رواں برس گاڑیاں کتنی مہنگی ہونے والی ہیں؟

حکومت کی جانب سے بجٹ کے دوران گاڑیوں پر ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی حد (کیپ) کو ختم کرنے کی تجویز پر گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے، اراکین کی بحث کے بعد نیا فنانشل بل یکم جولائی 2023 سے نافذ العمل ہوگا۔
آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرنے کیلئے ترمیم تجویز کی گئی کہ 2005 میں جاری کیے جانے والے ایس آر او پر نظرثانی کے بعد درآمد کی جانے والی گاڑیوں کی ڈیوٹیز اور ٹیکسز ان کی قیمتوں کی مناسبت سے طے کیے جائیں۔
بجٹ تقریر میں لکھا گیا ہے کہ پرانی اور استعمال شدہ 1800 سی سی تک کی ’ایشین میک‘ گاڑیوں کی درآمد پر 2005 میں ڈیوٹیز اور ٹیکسز کو کیپ کردیا گیا تھا، اب 1300 سی سی سے اوپر کی گاڑیوں کی ڈیوٹی اور ٹیکسز کیپنگ ختم کی جا رہی ہے۔
بجٹ تجویز کے مطابق 800 سے 1300 سی سی تک کی درآمد شدہ گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکسز پرانے ایس آر او کے مطابق ہی وصول کیے جائیں گے لیکن 1300 سے زیادہ سی سی کی گاڑیوں پر یہی ڈیوٹی اور ٹیکسز ان کی بازاری قیمت کے حساب سے وصول کیے جائیں گے۔
800 سی سی تک کی گاڑیوں پر 4800 امریکی ڈالر( آج کل تقریبا 13 لاکھ 68 ہزار روپے) کی ڈیوٹی اور ٹیکس عائد تھے، 801 سی سی سے لے کر 1300 سی سی تک کی گاڑیوں پر چھ ہزار امریکی ڈالر(تقریباً 17 لاکھ روپے) کی ڈیوٹی اور ٹیکس عائد تھے۔
1301 سی سی سے لے کر 1500 سی سی تک کی درآمد شدہ گاڑیوں پر 13 ہزار 200 ڈالر(تقریبا 34 لاکھ روپے) کی ڈیوٹی اور ٹیکس عائد تھے، 1501 سی سی سے لے کر 1600 سی سی تک گاڑیوں پر 18 ہزار 590 ڈالر(تقریبا 53 لاکھ روپے) کی ڈیوٹی اور ٹیکس عائد تھے۔
1601 سی سی سے لے کر 1800 سی سی تک کی گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکس 22 ہزار 550 ڈالر(تقریبا 64 لاکھ روپے) عائد تھے، 1800 سی سی سے اوپر کی گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکس 27 ہزار 940 ڈالر(تقریبا 80 لاکھ روپے) تھے۔اب نئے مالی سال کے بجٹ میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ 1300 سی سی سے اوپر کی درآمد شدہ گاڑیوں پر فکس ٹیکس اور ڈیوٹی ختم کر دی۔
قبل ازیں گاڑیوں کی قیمت کا ان پر موجود ٹیکس اور ڈیوٹی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ مثلاً ٹویوٹا کی 1499 سی سی ایکوا، ہونڈا کی ویزل اور کسی بھی دوسری کمپنی کی 1499 سی سی کی گاڑی پر ایک جیسا ٹیکس عائد تھا۔
یعنی جاپان سے 1500 سی سی کی ایکوا گاڑی 20 لاکھ روپے میں منگائی جاتی تو اس پر 2005 کے قانون کے مطابق ڈیوٹی اور ٹیکس تقریباً 34 لاکھ روپے بنتے تھے اسی طرح ہونڈا کی 1500 سی سی گاڑی 30 لاکھ میں منگائی جاتی تو اس کی ڈیوٹی بھی 2005 کے قانون کے مطابق 34 لاکھ روپےعائد تھی، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔
اب 1300 سی سی سے 1800 سی سی تک کی گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکسز کا تعین قیمتوں کے لحاظ سے ہوگا لیکن پہلے ایسا نہیں تھا، بہرحال ابھی یہ ایک بجٹ تجویز ہے یہ ترمیم صرف درآمد شدہ گاڑیوں کے حوالے سے ہے، مقامی سطح پر بننے والی گاڑیوں کے حوالے سے ٹیکسز میں ابھی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکس کا تعین اب گاڑی کی قیمت کے حساب سے ہوگا لیکن یہ کس فارمولے کے تحت ہو گا، اس حوالے سے سنیل سرفراز منج نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گاڑی جس سال میں بنی ہے، گاڑیوں کی ویب سائٹ پر موجود اسی قیمت کے حساب سے اس پر ڈیوٹی کا تعین کیا جائے گا جب کہ سالانہ ڈیپریسی ایشن منہا کر لی جائے گی۔
مثلاً ’ایک گاڑی کی قیمت 10 ہزار ڈالر ہے اور وہ تین سال پرانی ہے تو پاکستانی قوانین کے مطابق ہر ماہ گزرنے پر اس کی قیمت ایک فیصد کم ہو جائے گی، یعنی تین سال پرانی گاڑی پر 36 فیصد قیمت کی رعایت لاگو ہو گی اور یہ رعایت منہا کرنے کے بعد ڈیوٹی اور ٹیکس عائد ہوں گے، یعنی 10 ہزار ڈالر کی گاڑی میں سے 3600 ڈالر منہا کرنے کے بعد بقایا 6400 ڈالر پر ڈیوٹی عائد کی جائے گی، یہ ڈیوٹی کم سے کم 150 فیصد اور زیادہ سے
پاکستان مخالف TTP اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ کا انکشاف
زیادہ 550 فیصد تک ہے۔
