بنگلہ دیشی الیکشن جیتنے والی BNPکا مودی سرکار کو بڑا جھٹکا

بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے والی بی این پی نے بھارت سے ایک بار پھر حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے حکومت سازی سے پہلے ہی بھارت کو سخت سفارتی پیغام دے کر مودی سرکار کی ڈھاکہ سے تعلقات بہتر بنانے کی سرتوڑ کوششوں پر پانی پھیر دیاہے۔ مبصرین کے مطابق پی این پی رہنماؤں کی جانب سے حسینہ واجد کی حوالگی بارے سامنے آنے والا مطالبہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا سفارتی وار ہے کیونکہ بی این پی بخوبی جانتی ہے کہ حسینہ واجد کی بھارت میں موجودگی بنگلہ دیش کی عوام، خصوصاً طلبہ اور نوجوان نسل، کے لیے ایک جذباتی اور علامتی مسئلہ بن چکی ہے۔ ایسے میں بی این پی کا حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ دراصل داخلی عوامی دباؤ کو خارجہ پالیسی کا حصہ بنانے کی حکمتِ عملی ہے۔ ناقدین کے مطابق اس اعلان کے ذریعے بی این پی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ نہ تو حسینہ دور کی پالیسیوں کا تسلسل ہوگی اور نہ ہی بھارت کے ساتھ تعلقات کو ’’روایتی مفاہمت‘‘ کے سانچے میں ڈھالے گی۔ اسی لئے پی این پی کے اس مطالبے کو نئی دہلی کے لیے پہلا بڑا جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نئی دہلی کے لیے یہ صورت حال اس لیے بھی پریشان کن ہے کہ برسوں تک ڈھاکہ میں اس کا سب سے قابلِ اعتماد سیاسی چہرہ حسینہ واجد رہی ہیں۔ اب اگر بی این پی حکومت سنبھالتے ہی حسینہ واجد کی حوالگی کے معاملے کو عالمی سفارتی فورمز تک لے جاتی ہے تو بھارت پر اس حوالے سے اخلاقی اور قانونی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق بھارت خود کو خطے میں جمہوری اقدار کا علمبردار ظاہر کرتا ہے تاہم وہ ایک ایسی رہنما کو پناہ دیے ہوئے ہے جسے بنگلہ دیش کی بڑی تعداد مبینہ جرائم کی ذمہ دار سمجھتی ہے۔ مبصرین کے مطابق پی این پی کا حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ نئی دہلی کے لیے ایک سفارتی امتحان بن چکا ہے۔ سوال اب یہ نہیں کہ بنگلہ دیش کیا چاہتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ بھارت کس حد تک اپنے علاقائی مفادات اور عالمی امیج کے درمیان توازن قائم کر پاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ ہی دونوں ممالک کے تعلقات کی سمت کا تعین کرے گا۔
مبصرین کے مطابق بی این پی کے سربراہ طارق الرحمان، جو وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھانے کی تیاری کر رہے ہیں، ماضی میں حسینہ واجد کے دور حکومت میں قید اور جلاوطنی کا سامنا کر چکے ہیں۔ ان کی والدہ اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا بھی سیاسی دباؤ اور مقدمات کی زد میں رہیں۔ یہی پس منظر پی این پی کے مطالبے کو مزید سیاسی وزن دیتا ہے کہ حسینہ واجد کو طلبہ کے قتلِ عام اور مبینہ انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے واپس لایا جائے۔
یاد رہے کہ ماضی میں نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت بھی مودی سرکار سے حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کر چکی تھی، تاہم بھارت نے اس پر کوئی مثبت پیش رفت نہیں دکھائی تھی۔ بنگلہ دیش میں طلبہ اور جین زی کی احتجاجی تحریک بھی اس معاملے پر خاصی متحرک رہی ہے تاہم بھارت کی جانب سے ہمیشہ بنگلہ دیش کے اس مطالبے کو مسترد کیا جاتا رہا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق بنگلہ دیش میں کوئی بھی نئی حکومت حسینہ واجد کو واپس لانے بارے عوامی دباؤ کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ بی این پی نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی بھارت سے حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کر کے اپنا مؤقف دوٹوک انداز میں سامنے رکھ دیا ہے۔
دوسری جانب نریندر مودی نے طارق الرحمان کو انتخابی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے جمہوری اور ترقی پسند بنگلہ دیش کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ تاہم ان کی اس پوسٹ پر سوشل میڈیا صارفین، خصوصاً بنگلہ دیشیوں، نے سخت ردعمل دیا اور طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا کہ اگر بھارت واقعی جمہوریت کا حامی ہے تو وہ حسینہ واجد کو کیوں پناہ دیے ہوئے ہے۔ یہ عوامی ردعمل اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات فوری طور پر معمول پر آتے دکھائی نہیں دیتے۔ مبصرین کے مطابق بھارت نے انتخابات سے قبل بھی ڈھاکہ سے پس پردہ سفارتی رابطے کر کے دونوں ممالک میں تعلقات کو بہتری کی جانب لے جانے کی بھرپور کوشش کی تاہم اس کے باوجود بی این پی کی قیادت نے حسینہ واجد کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کر کے واضح کر دیا ہے کہ وہ سابقہ حکومت کی طرح نئی دہلی کے دباؤ میں آنے والی نہیں۔ دوسری جانب بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی کے تناظر میں بھی اہم تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں۔ محمد یونس کی عبوری حکومت نے چین اور پاکستان کی طرف جھکاؤ بڑھایا تھا اور اب بی این پی کی ممکنہ حکومت بھی اسی سمت پیش رفت کرتی دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے طارق الرحمان کو دورۂ پاکستان کی دعوت اور دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی جیسے اقدامات نئی علاقائی صف بندی کا اشارہ دے رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق شیخ حسینہ کے بھارت فرار ہونے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں پہلے ہی کشیدگی موجود ہے۔ حالیہ دنوں ویزا سہولیات، تجارتی روابط اور حتیٰ کہ کرکٹ تعلقات بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ایسے ماحول میں بی این پی کی جانب سے حسینہ واجد کی حوالگی کے مطالبے نے واضح کر دیا ہے کہ نئی حکومت کی پالیسی عبوری دور سے زیادہ مختلف نہیں ہوگی بلکہ شاید مزید سخت ہو۔
بنگلہ دیش میں اقتدار اور انتقام کا ایک اور گھومتا چکر مکمل
مبصرین کے مطابق بنگلہ دیش کے انتخابی نتائج نے نہ صرف داخلی سیاست کا نقشہ بدلا ہے بلکہ جنوبی ایشیا کی سفارتی بساط بھی ازسرنو بچھا دی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات کشیدگی کی نئی سطح پر پہنچیں گے یا پس پردہ سفارت کاری کوئی درمیانی راستہ نکال لے گی؟ آنے والے ہفتے خطے کی سیاست کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
