ہائبرڈ نظام کے خالق اور انکی مخلوق، دونوں ہی ناکام ہوئے

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وجاہت مسعود نے کہا ہے کہ عمران خان کو برسر اقتدار لانے والے عناصر اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے دو برس سے نہیں بلکہ سات دہائیوں سے کوششں کر رہے تھے تب کہیں جا کر ایک ہائبرڈ نظام کھڑا کرنے میں کامیاب ہو پائے تھے جوحسب توقع اب مکمل زمین بوس ہوتا نظر آتا ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت پر معاشی نااہلی اور بدعنوانی کی تہمت لگانا بے معنی ہے کیونکہ عمران کی ناکامی کے حقیقی اجزا کچھ اور ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جولائی 2018 ء میں قائم ہونے والی کپتان حکومت کا خمیر ہماری تاریخ کے بدترین انتخابی جھرلو سے اٹھایا گیا تھا۔ اس واردات کے پیچھے جو طاقتور ہاتھ کارفرما تھے ان سے پوری قوم آگاہ ہے۔ 2018 کی بد عنوانی کمرہ عدالت سے شروع ہوئی، اسکے بعد یہ امیدواروں کا براہ راست بازو مروڑتے ہوئے آر ٹی ایس کے عرق النسا میں معطر ہونے کر جہانگیر ترین کے جہاز میں براجمان ہونے کے بعد اسلام آباد پہنچی۔

وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ 2018 میں بھائی لوگوں کے کندھوں پر بیٹھ کر برسر اقتدار آنے والے عمران خان کا جمہوری نصب العین اور جمہوری اقدار سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا کیونکہ ان کے سیاسی اتالیق جمہوریت دشمنی میں سند کا درجہ رکھتے تھے۔ عمران خان خود پسندی کے جس درجے پر فائز ہیں انہیں ملکی دستور کی نزاکتوں کا کوئی علم ہے اور نہ وہ دستور میں دی گئی شہری آزادیوں کے بارے میں حساس ہیں۔ بقول وجاہت مسعود، عمران خان فسطائی نہیں البتہ ان کے فرمودات میں فسطائیت پسندی کی آرزو ضرور دیکھی جا سکتی ہے۔ وہ وفاقی اکائیوں کے باہم تعلق اور اختلافی سیاسی آوازوں سے جمہوری ربط کا ادراک نہیں رکھتے۔ وہ عقبی دروازے سے سیاست میں داخل ہوئے اور اپنے اقتدار کے دوران قومی اسمبلی میں بھی ہمیشہ عقبی دروازے ہی سے داخل ہوئے۔

وزیراعظم کی ضلع کُرم کے لوگوں سے معذرت

عمران کی ایک سیاسی اتالیق جنرل حمید گل مرحوم خارجہ پالیسی میں انحراف پسندی اور گھات کے فلسفے پر ایمان رکھتے تھے۔ ان کے شاگرد رشید عمران خان نے ایک ہی گیند سے چین اور امریکہ سے تعلقات کی وکٹیں اڑا ڈالیں۔ وجاہت کہتے ہیں کہ عمران خان کے طرز حکومت میں عوامی مفاد کو کیا جگہ ملنا تھی، ان کے دیوانِ خاص میں تو ارکان اسمبلی کو بھی گوشِ شنوائی نصیب نہیں ہو سکا۔ تحریک عدم اعتماد کا خالص دستوری معاملہ عمران خان کی افتادِ طبع کے باعث ممکنہ پارلیمانی تبدیلی سے بڑھ کر پورے بندوبست کی بنیادیں کھود رہا ہے اور اس معاملے کو مسلسل لٹکایا جا رہاہے۔

وجاہت مسعود یاد دلاتے ہیں کہ جولائی 1943ء میں تحریک عدم اعتماد پیش ہونے پر مسولینی نے اٹلی کی پارلیمنٹ سے کہا تھا۔ You have provoked the crisis of the regime. عمران خان اس دھمکی کو سڑکوں پر لانے کا اعلان کر رہے ہیں۔ لیکن انکا یہ خواب پورا نہیں ہو سکے گا کیونکہ اب پاکستانی قوم کے ایک قدم آگے بڑھنے کی آہٹ صاف سنی جا سکتی ہے۔

Both the creator of hybrid system and his creatures failed

Back to top button