ان کے سیاسی مفادات اور حکمرانی کے تسلسل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ عدلیہ کی طرح فوج میں بھی آرمی چیف کی تعیناتی کا عمل سنیارٹی کی بنیاد پر ہونا شروع ہو جائے تو سارے مسئلے ہی حل ہو جائیں۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کی جانب سے تازہ لچ تلنے کے بعد آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ کیا رخ اختیار کرتا ہے؟

Back to top button