کیا پاکستان سعودیہ پر حوثی حملوں کو رکوا سکتا ہے؟

سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان جاری کشیدگی اور سعودی سرزمین کو لاحق سکیورٹی خطرات نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کے پیچیدہ علاقائی تنازعات کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ خاص طور پر مقدس مقامات کے تحفظ سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کے بعد اسلامی دنیا میں تشویش پائی جاتی ہے اور ایسے حالات میں پاکستان کیلئے ایک مشکل سفارتی توازن برقرار رکھنا اہم ہو گیا ہے۔ ایک طرف پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنی دیرینہ وابستگی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے واضح مؤقف رکھتا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ بھی اس کے سفارتی اور علاقائی روابط موجود ہیں۔ یہی دو طرفہ روابط پاکستان کو ممکنہ طور پر ایک سفارتی رابطہ کار کا کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی انتہائی حساس معاملہ ہے اور مقدس مقامات کو علاقائی تنازعات یا عسکری کشیدگی کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی پاکستان کیلئے یہ بھی اہم ہے کہ یمن کا تنازع مزید وسیع علاقائی محاذ آرائی میں تبدیل نہ ہو۔ اسی لیے اگر متعلقہ فریق آمادہ ہوں تو براہ راست کسی ایک فریق کی نمائندگی کرنے کے بجائے پاکستان سفارتی رابطوں اور بات چیت کیلئے سہولت کاری کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
پاکستان کی پوزیشن اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس کے سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ بھی تاریخی، جغرافیائی اور سفارتی روابط برقرار ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان ماضی میں بھی علاقائی کشیدگی کم کرنے اور مختلف فریقوں کے درمیان رابطے بڑھانے کیلئے سفارتی کوششوں کا حصہ رہا ہے۔ تاہم سعودی عرب، ایران اور حوثیوں کے درمیان موجودہ اختلافات کی نوعیت انتہائی پیچیدہ ہے، اس لیے کسی بھی ممکنہ سفارتی کوشش کی کامیابی کا انحصار متعلقہ فریقوں کی رضامندی اور اعتماد سازی پر ہوگا۔
بعض ماہرین کے مطابق پاکستان کیلئے براہ راست ثالثی کے بجائے مشترکہ سفارتی سہولت کاری کا ماڈل زیادہ قابل عمل ہو سکتا ہے۔ اس تصور کے تحت پاکستان سعودی عرب اور ایران کے ساتھ اپنے روابط استعمال کرے، جبکہ عمان حوثیوں کے ساتھ اپنے موجودہ رابطوں کو بروئے کار لائے اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت دیگر مسلم ممالک کی سفارتی حمایت بھی حاصل کی جائے۔ اس طرح کسی ایک ملک پر مکمل ثالثی کی ذمہ داری ڈالنے کے بجائے مختلف ممالک اپنے اپنے رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
اس ممکنہ سفارتی عمل میں ایک بنیادی نکتہ مقدس مقامات کی سلامتی کو یمن اور سعودی عرب کے سیاسی و عسکری تنازعات سے الگ رکھنا بھی ہو سکتا ہے۔ حرمین شریفین کا معاملہ کسی ایک حکومت، سیاسی جماعت یا مخصوص گروہ تک محدود نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کیلئے غیر معمولی حساسیت رکھتا ہے۔ اس لیے مقدس مقامات کے تحفظ پر اتفاق رائے پیدا کرنا اور اسے علاقائی سیاسی اختلافات سے الگ رکھنے کی کوشش کسی بھی ممکنہ سفارتی عمل کا اہم حصہ بن سکتی ہے۔
پاکستان کیلئے چیلنج یہ بھی ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ اپنی سکیورٹی اور دفاعی وابستگی کو برقرار رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کا راستہ بھی کھلا رکھے۔ موجودہ علاقائی حالات میں اگر یمن کی کشیدگی سعودی عرب، ایران اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان وسیع تر تنازع میں تبدیل ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خلیج، بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کی سلامتی اور عالمی تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
اسی پس منظر میں پاکستان کی ممکنہ سفارتی سرگرمی محض بیانات اور مذمت تک محدود رہنے کے بجائے رابطہ کاری اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ تاہم کسی بھی عملی پیش رفت کیلئے سعودی عرب، ایران اور حوثیوں سمیت متعلقہ فریقوں کی رضامندی بنیادی شرط ہوگی۔ پاکستان کے پاس مختلف فریقوں سے رابطوں کا ایک سفارتی ڈھانچہ ضرور موجود ہے، لیکن اسے ثالث یا ضامن کا کردار حاصل ہونے کا فیصلہ صرف پاکستان نہیں کر سکتا۔
موجودہ صورتحال میں پاکستان کیلئے سب سے اہم پہلو یہ ہوگا کہ وہ حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے اپنے واضح مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے علاقائی تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے سفارتی راستے بھی کھلے رکھے۔ اگر مختلف فریق بات چیت پر آمادہ ہوتے ہیں تو پاکستان، عمان اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ سفارتی سہولت کاری کے ذریعے رابطوں کا ایک ایسا راستہ پیدا کر سکتا ہے جس کا مقصد فوری طور پر کسی حتمی سیاسی معاہدے کے بجائے کشیدگی کم کرنا، مقدس مقامات کو تنازع سے دور رکھنا اور وسیع تر علاقائی محاذ آرائی کے امکانات کو محدود کرنا ہو۔
