بشریٰ بی بی TV اینکرز پر برہم کیوں ہیں؟

اکثر سیاستدانوں کی طرح بشریٰ بی بی کا بھی یہی خیال ہے کہ جو ٹی وی اینکرز ان کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتے یا انکی مدح سرائی نہیں کرتے وہ ضرور کسی مخصوص ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل وہ ان ٹی وی اینکرز سے کافی نالاں نظر آتی ہیں جو ماضی میں اپوزیشن قیادت پر تنقید کیا کرتے تھے اور انہیں اچھے لگتے تھے۔ بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی کا گلہ دراصل یہ ہے کہ ان کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا اور انکی سہیلی فرح گوگی کے کرپشن کیسز کے حوالے سے ہر گزرتے دن کے ساتھ جوں جوں قانون کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے، کم از کم اینکرز تو اس پر اپنا منہ بند رکھیں۔۔اور دروغ بر گردن راوی، کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ نکاح کے لئے عدت کا انتظار نہ کرنے والے یہ ”لَو برڈز“ آج کل کافی دوری پر ہیں یعنی انکے بیڈ روم بھی اب علیحدہ ہو چکے ہیں۔ خیر اینکرز کے ساتھ بشریٰ بی بی کی یہ نفرت بہت پرانی ہے۔ جب اپنے منصوبے کے عین مطابق انھوں نے خان صاحب کو مکمل طور پر اپنے سحر میں جکڑ لیا تو طے پایا کہ شادی میں تاخیر سے مسائل ہو سکتے ہیں چنانچہ بقول نکاح خواں مفتی سعید، انھوں نے عدت میں ہی نکاح کر لیا۔ اب یہ کیس چونکہ عدالت میں ہے تو سچ جھوٹ کا فیصلہ تو ہو ہی جائے گا اگرچہ کہانی میں تھوڑا ”ٹوئسٹ“ بھی ہے۔ ایک طرف بشریٰ بی بی کہتی ہیں کہ انھوں نے اپنی عدت مکمل ہونے کے سات ماہ بعد نکاح کیا تھا جبکہ ان کی چہیتی دوست فرح گوگی کے مطابق ان کی عدت 14 فروری 2018 میں ختم ہو گئی تھی اور ان کا نکاح 18 فروری 2018 کو ہوا ہے۔
جبکہ بشریٰ بی بی نے عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد غالباً ستمبر 2018 میں ٹی وی اینکر ندیم ملک کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے اسی متنازعہ خبر پر یہ گلہ کیا تھا کہ اینکرز کی زبان بہت چلتی ہے، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے الفاظ کتنے لوگوں کا دل دکھاتے ہیں اور یہ زبان ہی ہے جو اگر عرش معلیٰ تک لے جاتی ہے تو خاک میں بھی ملاتی ہے۔
دراصل اس وقت یہ خبر بہت ”وائرل“ ہوئی تھی کہ بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح کیا ہے جو غیر شرعی ہے۔ بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ ”میرے پہلے شوہر بہت دیندار تھے، انھوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم عدت اپنے گھر میں پوری کریں گے تو میں عدت پوری کر کے گھر سے نکلی تھی اور میں نے شاید اس کے سات ماہ بعد شادی کی، میں چاہتی تو پہلے بھی کر سکتی تھی۔“ یعنی یہ ”کنفیوژن“ پھیلانے والی بھی وہ خود ہی تھیں؟ جب تاریخوں میں گڑبڑ نکلی اور نکاح خواں بھی بول پڑے تو رائی کا پہاڑ تو بننا ہی تھا۔ بشریٰ بی بی کے کیس میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا، انھوں نے ایک نہیں کئی انہونی اور چونکا دینے والی خبریں بریک کیں۔۔
اب اگر لاکھوں عورتوں کا دل چرانے والے کرکٹ اور سیاست کے کامیاب کھلاڑی پر کسی اللٰہ والی خاتون یا پیرنی کا دل بھی آ جائے اور جو اپنے شوہر اور پانچ بچوں کو چھوڑ کر نئی شادی رچا لے تو کیا یہ خبر نہیں؟ اگر کسی ملک کی خاتونِ اول جن کا سیاست اور ریاست سے کوئی لینا دینا نہیں، اپنے حکمران شوہر کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگیں اور ملک کے سیاہ و سفید کی مالک بن بیٹھیں، کیا یہ خبر نہیں؟ ملک کے سب سے بڑے صوبے پر ایک ڈمی شخص کو اقتدار سونپ دیں تاکہ بڑے بڑے عہدوں اور مالیاتی منصوبوں کی ”منڈی“ لگائی جا سکے، کیا یہ خبر نہیں؟ سیٹھوں اور ساہوکاروں سے قیمتی تحائف وصول کریں حتیٰ کے غیر ممالک سے ملنے والے بیش قیمت تحائف کو کوڑیوں کے مول بیچ دیں، کیا یہ خبر نہیں؟ خود پسِ پردہ رہیں اور ”فرح گوگی“ کے ذریعے کرپشن کا بازار گرم کریں، کیا یہ خبر نہیں؟ اور تو اور جو اسی فرح گوگی کو وعدہ معاف گواہ بنانے کے لئے تیار کر رہی ہوں تاکہ سب کچھ نہ جاتا رہے، کیا یہ خبر نہیں؟ اور ہوس کا یہ عالم کہ اپنے انتہائی دیندار شوہر کو چھوڑ کر وزیراعظم کی گدی پر بیٹھنے والے شخص سے شادی کے لئے عدت ختم ہونے کا بھی انتظار نہ کریں، کیا یہ خبر نہیں۔۔ بات صرف اتنی ہے کہ بہت سے سیاستدانوں، پالیسی سازوں، قانون کے رکھوالوں، سرحدی محافظوں اور دفتری بابوؤں کی طرح بشریٰ بی بی کو بھی یہی لگتا ہے کہ اینکرز کی زبان بہت چلتی ہے ورنہ وہ تو سب
ملکی جمہوری اور آئینی مستقبل راجہ ریاض کے ہاتھ میں؟
دودھ کے دھلے ہیں!!
