خواجہ آصف ،شہبازاورمریم حکومت کی بینڈکیوں بجارہے ہیں؟

مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور وزیر دفاع خواجہ آصف اچانک پی ٹی آئی کی زبان بولنے لگے۔ خواجہ آصف نے بیوروکریسی کو مگر مچھ، اراکین اسمبلی کو ’مالی فحاشی‘ کا مرتکب قرار دینے کے بعد اب وفاقی اور پنجاب حکومت کی بینڈ بجانی شروع کر دی ہے۔

مبصرین کے مطابق پاکستانی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں حکومت اور اپوزیشن کی لکیر اکثر دھندلا جاتی ہے۔ حکمران جماعت کے وزرا کبھی اپنے ہی نظام پر ایسے وار کرتے ہیں جو اپوزیشن کی زبان سے زیادہ سخت محسوس ہوتے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے حالیہ بیانات بھی اسی سیاسی تضاد کی تازہ مثال ہیں، تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وزیر دفاع کو مسئلہ کس سے ہے اور وہ اپنی ہی حکومت پر بار بار تنقید کیوں کر رہے ہیں۔ خواجہ آصف کی تنقید اصلاحات کی سنجیدہ کوشش ہیں یا ذاتی رنجشوں اور اندرونی سیاسی کشمکش کا شاخسانہ؟ یا سیاسی بساط پر اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی ایک نئی حکمتِ عملی؟

خیال رہے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اپنے حالیہ خطاب میں پنجاب حکومت کو ہدف تنقید بنانے سے چند ماہ قبل بیوروکریسی کو ’’مگرمچھ‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا آدھی سے زیادہ بیوروکریسی بیرونِ ملک جائیدادیں خرید چکی ہے اور شہریت کے لیے تیار بیٹھی ہے جبکہ سیاستدانوں کے پاس نہ پلاٹ ہیں نہ شہریت، اصل لوٹ مار بیوروکریسی کر رہی ہے جب کہ عوامی تنقید کا نشانہ سیاستدان بنتے ہیں۔ سیاستدانوں کے مقابلے میں بیوروکریٹس اربوں روپے ہڑپ کرتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد غیر ملکی زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں جبکہ سیاستدان جیل کی سختیاں برداشت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ الزام اتنا سخت تھا کہ بیوروکریسی کے بڑے حلقوں میں کھلبلی مچ گئی اور انھوں نے خواجہ آصف کے دعوے پر سخت احتجاج کیا۔ اس دوران یہ سوال بھی اٹھا کہ وزیر دفاع کے پاس ان دعوؤں کے ثبوت کہاں ہیں؟ اگر ان کے پاس ثبوت ہیں تو وہ سامنے کیوں نہیں لاتے۔ جبکہ اس کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور نیب نے ایسی کسی انٹیلی جنس رپورٹ یا کیس کی موجودگی سے صاف انکار کر دیا۔

یہ پہلا موقع نہیں جب خواجہ آصف نے اپنی حکومت کو شرمندہ کیا ہو۔ اس سے قبل اراکینِ اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کو انہوں نے ’’مالی فحاشی‘‘ قرار دیا ان کا مؤقف تھا کہ عوام مہنگائی اور بیروزگاری سے پس رہے ہیں جبکہ سیاستدان شاہانہ مراعات کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ یہ وہ جملے تھے جنہوں نے ایوان کے اندر موجود طاقتور طبقات کو براہِ راست بے نقاب کیا۔ لیکن یہ سوال بدستور موجود ہے کہ اگر یہ سب کچھ عوام دشمن ہے تو خواجہ آصف نے بطور پارلیمانی لیڈر ان مراعات کو روکنے کے لیے عملی کردار کیوں ادا نہ کیا؟

سیالکوٹ کے اے ڈی سی آر اقبال سنگھیڑا کی 17کروڑ روپے رشوت لینے کے الزام میں گرفتاری کے بعد خواجہ آصف کے لہجے میں سختی مزید بڑھ گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ خواجہ آصف نے اس افسر کی رہائی کے لیے مداخلت کی اس معاملے پر وزیر دفاع نے پہلے وزیراعظم شہباز شریف سے بات کی اور پھر نواز شریف سے ملاقات کی لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا۔  وزیراعلیٰ مریم نواز نے چیف سیکرٹری کی رائے کو ترجیح دی۔ لہذا نواز شریف اور شہباز شریف کے قریبی دوست سمجھے جانے والے خواجہ آصف ناراض ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد خواجہ آصف کے بیانات میں تلخی نے جنم لیا اور خواجہ آصف کے بیانات زیادہ تلخ اور کھلے عام بیوروکریسی دشمنی پر مبنی دکھائی دینے لگے۔ اس تناظر میں ان کی حالیہ تنقید اصلاحات سے زیادہ ذاتی ناراضی کا عکس دکھائی دیتی ہے۔

نواز شریف سے ملاقات اور اس کی تصویر کے اجرا نے خواجہ آصف کی ناراضی کی افواہوں کو مزید تقویت دی۔ جس کے بعد سیاسی حلقوں میں سوال اٹھایا جانے لگا کہ کیا خواجہ آصف دراصل مریم نواز کی بڑھتی ہوئی طاقت سے نالاں ہیں؟ یا پھر یہ بیانات ان کی جانب سے پارٹی میں اپنی حیثیت جتانے کی کوشش ہیں؟ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خواجہ آصف کی تنقید محض وقتی ناراضگی نہیں بلکہ ایک بیانیہ ہے تو ن لیگ کو ایک نئے داخلی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار  رضا رومی کا کہنا ہے کہ ’خواجہ آصف نے بیوروکریسی پر انگلیاں اٹھا کر ایک اہم بحث چھیڑ دی ہے لیکن ان کے بیانات میں ثبوت کی کمی انہیں محض سیاسی نعروں تک محدود کر دیتی ہے۔ ان کے مطابق اگر واقعی اصلاحات مقصود ہیں تو ان بیانات کو پالیسی کی شکل دینے کے لیے وہ بطور وزیر دفاع اور ممبر پارلیمان اپنا کردار ادا کیوں نہیں کر رہے؟‘ ’ایسے لگ رہا ہے کہ وہ پارٹی کے اندر کسی معاملے پر خوش نہیں ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نواز شریف سے ملاقات کے بعد بھی ان کی طرف سے تنقیدی بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے معاملہ کچھ سنجیدہ ہے۔ تاہم ن لیگ کے اندر ان کے بیانات کو اچھا نہیں سمجھا گیا۔ لیکن اصل صورت حال آنے واے دنوں میں واضع ہو گی۔‘ کہ ’کیا وہ پنجاب حکومت سے نالاں ہیں یا وہ کسی پارٹی پالیسی پر مطمئن نہیں ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا تاہم لگتا یہی ہے کہ شاید وہ اندرونی سیاست میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

Back to top button